Advertisement
زمیں سے آسمان چاہتے ہیں
ہم پرندے اُڑان چاہتے ہیں 

رتبہ شہرت نہ شان چاہتے ہیں
ہم فقط اک مکان چاہتے ہیں 

چھلنی کر دے جگر کو جو یک دم
ایسا تیر و کمان چاہتے ہیں 

ہم زمیں مانگتے تھے پر نئی پود
آسمان کی آڑان چاہتے ہیں 

کیا عجب ہے کہ آج کے بچّے
ماں کی عزّت نہ مان چاہتے ہیں
Advertisement

Advertisement

Advertisement

Advertisement
Advertisement