Advertisement
  • کتاب” اردو گلدستہ “برائے چھٹی جماعت
  • سبق نمبر09: یونان کی لوک کہانی
  • سبق کا نام: تین کچھوے

خلاصہ سبق: تین کچھوے

تین کچھوے یونانی لوک کہانی ہے۔ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ تین کچھوے سمندر میں رہتے تھے۔وہ کچھوے پانی میں رہتے رہتے تھک چکے تھے اس لیے وہ پہاڑوں کی سیر کرنا چاہتے تھے۔ جہاں دیوتا رہتے اور شانتی کا سناٹا ہوتا تھا۔ یہاں سمندری طوفان بالکل نہیں آتا تھا۔ انھوں نے کماپنے ساتھ سفر کا سامان لیا اور نکل کھڑے ہوئے۔

Advertisement

ان کا سفر بہت لمبا تھا۔لیکن اپنی مستقل مزاجی سے جیسے انھوں نے خرگوش کو ہرایا تھا ویسے ہی وہ اس سفر میں بھی جتے رہے۔ آخر کچھوے ہر تکلیف کا مقابلہ کرتے بیس سالوں میں پہاڑوں تک پہنچے۔ ان پہاڑوں کی چوٹی برف سے ڈھکی تھی۔ اپنی منزل دیکھ کر ان کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ رہا۔انھوں نے اپنے رہنے کی جگہ منتخب کی۔

Advertisement

پہاڑوں پہ برفیلی ہوائیں چل رہی تھیں۔ لیکن انھیں اس کی پرواہ کہاں کیونکہ کچھوے اپنا منھ اپنی موٹی فولاد جیسی کھال میں چھپا لیتے ہیں۔یوں انھیں پتا بھی نہیں چلتا کہ ہوا کتنی ٹھنڈی ہے۔ انھیں یہ جگہ بہت پسند ائی۔ انھوں نے کھانا کھانے کا سوچا۔ سلیقثس پتے لگا کر کھانا سجایا مگر یہاں پانی موجود نہ پایا۔ وہ سمندر کے پانی کے عادی تھے۔ انھیں فکر ہوئی۔

بڑے کچھوے نے منجھلے کو پانی لانے کا بولا مگر منجھلے کچھوے نے کہا کہ میری رائے ہے کہ چھوٹے کچھوے کو پانی لینے جانا چاہیے وہ خاصا چست معلوم ہوتا ہے جبکہ میں بہت تھک چکا ہوں۔چھوٹا کچھوا پانی لینے جانے سے انکاری تھا۔ اسے یہ خدشہ تھا کہ اس کی غیر موجودگی میں بڑے دونوں کچھوے کھانا کھا لیں گے اور جب وہ واپس لوٹے گا تو اس وقت اسے جھوٹا کھانا ملے گا۔

Advertisement

اسے یہ یقین تھا کہ بڑے دونوں کچھوے ہر گز اس کا انتظار نہیں کریں گے۔بڑے کچھوؤں کو چھوٹے کچھوؤں کے انتظار میں کئی مہینے گزر گئے، پھر سال گزرے ، پھر دس سال ، بیس سال، یہاں تک کہ سو سال گزر گئے مگر چھوٹا کچھوا نہ آیا۔آخر انھوں نے سوچا کہ ضرور کوئی حادثہ پیش آ گیا ہو گا۔ جیسے ہی انھوں نے کھانا شروع کیا ان کچھوؤں کے کھانا شروع کرتے ہی چھوٹا کچھوا چٹان کے پیچھے سے باہر نکل آیا اور کہنے لگا کہ میں جانتا تھا کہ تم دونوں ہر گز میرا انتظار نہ کرو گے اسی لیے میں گیا نہیں اور یہیں بیٹھا دیکھ رہا تھا۔ وہ دونوں حیران رہ گئے کہ آخر کہتے بھی تو کیا۔

سوچیے اور بتایئے:

کچھوے پہاڑوں کی سیر کیوں کرنا چاہتے تھے؟

کچھوے پانی میں رہتے رہتے تھک چکے تھے اس لیے وہ پہاڑوں کی سیر کرنا چاہتے تھے۔ جہاں دیوتا رہتے اور شانتی کا سناٹا ہوتا تھا۔ یہاں سمندری طوفان بالکل نہیں آتا تھا۔

Advertisement

وہ پہاڑوں تک کس طرح اور کتنے سالوں میں پہنچے؟

کچھوے ہر تکلیف کا مقابلہ کرتے بیس سالوں میں پہاڑوں تک پہنچے۔

کچھوے ٹھنڈک کا مقابلہ کس طرح کرتے تھے؟

کچھوے اپنا منھ اپنی موٹی فولاد جیسی کھال میں چھپا لیتے ہیں۔یوں انھیں پتا بھی نہیں چلتا کہ ہوا کتنی ٹھنڈی ہے۔

Advertisement

سمندر سے پانی لانے کے لیے منجھلے کچھوے نے کیاراۓ دی؟

منجھلے کچھوے نے کہا کہ میری رائے ہے کہ چھوٹے کچھوے کو پانی لینے جانا چاہیے وہ خاصا چست معلوم ہوتا ہے جبکہ میں بہت تھک چکا ہوں۔

چھوٹا کچھوا پانی لینے کیوں نہیں جانا چاہتا تھا؟

چھوٹا کچھوا پانی لینے جانے سے انکاری تھا۔ اسے یہ خدشہ تھا کہ اس کی غیر موجودگی میں بڑے دونوں کچھوے کھانا کھا لیں گے اور جب وہ واپس لوٹے گا تو اس وقت اسے جھوٹا کھانا ملے گا۔ اسے یہ یقین تھا کہ بڑے دونوں کچھوے ہر گز اس کا انتظار نہیں کریں گے۔

Advertisement

بڑے بچھوؤں نے کتنے سال تک چھوٹے کچھوے کا انتظار کیا؟

بڑے کچھوؤں کو چھوٹے کچھوؤں کے انتظار میں کئی مہینے گزر گئے، پھر سال گزرے ، پھر دس سال ، بیس سال، یہاں تک کہ سو سال گزر گئے مگر چھوٹا کچھوا نہ آیا۔

کچھوؤں کے کھانا شروع کرتے ہی کیا ہوا؟

کچھوؤں کے کھانا شروع کرتے ہی چھوٹا کچھوا چٹان کے پیچھے سے باہر نکل آیا اور کہنے لگا کہ میں جانتا تھا کہ تم دونوں ہر گز میرا انتظار نہ کرو گے اسی لیے میں گیا نہیں اور یہیں بیٹھا دیکھ رہا تھا۔

Advertisement