غزل

سب سے چھپتے ہیں چھپیں مجھ سے تو پردا نہ کریں
سیر گلشن وہ کریں شوق سے، تنہا نہ کریں
اب تو آتا ہے یہی جی میں، کہ اے محو جفا
کچھ بھی ہو جائے مگر تیری تمنا نہ کریں
میں ہوں مجبور تو مجبور کی پرسش ہے ضرور
وہ مسیحا ہیں تو بیمار کو اچھا نہ کریں
درد دل اور نہ بڑھ جائے تسلی سے کہیں
آپ اس کام کا زنہار ارادہ نہ کریں
شکوۂ جور، تقاضائے کرم،عرض وفا
تم جو مل جاو کہیں ہم کو، تو کیا کیا نہ کریں
حال کھل جائے گا بے تابیِ دل کا حسرتؔ
بار بار آپ انہیں شوق سے دیکھا نہ کریں

تشریح

سب سے چھپتے ہیں چھپیں مجھ سے تو پردا نہ کریں
سیر گلشن وہ کریں شوق سے، تنہا نہ کریں

غزل کے مطلع میں شاعر کہتا ہے کہ محبوب سب سے پردہ کرتا ہے، سب سے چھپتا ہے اوریہ ٹھیک بھی ہے یعنی چھپنا بھی چاہیے۔ لیکن عاشق سے کیسا پردہ۔ ہم سے پردہ کرنا واجب نہیں ہے۔ لہٰذا اگر وہ گلشن کی سیر کا شوق رکھتے ہیں تو ضرور جائیں لیکن یوں تنہا جانا مناسب نہیں ہے۔ ہمیں ساتھ رکھیں۔

اب تو آتا ہے یہی جی میں، کہ اے محو جفا
کچھ بھی ہو جائے مگر تیری تمنا نہ کریں

شاعر محبوب سے مخاطب ہے کہتا ہے کہ ہر وقت ظلم کرنے میں مصروف رہنے والے محبوب تمھارے ان مظالم سے میں اس قدر تنگ آگیا ہوں کہ اب جی میں یہی آ رہا ہے کہ چاہے جو بھی ہو جائے مگر دل میں تمہاری محبت یا تمھیں پانے کی خواہش نہ آنے دوں۔

میں ہوں مجبور تو مجبور کی پرسش ہے ضرور
وہ مسیحا ہیں تو بیمار کو اچھا نہ کریں

شاعر کہتا ہے کہ میں مجبور ہوں کہ ناتوانی کے سبب سے کہیں آ جا نہیں سکتا ہوں تو کیا معشوق کے لیے مجبور کی خبر گیری،پرسش ضروری نہیں ہے؟اور اگر وہ مسیحا ہے،معجزے کرسکتا ہے یعنی مردوں کو زندہ کر سکتا ہے تو پھر اسے اس بیمار کو اچھا نہیں کرنا چاہیے؟

درد دل اور نہ بڑھ جائے تسلی سے کہیں
آپ اس کام کا زنہار ارادہ نہ کریں

شاعر اس شعر میں محبوب سے مخاطب ہے جو درد کے مارے غمزدہ عاشق کو تسلیاں دینے کی سوچ رہا ہے۔شاعر کہتا ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ کی اس تسلی سے عاشق کے دل کو درد اور بڑھ جائے۔اگر ایسا ہوا تو مشکل ہو جائے گی۔لہذا آپ ہرگز اسے تسلی دینے کا ارادہ نہ کریں۔

شکوۂ جور، تقاضائے کرم،عرض وفا
تم جو مل جاو کہیں ہم کو، تو کیا کیا نہ کریں

شاعر کہتا ہے کہ خدا کرے تم کہیں ہمیں مل جاؤ کہ ہم نے خود تم سے نہ جانے کیا کیا باتیں کرنی ہیں۔تم نے جو ستم ہم پر روا رکھے ہیں ان کی تم سے شکایت کرنی ہے۔تم سے مہربانی کا تقاضا کرنا ہے اور یہ عرض کرنا ہے کہ ہم سے وفا کرو گویا کہیں ملاقات ہو تو یہ ساری باتیں ہوں۔

حال کھل جائے گا بے تابیِ دل کا حسرتؔ
بار بار آپ انہیں شوق سے دیکھا نہ کریں

غزل کے مقطع میں شاعر کہتا ہے کہ حسرتؔ تو جو محبت میں ہر وقت بے قرار رہتا ہے اور بار بار محبت بھری نگاہوں سے اسے دیکھتا رہتا ہے،کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہارے دل کی بے تابی کا راز اس پر کھل جائے۔لہذا یوں محبت بھری نگاہوں سے بار بار اسے دیکھنا ٹھیک نہیں ہے۔ گویا مت دیکھا کیجیے۔

Advertisements