Advertisement
فقط معلوم ہے اتنا
کہ تیرے بن میں جی لوں گا
مجھے چاہت نہیں تیری
مجھے حاجت نہیں تیری
میں وہ خوشبو نہیں جاناں
جسے تم قید کر ڈالو
میں وہ دریا نہیں جاناں
جسے تم پار کر ڈالو

میں شعلہ ہوں جسے تم نے
نہ دیکھا ہے نہ جانا ہے
تجھے لگتا ہے یہ شاید
کہ میں پھر لوٹ آؤنگا
تجھے لگتا ہے یہ شاید
کہ پھر تجھ کو مناؤں گا

مگر اے دل نشیں سن لے
حقیقت آشنا ہوں میں
مجھے معلوم ہے سب کچھ
تری خوشبو جو آتی ہے
کسے سیراب کرتی ہے
نمی تیرے لبوں کی اب
کسے پرآب کرتی ہے

بہت افسوس ہوتا ہے
کہ میں نے کیا نہیں کھویا
تری جھوٹی محبت میں
ترے جھوٹے فسانوں میں

مگر ان مرحلوں سے جب
میں گزرا ہوں تو جانا ہے
کہ میری ذات بھی اپنی
الگ پہچان رکھتی ہے
یہ اپنی انکساری میں
انا کی شان رکھتی ہے
یہی ہے زیست کا حاصل
جو میں نے کھو کے پایا ہے

تو ہاں اے دل نشیں سن لے
میں خود میں کھو کے جی لوں گا
میں تجھ سے بھی زیادہ آپ اپنا ہو کے جی لوں گا
مگر کیا سچ میں جی لوں گا!!
وقار احمد
Advertisement
Advertisement

Advertisement

Advertisement