غزل

سب کہاں؟کچھ لالہ و گُل میں نُمایاں ہوگئیں
خاک میں کیا صورتیں ہوں گی، کہ پہناں ہوگئیں
یاد تھیں ہم کو بھی ،رنگا رنگ بزم آرائیاں
لیکن اب نقش و نگار طاق نسیاں ہوگئیں
قید میں یعقوب نے لی گو نہ یوسف کی خبر
لیکن آنکھیں روزن دیوار زنداں ہو گئیں
سب رقیبوں سے ہوں ناخوش، پر زنانِ مصر سے
ہے زُلیخا خوش ،کہ محوِ ماہِ کنعاں ہو گئیں
نیند اس کی ہے دماغ اس کا ہے راتیں اس کی ہیں
تیری زلفیں جس کے بازو پر پریشاں ہو گئیں
میں چمن میں کیا گیا گویا دبستان کھل گیا
بُلبُلیں سن کر میرے نالے غزل خواں ہو گئیں
وہ نگاہیں کیوں ہوئی جاتی ہیں یارب دل کے پار
جو مری کوتاہیئ قسمت سے مژگاں ہو گئیں
جاں فزا ہے بادہ جس کے ہاتھ میں جام آ گیا
سب لکیریں ہاتھ کی، گویا رگ جاں ہوگئیں
ہم موحد ہیں، ہمارا کیش ہے ترک رسوم
ملتیں جب مٹ گئیں،اجزائے ایماں ہو گئیں
رنج سےخوگر ہوا انسان، تو مٹ جاتا ہے رنج
مُشکلیں مجھ پر پڑیں اتنی،کہ آساں ہوگئیں
یوں ہی گر روتا رہا غالب تو اے اہل جہاں!
دیکھنا ان بستیوں کو تم، کہ ویراں ہو گئیں

تشریح

پہلا شعر

سب کہاں؟کچھ لالہ و گُل میں نُمایاں ہوگئیں
خاک میں کیا صورتیں ہوں گی، کہ پہناں ہوگئیں

خیال یہ ہے کہ پھول حسینوں کی خاک سے پیدا ہوتے ہیں۔ گویا جیسا حسین ہوتا ہے ویسا ہی خوبصورت پھول ہوگا۔ اب شاعر لالہ و گل کو دیکھ کر افسوس کے لہجے میں کہتا ہے کہ خُدا جانے کتنے اور کیسے کیسے حسین خاک میں مل کر خاک ہوئے ہوں گے جن میں سے چند ایک یہ حسیناؤں کی صورتیں تو لالہ و گل کی شکل میں ظاہر ہو گئی ہیں، مگر باقی حسینوں کا کیسا پتہ ہے۔

دوسرا شعر

یاد تھیں ہم کو بھی ،رنگا رنگ بزم آرائیاں
لیکن اب نقش و نگار طاق نسیاں ہوگئیں

اربابِ شوق کی بزم آرائیوں کو دیکھ کر حسرت سے شاعر کہتا ہے کہ ایک زمانہ وہ تھا جب ہم بزم آرائیاں کیا کرتے تھے۔وہ وقت نہیں رہا،بزم آرائیاں ختم ہوگئیں لیکن ان کی یاد دل میں مدّتوں باقی رہی۔اب وہ زمانہ آیا ہے کہ ان بزم آرائیوں کی یاد بھی باقی نہیں رہی ہے۔ اب وہ بزم آرائیاں طاق نسیاں کی زینت بن گئی ہیں۔

تیسرا شعر

قید میں یعقوب نے لی گو نہ یوسف کی خبر
لیکن آنکھیں روزن دیوار زنداں ہو گئیں

یہ شعر غالب کے بہترین اشعار میں شامل ہوتا ہے ایک طرف روزن دیوار زنداں ہونے سے مراد آنکھوں کا بے نور ہوناہے اور دوسری طرف یہ ظاہر کرنا ہے کہ اگر چہ ظاہر طور پر یعقوب نے یوسف کی خبر نہیں لی مگر درحقیقت ان کی آنکھیں روزن دیوار زنداں ہو کر ہر وقت یوسف کا نظارہ کرتی تھیں۔روزن اور نابینا آنکھوں کی مشاہبت خوب ہے۔جب آنکھیں بے نور ہو جاتی ہیں تو وہ سفید ہوجاتی ہیں اور روزن کی طرح ہمیشہ کھلی رہتی ہیں۔

چوتھا شعر

سب رقیبوں سے ہوں ناخوش، پر زنانِ مصر سے
ہے زُلیخا خوش ،کہ محوِ ماہِ کنعاں ہو گئیں

زلیخا حضرت یوسف علیہ السلام پر عاشق تھی۔ اس پر زنان مصر طعنے کستی تھیں کہ تم ایک غلام پر عاشق ہو۔ تم نے اس میں آخر کون سی بات دیکھی۔ بالآخر زلیخا نے تنگ آکر بہت سی عورتوں کو جمع کیا اور ان سب کے ہاتھوں میں ایک ایک چھری اور ترنج دے دیے اور کہا کہ جب حضرت یوسف علیہ السلام سامنے آئیں تو ترنج کو کاٹ دینا۔ سب سلیقے سے بیٹھ گئیں۔ یوسف علیہ السلام کو بلایا گیا۔ سب عورتوں نے ترنج کاٹے مگر وہ یوسف کے نظارے میں اس قدر محو ہو گئیں تھیں کہ بجائے ترنج کے اپنے ہاتھ کاٹ لیے۔ یہ عالم دیکھ کر زلیخا بہت خوش ہوئی۔ اس واقعے کو پیش نظر رکھ کر غالب کہتے ہیں کہ دنیا کا اصول ہے کہ عاشق اپنے رقیبوں سے نفرت کرتے ہیں ان سے جلتے ہیں لیکن زلیخا میں یہ بات نہیں۔ وہ اپنے رقیبوں سے عام چلن سے ہٹ کر خوش ہے کہ وہ بھی اسی کی طرح اس پر عاشق ہو گئیں۔ دراصل زلیخا کی خوشی کا سبب یہ تھا کہ اب وہ عورتیں مجھے یوسف پر عاشق ہونے کا طعنہ نہیں دے سکیں گی لیکن شاعر نے ایک دوسرا پہلو نکالا ہے۔

پانچواں شعر

نیند اس کی ہے دماغ اس کا ہے راتیں اس کی ہیں
تیری زلفیں جس کے بازو پر پریشاں ہو گئیں

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ اے محبوب جس کے ساتھ تو خواب ہوا اور جوش اختلاط میں جس کے کاندھے پر تیری معطر زلفیں بکھر گئیں ہوں،اس کے دماغ کا کیا کہنا۔ اس کی نیند قابل صد رشک ہے۔اس خوش نصیب شخص کی راتیں دراصل راتیں کہلانے کی حق دار ہیں۔وہ شخص گویا دنیا کا سب سے خوش نصیب شخص ہے۔اور جسے یہ لطف حاصل نہیں ہوا،نہ اس کا دماغ ،دماغ ہے، نہ اس کی نیند، نیند ہے اور نہ راتیں اس کی صحیح معنوں میں راتیں ہیں۔

چھٹا شعر

میں چمن میں کیا گیا گویا دبستان کھل گیا
بُلبُلیں سن کر میرے نالے غزل خواں ہو گئیں

شاعر کہتا ہے کہ میرا چمن میں جانا تھا کہ ایک مکتب کا سا سماں بندھ گیا۔بُلبلُیں میرے نالے سنتے ہی بڑے جوش سے نغمہ سنحبی کرنے لگیں۔ اکثر ایسا ہوتا یہ ہے کہ مکتب میں جب استاد نہیں ہوتا تو شاگرد سبق یاد نہیں کرتے مگر جب استاد کے آنے کی آہٹ ہی پاتے ہیں زور زور سے سبق دہرانا شروع کر دیتے ہیں۔یہی صورتحال چمن میں پیدا ہو گئی کہ شاعر کا نالہ سنتے ہی بُلبلُیں نغمہ زن ہو گئیں۔گویا شاعر استاد ہوا اور بلُبُلیں شاگرد۔

ساتواں شعر

وہ نگاہیں کیوں ہوئی جاتی ہیں یارب دل کے پار
جو مری کوتاہیئ قسمت سے مژگاں ہو گئیں

آنکھوں کا قریب قریب بند ہونا اور پلکوں کا آپس میں مل جانا۔ کبھی ایسی صورت جوش مسرت سے آنکھیں بند ہو جانے سے پیدا ہوتی ہے اور کبھی تغفال آمیز شرمیلے نگاہوں سے بھی یہ کیفیت پیدا ہوتی ہے۔

آٹھواں شعر

جاں فزا ہے بادہ جس کے ہاتھ میں جام آ گیا
سب لکیریں ہاتھ کی، گویا رگ جاں ہوگئیں

شاعر کہتا ہے کہ جانفزا گویا دل خوش کرنے والا اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ جس کےہاتھ میں شراب کا پیالہ آ جاتا ہے اس کے ہاتھ کی تمام لکیریں گویا رگ جاں ہو جاتی ہیں یعنی بغیر پیئے محض ہاتھ میں آنے سے ہی رگوں میں جوش وقوت پیدا ہو جاتی ہے۔

نواں شعر

ہم موحد ہیں، ہمارا کیش ہے ترک رسوم
ملتیں جب مٹ گئیں،اجزائے ایماں ہو گئیں

شاعر نے تمام ملتوں اور مذہب کو منجملہ دیگر رسوم کے قرار دیا ہے جن کا ترک کرنا اور مٹانا موحد کا اصل مہذب ہے اور جب یہاں ملتیں مٹ جاتی ہیں تو وہ اجزائے ایمان ہو جاتی ہیں۔

دسواں شعر

رنج سےخوگر ہوا انسان، تو مٹ جاتا ہے رنج
مُشکلیں مجھ پر پڑیں اتنی،کہ آساں ہوگئیں

جب انسان دکھ کا عادی ہوجاتا ہے تو دکھ کا احساس جاتا رہتا ہے۔ غالب کہتا ہے کہ مجھ پر اتنی مشکلیں اور مصیبتیں آئیں کہ ان کا عادی ہو گیا ہوں اور مشکلات کا احساس ختم ہو گیا ہے۔یعنی میں خوگر آلام ہوگیا ہوں۔اس لیے یہ خوشی ہے کہ انہیں معمولی بات سمجھ کر برداشت کر لیتا ہوں۔

گیارھواں شعر

یوں ہی گر روتا رہا غالب تو اے اہل جہاں!
دیکھنا ان بستیوں کو تم، کہ ویراں ہو گئیں

بہت اچھا شعر ہے۔غالب اہل جہاں سے مخاطب ہو کر کہتے ہیں کہ اے اہل جہاں اگر غالب اس طرح روتا رہا تو چند دنوں میں یہ شہر، یہ بستیاں ویران ہو جائیں گی۔ گویا اس کا لگا تار روتے رہنا تباہ کن ثابت ہوگا۔ لہذا اسے رونے سے روکنے کے لیے کوئی تدبیر کرنی چاہیے۔

Advertisements