سبق: نادان کچھوا خلاصہ، سوالات و جوابات

0
  • کتاب” ابتدائی اردو” برائے پانچویں جماعت
  • سبق نمبر02: کہانی
  • سبق کا نام: نادان کچھوا

خلاصہ سبق: نادان کچھوا

اس سبق میں ایک کچھوے اور دو بگلوں کی کہانی بیان کی گئی ہے۔یہ تینوں ایک ہی تالاب میں رہتے تھے اور ان کی آپس میں گہری دوستی تھی۔ بگلے جس تالاب میں رہتے تھے اس سے وہ اپنی غذا حاصل کرتے تھے۔لیکن تالاب کا پانی روز بروز خشک ہونے لگا تھا۔جبکہ پانی کے بغیر ان کا جینا محال تھا جس کی وجہ سے اب بگلوں نے اپنا ٹھکانا چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔

جانے سے پہلے وہ بہت غمگین تھے اور نم آنکھوں سے کچھوے کے پاس آئے۔ کچھوا بگلوں کی جدائی کے خیال سے رو پڑا۔بولا یہ تم کیسی خبر سنا رہے ہو؟ میں تمھارے بغیر کیسے جی سکوں گا؟ تمھاری جدائی مجھ سے برداشت نہ ہوگی اور میں جیتے جی مرجاؤں گا۔ تم جانتے ہو کہ پانی کی کمی مجھے تم سے زیادہ نقصان پہنچا سکتی ہے اور میری بھی گزر بسر پانی کے بنا نا ممکن ہے۔

دوستی کا تقاضا یہ ہے کہ مجھے بھی ساتھ لے چلو۔وہ اسے ساتھ لے جانے کی تدبیر سوچنے لگے۔بگلوں نے یہ تدبیر سوچی کہ وہ اس کچھوے کو اپنے ساتھ اڑا کر لے جائیں گے۔ کچھوا منھ میں ایک لکڑی دبا لے گا اور وہ دونوں کونوں سے اس لکڑی کو منھ میں دبا کر اڑیں گے۔ ساتھ ہی انھوں نے کچھوے کو نصیحت کی کہ راستے میں دیکھ کر لوگ ہمیں ضرور باتیں بنائیں گے لیکن تمھیں اپنا منھ نہیں کھولنا ہے۔

کچھوے نے کہا کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ تم میرے لیے کوئی ترکیب سوچو اور میں اس پر عمل نہ کروں۔ یوں انھوں نے ایک لکڑی پکڑی جسے کچھوے نے اسے درمیان میں مضبوطی سے اپنے دانتوں میں پکڑ لیا۔ ان کا گزر ایک گاؤں سے ہوا تو لوگ اس حیرت انگیز چیز کو دیکھ کر باتیں کرنے لگے۔ پہلے تو کچھوا خاموش رہا۔ لیکن اس سے رہا نہ گیا۔جیسے ہی لوگوں کی باتوں کا جواب دینے کے لیے منھ کھولا تو وہ زمین پہ آ گرا۔کچھوؤں کو گرتے دیکھ کر بگلے کہنے لگے کہ دوستوں کا کام ہوتا ہے نصحیت کرنا اور نیک بختوں کا کام اس پہ عمل کرنا۔

سوچیے بتائیے اور لکھیے:

بگلوں کو اپنا ٹھکانا کیوں چھوڑ نا پڑا؟

بگلے جس تالاب میں رہتے تھے اس سے وہ اپنی غذا حاصل کرتے تھے۔لیکن تالاب کا پانی روز بروز خشک ہونے لگا تھا۔جبکہ پانی کے بغیر ان کا جینا محال تھا جس کی وجہ سے اب بگلوں کو اپنا ٹھکانا چھوڑنا پڑا۔

بگلوں کے رخصت ہونے کی بات سن کر کچھوے نے کیا کہا؟

کچھوا بگلوں کی جدائی کے خیال سے رو پڑا۔بولا یہ تم کیسی خبر سنا رہے ہو؟ میں تمھارے بغیر کیسے جی سکوں گا؟ تمھاری جدائی مجھ سے برداشت نہ ہوگی اور میں جیتے جی مرجاؤں گا۔ تم جانتے ہو کہ پانی کی کمی مجھے تم سے زیادہ نقصان پہنچا سکتی ہے اور میری بھی گزر بسر پانی کے بنا نا ممکن ہے۔ دوستی کا تقاضا یہ ہے کہ مجھے بھی ساتھ لے چلو۔

بگلوں نے کچھوے کو ساتھ لے جانے کی کیا تد بیرسوچی؟

بگلوں نے یہ تدبیر سوچی کہ وہ اس کچھوے کو اپنے ساتھ اڑا کر لے جائیں گے۔ کچھوا منھ میں ایک لکڑی دبا لے گا اور وہ دونوں کونوں سے اس لکڑی کو منھ میں دبا کر اڑیں گے۔ ساتھ ہی انھوں نے کچھوے کو نصیحت کی کہ راستے میں دیکھ کر لوگ ہمیں ضرور باتیں بنائیں گے لیکن تمھیں اپنا منھ نہیں کھولنا ہے۔

کچھوے کو کیوں نقصان اٹھانا پڑا؟

کچھوے نے دوستوں کی نصیحت پر عمل نہ کیا اور جیسے ہی لوگوں کی باتوں کا جواب دینے کے لیے منھ کھولا تو وہ زمین پہ آ گرا اور اسے نقصان اٹھانا پڑا۔

کچھوے کو گرتے دیکھ کر بگلوں نے کیا کہا؟

کچھوؤں کو گرتے دیکھ کر بگلے کہنے لگے کہ دوستوں کا کام ہوتا ہے نصحیت کرنا اور نیک بختوں کا کام اس پہ عمل کرنا۔

خالی جگہوں کو صحیح لفظوں سے پر کیجیے:

  • اچانک ان کی دوستی کو زمانے کی نظر لگ گئی۔
  • کچھوا بھی ان کی جدائی کے خیال سے رو پڑا۔
  • میری بھی گزر بسر پانی کے بغیر ناممکن ہے۔
  • یہ کیسے ممکن ہے کہ تم میرے لیے کوئیترکیب سوچو اور میں اس پر عمل نہ کروں۔
  • کچھوے نے اسے درمیان میں مضبوطی سے اپنے دانتوں میں پکڑ لیا۔
  • جیسے ہی اس نے منہ کھولا اوپر سے نیچے کی طرف آ رہا۔

ان لفظوں سے جملے بنائیے۔

تالاب تالاب میں مچھلیاں تیر رہی تھیں۔
غذا گوشت ایک متوازن غذا ہے۔
جدائی کچھوا اپنے دوستوں سے جدائی پر اداس ہو گیا۔
محال کچھوا نے کہا کہ میرا بھی بغیر پانی کے جینا محال ہے۔
دوستی کچھوے اور بگلوں میں بہت دوستی تھی۔

ان جملوں پر غور کیجئے۔

اچانک ان کی دوستی کو زمانے کی نظر لگ گئی ۔ میں تو جیتے جی مر جاؤں گا ۔
ہمارا دل بھی تمھاری جدائی کے خیال سے بیٹھا جارہا ہے۔
اوپر کے جملوں میں محاوروں کا استعمال ہوا ہے ۔ محاوروں کو جب جملوں میں استعمال کیا جا تا ہے تو اس میں شامل فعل کو زمانے جینس اور واحد ، جمع کے مطابق بدلا جاسکتا ہے۔محاورہ عام بول چال میں چند ایسے الفاظ کا مجموعہ ہوتا ہے جس میں الفاظ اپنے اصل معنی کے بجاۓ دوسرے معنی میں استعمال ہوتے ہیں۔

نیچے دیے ہوئے محاوروں کا صحیح مطلب ، سامنے بنے ہوئے خانوں سے چن کر لکھیے :

حکم سر آنکھوں پر ہونا: خوشی خوشی مان لینا۔
فقرے چست کرنا: مذاق اڑانا۔
نظر لگنا: بری نظر کا اثر ہونا۔

نیچے دیے ہوئے لفظوں کے متضا دلکھیے:

محال بے محال
جواب سوال
غمگین خوش
نیک بخت بد بخت
خشک تر
بھلائی برائی
دوست دشمن
موت زندگی

ان جملوں کو درست کر کے خالی جگہ میں لکھیے :

پانی آئینے کی طرح تھا صاف اور شفاف ایک تالاب کا ایک تالاب کا پانی آئینے کی طرح صاف و شفاف تھا۔
تمھیں کرتے یادر ہیں گے ہر وقت تمھیں ہر وقت یاد کرتے رہیں گے۔
تم کرو گے جو وعدہ نہ رہ سکو گے قائم اس پر تم جو وعدہ کرو گے اس پہ قائم نہ رہ سکو گے۔
کام دوستوں کا کرنا نصیحت ہے دوستوں کا کام نصحیت کرنا ہے۔

نیچے دیے ہوئے خانوں میں واحد کی جمع اور جمع کا واحد لکھیے :

واحد جمع
منظر خیالات
خیال خیالات
نقصان نقصانات
مشکل مشکلات
وقت اوقات
عمل اعمال
شرط شرائط
حکم احکام

نیچے دی ہوئی تصویروں پر دو دو جملے لکھیے :

تالاب: تالاب کا پانی صاف شفاف تھا۔
اس میں مچھلیاں تیر رہی تھیں۔
چھڑی: بگلوں نے چھڑی کو چونچ میں دبا لیا۔
کچھوے نے چھڑی کو مضبوطی سے پکڑ لیا۔
کچھوا: کچھوا خشکی اور پانی دونوں میں رہ سکتا ہے۔
کچھوا بہت سست رفتاری سے تیرتا ہے۔
بگلے: بگلے پانی میں رہنا پسند کرتے ہیں۔
بگلے لمبی گردن والے خوبصورت پرندے ہیں۔
آنکھ: آنکھ انسانی جسم کا اہم حصہ ہے۔
آنکھ کی مدد سے ہم دیکھتے ہیں۔

بلند آواز سے پڑھیے اور خوش خط لکھیے :

محال ، رخصت ، تدبیر ، مضبوطی ، نصیحت۔