• نظم : سرمارئی ( تیسری داستان )
  • شاعر : شاہ عبد اللطیف بٹھائی
  • ترجمہ : شیخ ایاز

تعارفِ نظم 

یہ شعر ہماری درسی کتاب کی نظم ”سرمارئی ( تیسری داستان ) “ سے لیا گیا ہے۔ اس نظم کے شاعر کا نام شاہ عبد اللطیف بٹھائی ہے۔ اس نظم کا سندھی ادب سے اردو ادب میں ترجمہ ” شیخ ایاز “ نے کیا ہے۔ یہ نظم عمر اور ماروی کی داستان کو بیان کرتی ہے۔

تعارفِ شاعر

شاہ عبد اللطیف بٹھائی برصغیر کے عظیم صوفی شاعر تھے۔ آپ نے اپنی شاعری کے ذریعے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پیغام کو عام لوگوں تک پہنچایا۔ شاھ عبد اللطیف بھٹائی کی ولادت 1689ء، 1101ھ میں موجودہ ضلع مٹیار کی تحصیل ہالا میں ہوئی۔

شعر نمبر ۱ :

اپنے گھر کی رنگی ہوئی لوئی
کیوں نہ ہو رشکِ اطلس و کمخواب
اے عمر کیا ہے اس کے سامنے
مخملیں بافتے کی آب و تاب

تشریح :
شاہ عبداللطیف نے عمر اور ماروی کی داستان کو کچھ اس طرح بیان کیا ہے کہ عمر کوٹ کے بادشاہ عمر کو گاؤں ملیر کی لڑکی ماروی کے حسن نے مبہوت کر دیا اور جب بادشاہ اس لڑکی کو شادی کی پیشکش بھی کی۔ لیکن چونکہ ماروی نے اس پیشکش کو قبول نہ کیا تو بادشاہ نے اسے اپنے ساتھ لاکر قید کر دیا۔ اپنے گاؤں اور لوگوں سے دوری ماروی کو برداشت نہ ہوتی تو وہ دن رات روتی رہتی۔ ماروی عمر سے مخاطب ہو کر کہتی کہ اے عمر تیرے محل کا ریشمی بستر چاہے کتنے ہی رشک کے قابل ہو لیکن یہ مجھے میرے گھر کے بستر کی طرح عزیز نہیں۔ مجھے میرے گھر کے بستر میں اس سے زیادہ آرام و سکوں ملتا ہے۔

شعر نمبر ۲ :

میں نہ پہنوں گی ریشمی ملبوس
چاہے جس رنگ کا بھی ہو کوئی
میرے پیارے وطن کا تخفہ ہے
صاف و شفاف اون کی لوئی
جان سے بھی عزیز ہے مجھ کو
اپنے پنہوار کی رضا جوئی

تشریح :
شاہ عبداللطیف نے عمر اور ماروی کی داستان کو کچھ اس طرح بیان کیا ہے کہ عمر کوٹ کے بادشاہ عمر کو گاؤں ملیر کی لڑکی ماروی کے حسن نے مبہوت کر دیا اور جب بادشاہ اس لڑکی کو شادی کی پیشکش بھی کی۔ لیکن چونکہ ماروی نے اس پیشکش کو قبول نہ کیا تو بادشاہ نے اسے اپنے ساتھ لاکر قید کر دیا۔ اپنے گاؤں اور لوگوں سے دوری ماروی کو برداشت نہ ہوتی تو وہ دن رات روتی رہتی۔ ماروی عمر سے مخاطب ہو کر کہتی کہ میں کبھی بھی تیرا دیا ہوا ریشمی لباس نہیں پہنوں گی، چاہے وہ کسی بھی رنگ کا ہو۔ مجھے میرے گھر کا ہی صاف و شفاف اون کا لباس پسند ہے جس میں میرے اپنوں کی خوشی ہے۔

شعر نمبر ۳ :

اور بے تاب نہ کر اے سفاک
تجھ سے بےزار ہے دل غمناک
اے عمر! لاکھ درجہ بہتر ہے
سیم و زر سے مجھ وطن کی خاک
رنگ و روغن تجھے مبارک ہوں
مجھ کو پیارے وہی خس و خاشاک

تشریح :
شاہ عبداللطیف نے عمر اور ماروی کی داستان کو کچھ اس طرح بیان کیا ہے کہ عمر کوٹ کے بادشاہ عمر کو گاؤں ملیر کی لڑکی ماروی کے حسن نے مبہوت کر دیا اور جب بادشاہ اس لڑکی کو شادی کی پیشکش بھی کی۔ لیکن چونکہ ماروی نے اس پیشکش کو قبول نہ کیا تو بادشاہ نے اسے اپنے ساتھ لاکر قید کر دیا۔ اپنے گاؤں اور لوگوں سے دوری ماروی کو برداشت نہ ہوتی تو وہ دن رات روتی رہتی۔ماروی عمر سے مخاطب ہو کر کہتی کہ مجھے میرے وطن واپس چھوڑ آ۔ میرے دل میں تیرے لیے کوئی محبت نہیں ہے۔ مجھے میرا وطن یاد آتا ہے۔ مجھے میرے گاؤں کی خاک تیرے رنگ و روغن والے محل سے کہیں زیادہ پسند ہے۔

شعر نمبر ۴ :

دست و بازو پہ اون کے دھاگے
خلعتِ زرنگار سے بہتر
اے سمن پوش! کچھ نہیں میرے
جامہ تار تار سے بہتر
سوگ اپنی خزاں نصیبی کا
اس فریب بہار سے بہتر

تشریح :
شاہ عبداللطیف نے عمر اور ماروی کی داستان کو کچھ اس طرح بیان کیا ہے کہ عمر کوٹ کے بادشاہ عمر کو گاؤں ملیر کی لڑکی ماروی کے حسن نے مبہوت کر دیا اور جب بادشاہ اس لڑکی کو شادی کی پیشکش بھی کی۔ لیکن چونکہ ماروی نے اس پیشکش کو قبول نہ کیا تو بادشاہ نے اسے اپنے ساتھ لاکر قید کر دیا۔ اپنے گاؤں اور لوگوں سے دوری ماروی کو برداشت نہ ہوتی تو وہ دن رات روتی رہتی۔ ماروی عمر سے مخاطب ہو کر کہتی کہ مجھے میرے ہاتھوں میں بندھے اون کے دهاگے ان مہنگے مہنگے زیورات سے کہیں زیادہ پسند ہے۔مجھے میرے گاؤں میں گزری ہوئی غریبی والی زندگی اس فریب زدہ محل سے کہیں زیادہ بہتر لگتی ہے۔

شعر نمبر ۵ :

وہ سیہ چوڑیاں کلائی پر
ان کا ہر نقش کتنا پیارا ہے
سیم و زر کا نہ دے مجھ کو لالچ
یہ سہارا کوئی سہارا ہے؟
بھول جاؤں وہ جھونپڑے کیسے
میں نے بچپن جہاں گزارا ہے
اس عمر کوٹ کے حصاروں سے
لاکھ بہتر وطن ہمارا ہے
اے عمر اپنے ماروں کے ساتھ
مجھ کو فاقہ کشی گوارا ہے

تشریح :
شاہ عبداللطیف نے عمر اور ماروی کی داستان کو کچھ اس طرح بیان کیا ہے کہ عمر کوٹ کے بادشاہ عمر کو گاؤں ملیر کی لڑکی ماروی کے حسن نے مبہوت کر دیا اور جب بادشاہ اس لڑکی کو شادی کی پیشکش بھی کی۔ لیکن چونکہ ماروی نے اس پیشکش کو قبول نہ کیا تو بادشاہ نے اسے اپنے ساتھ لاکر قید کر دیا۔ اپنے گاؤں اور لوگوں سے دوری ماروی کو برداشت نہ ہوتی تو وہ دن رات روتی رہتی۔ ماروی عمر سے مخاطب ہو کر کہتی ہے کہ میں وہ گھر کیسے بھول جاؤں جہاں میرا بچپن گزرا ہے۔ میری بہت سی یادیں ادھر سے جڑی ہوئی ہیں اور مجھے میرے اپنوں کے ساتھ فاقہ کشی بھی گوارا ہے۔

شعر نمبر ۶ :

سن رہے ہوں گے کتنے طعنے آج
تھر میں رہتے ہوئے مرے سرتاج
سومرا! تیری بدنگاہی سے
ہو گئی میری زندگی تاراج
اے عمر ! ان سفید کپڑوں سے
مجھ کو پیاری ہے اپنے گھر کی لاج

تشریح :
شاہ عبداللطیف نے عمر اور ماروی کی داستان کو کچھ اس طرح بیان کیا ہے کہ عمر کوٹ کے بادشاہ عمر کو گاؤں ملیر کی لڑکی ماروی کے حسن نے مبہوت کر دیا اور جب بادشاہ اس لڑکی کو شادی کی پیشکش بھی کی۔ لیکن چونکہ ماروی نے اس پیشکش کو قبول نہ کیا تو بادشاہ نے اسے اپنے ساتھ لاکر قید کر دیا۔ اپنے گاؤں اور لوگوں سے دوری ماروی کو برداشت نہ ہوتی تو وہ دن رات روتی رہتی۔ ماروی عمر سے مخاطب ہو کر کہتی کہ تم مجھے یہاں قید کر لائے ہو۔ تمہاری بدنگاہی کی وجہ سے میرے گھر والے کتنے طعنے سن رہے ہونگے۔ مجھے تمہاری دی گئی آسائشوں سے کہیں زیادہ اپنی عزت پیاری ہے۔

شعر نمبر ۷ :

حال اہلِ وطن کا کیا ہوگا
میں ادھر قید وہ ادھر ناشاد
میری آنکھوں میں ہیں وہ سبزہ زار
کتنے گنجان کس قدر آباد
آہ! وہ پھوہ لاتا ، ساڈ وہی
چٹکیاں لے رہی ہے جن کی یاد

تشریح :
شاہ عبداللطیف نے عمر اور ماروی کی داستان کو کچھ اس طرح بیان کیا ہے کہ عمر کوٹ کے بادشاہ عمر کو گاؤں ملیر کی لڑکی ماروی کے حسن نے مبہوت کر دیا اور جب بادشاہ اس لڑکی کو شادی کی پیشکش بھی کی۔ لیکن چونکہ ماروی نے اس پیشکش کو قبول نہ کیا تو بادشاہ نے اسے اپنے ساتھ لاکر قید کر دیا۔ اپنے گاؤں اور لوگوں سے دوری ماروی کو برداشت نہ ہوتی تو وہ دن رات روتی رہتی۔ ماروی عمر سے مخاطب ہو کر کہتی ہے کہ مجھے میرے اپنوں کی یاد ستا رہی ہے۔ میرے ہم وطنوں کا حال کیا ہوگا۔ میں ادھر ناخوش ہوں وہ بھی ادھر پریشان ہونگے۔

شعر نمبر ۸ :

اف یہ زنداں! یہ آپنی زنجیر
ہائے یہ ظلم اور یہ بے داد!
آرزوئیں ہیں سہمی سہمی سی
اور تمنا ہے مائل فریاد
پاس ہے اس عہدو پیماں کا
چھوڑدے مجھ کو اے ستم ایجاد!

تشریح :
شاہ عبداللطیف نے عمر اور ماروی کی داستان کو کچھ اس طرح بیان کیا ہے کہ عمر کوٹ کے بادشاہ عمر کو گاؤں ملیر کی لڑکی ماروی کے حسن نے مبہوت کر دیا اور جب بادشاہ اس لڑکی کو شادی کی پیشکش بھی کی۔ لیکن چونکہ ماروی نے اس پیشکش کو قبول نہ کیا تو بادشاہ نے اسے اپنے ساتھ لاکر قید کر دیا۔ اپنے گاؤں اور لوگوں سے دوری ماروی کو برداشت نہ ہوتی تو وہ دن رات روتی رہتی۔ ماروی عمر سے مخاطب ہو کر کہتی ہے کہ تو نے مجھے قید کیا ہوا ہے اور یہ قید میرے لئے کسی ظلم سے کم نہیں ہے۔ میرے عہدو پیماں میرے منگیتر کے ساتھ ہیں۔ مجھے اس قید سے آزاد کر دے۔

شعر نمبر ۹ :

نرم و نازک کلائیاں یاد آئیں
اور شیشے کی چوڑیاں یاد آئیں
میرے تن من میں ماروؤں کا پیار
اور پیاری سہیلیاں یاد آتیں
تابحد نگاہ سبزہ زار
اور تھر کی وہ جھگیاں یاد آئیں
اے عمر! چھوڑ دے میں جاؤں گی
اسی دنیا کو پھر بساؤں گی

تشریح :
شاہ عبداللطیف نے عمر اور ماروی کی داستان کو کچھ اس طرح بیان کیا ہے کہ عمر کوٹ کے بادشاہ عمر کو گاؤں ملیر کی لڑکی ماروی کے حسن نے مبہوت کر دیا اور جب بادشاہ اس لڑکی کو شادی کی پیشکش بھی کی۔ لیکن چونکہ ماروی نے اس پیشکش کو قبول نہ کیا تو بادشاہ نے اسے اپنے ساتھ لاکر قید کر دیا۔ اپنے گاؤں اور لوگوں سے دوری ماروی کو برداشت نہ ہوتی تو وہ دن رات روتی رہتی۔ ماروی عمر سے مخاطب ہو کر کہتی ہے کہ مجھے آزاد کر دے میں گاؤں واپس جا کر اپنی اک دنیا بساؤں گی، مجھے میری سہیلیياں اور میرا گاؤں یاد آتا ہے۔

سوال نمبر ۱ : اس نظم کے دوسرے اور چوتھے بند کی تشریح کیجیے۔

میں نہ پہنوں گی ریشمی ملبوس
چاہے جس رنگ کا بھی ہو کوئی
میرے پیارے وطن کا تخفہ ہے
صاف و شفاف اون کی لوئی
جان سے بھی عزیز ہے مجھ کو
اپنے پنہوار کی رضا جوئی

تشریح :
شاہ عبداللطیف نے عمر اور ماروی کی داستان کو کچھ اس طرح بیان کیا ہے کہ عمر کوٹ کے بادشاہ عمر کو گاؤں ملیر کی لڑکی ماروی کے حسن نے مبہوت کر دیا اور جب بادشاہ اس لڑکی کو شادی کی پیشکش بھی کی۔ لیکن چونکہ ماروی نے اس پیشکش کو قبول نہ کیا تو بادشاہ نے اسے اپنے ساتھ لاکر قید کر دیا۔ اپنے گاؤں اور لوگوں سے دوری ماروی کو برداشت نہ ہوتی تو وہ دن رات روتی رہتی۔ ماروی عمر سے مخاطب ہو کر کہتی کہ میں کبھی بھی تیرا دیا ہوا ریشمی لباس نہیں پہنوں گی، چاہے وہ کسی بھی رنگ کا ہو۔ مجھے میرے گھر کا ہی صاف و شفاف اون کا لباس پسند ہے جس میں میرے اپنوں کی خوشی ہے۔

دست و بازو پہ اون کے دھاگے
خلعتِ زرنگار سے بہتر
اے سمن پوش! کچھ نہیں میرے
جامہ تار تار سے بہتر
سوگ اپنی خزاں نصیبی کا
اس فریب بہار سے بہتر

تشریح :
شاہ عبداللطیف نے عمر اور ماروی کی داستان کو کچھ اس طرح بیان کیا ہے کہ عمر کوٹ کے بادشاہ عمر کو گاؤں ملیر کی لڑکی ماروی کے حسن نے مبہوت کر دیا اور جب بادشاہ اس لڑکی کو شادی کی پیشکش بھی کی۔ لیکن چونکہ ماروی نے اس پیشکش کو قبول نہ کیا تو بادشاہ نے اسے اپنے ساتھ لاکر قید کر دیا۔ اپنے گاؤں اور لوگوں سے دوری ماروی کو برداشت نہ ہوتی تو وہ دن رات روتی رہتی۔ ماروی عمر سے مخاطب ہو کر کہتی کہ مجھے میرے ہاتھوں میں بندھے اون کے دهاگے ان مہنگے مہنگے زیورات سے کہیں زیادہ پسند ہے۔مجھے میرے گاؤں میں گزری ہوئی غریبی والی زندگی اس فریب زدہ محل سے کہیں زیادہ بہتر لگتی ہے۔

سوال نمبر ۲ : اس نظم میں ماروی نے عمر کو مخاطب کرکے جو کچھ کہا ہے اسے اپنے الفاظ میں لکھیے۔

جواب : نظم سرمارئی میں ماروی نے عمر کو مخاطب کر کے کہا ہے کہ مجھے اپنا وطن، اپنے لوگ، ہر آسائش سے بڑھ کر عزیز ہیں۔ تو نے مجھے میری خوشی نہ ہوتے ہوئے یہاں قید کیا ہوا ہے۔ میری خوشی میرا گاؤں، میرے گاؤں کے لوگوں میں ہے۔ وہاں کے ریتیلے ٹیلے اور کھلے آسمان مجھے بھاتے ہیں نہ کہ یہ ریشمی بستر۔ میرے عہد و پیماں سب میرے منگیتر کے ساتھ ہیں نہ کہ تمہارے ساتھ۔ تم جتنا عرصہ مجھے قید کر لو لیکن میرے دل میں اپنی محبت نہ ڈال سکو گے۔

سوال نمبر ۳ : اس نظم کو پڑھ کر آپ کو جو سبق حاصل ہوتا ہے وہ تحریر کیجیے۔

جواب : عمر اور ماروی کی یہ داستان "سرمارئی” اپنے وطن سے محبت کا مثالی ثبوت ہے۔ عمر کوٹ کے بادشاہ عمر نے ماروی کو ہر آسائش دی، ہیرے جواہرات کا لالچ دیا، مگر ماروی کے دل سے اس کے گاؤں ملیر اور اس کے اپنوں کی محبت نہ ختم کروا سکا۔ اور بالآخر ماروی کی ثابت قدمی اسے واپس اس کے گاؤں لے آئی۔ سرمارئی سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ہم اپنے ملک اور اپنے پیارے ہم وطنوں سے بنا کسی لالچ کے محبت کریں اور حالات جو بھی ہوں اپنے ارادے میں ثابت قدم رہیں۔

سوال نمبر ۴ : مندجہ ذیل میں سے ہم قافیہ الفاظ چن کر لکھیے :

گوارا ، نظارا
میم و زر، لعل و گہر
سفاک ، پاک
ملبوس ، طاؤس
تاج ، رواج
آباد ، ناشاد
رہبر ، عنبر

سوال نمبر ۵ : ضروری معلومات حاصل کرکے عمر ماروی کی داستان مختصر طور پر تحریر کیجیے۔

جواب : عمر اور ماروی کی داستان شاہ عبدالطیف بھٹائی نے اپنی کتاب ’شاہ جو رسالو‘ میں بیان کی ہے جو سب سے مستند سمجھی جاتی ہے۔ ہماری درسی کتاب میں اس داستان کا نام سرمارئی ہے۔ یہ داستان کچھ یوں ہے کہ ماروی نامی حسین و جمیل لڑکی تھر پارکر کے گاﺅں ملیر کی رہائشی تھی، جس کی گاﺅں کے ایک لڑکے کھیت سے منگنی ہو جاتی ہے۔ گاﺅں کا ایک اور لڑکا بھی اس کی محبت میں مبتلا ہوتا ہے۔ وہ ماروی کو اپنی طرف متوجہ کرنے کی کوشش کرتا ہے لیکن وہ انکار کر دیتی ہے۔ حسد کا مارا یہ شخص اس وقت کے حکمران ’عمر سومرو‘ کے دربار میں چلا جاتا ہے جس سے شہر عمرکوٹ منسوب ہے اور پھر اسے شاعرانہ انداز میں ماروی کے حسن کے بارے میں بتاتا ہے۔ بادشاہ عمر سومرو اس شخص کی زبانی ماروی کے حسن کا قصہ سن کر اسے دیکھنے کے لیے اس کے گاﺅں چلا آتا ہے۔ جب بادشاہ گاﺅں میں آتا ہے، اس وقت ماروی ایک کنویں سے پانی نکال رہی ہوتی ہے۔ بادشاہ کی اس پر نظر پڑتے ہی وہ مبہوت ہو جاتا ہے۔

ماروی اسے اس قدر پسند آتی ہے کہ وہ وہیں اسے شادی کی پیشکش کرتا ہے، لیکن وہ اسے بھی انکار کر دیتی ہے۔ بادشاہ اسے ہیرے جواہرات اور شاہی زندگی کا لالچ دیتا ہے مگر وہ پھر بھی نہیں مانتی۔ اس پر وہ اسے ساتھ عمر کوٹ لیجا کر محل میں قید کر دیتا ہے۔ ماروی، جو صحرا کے ریتیلے ٹیلوں اور کھلے آسمان کی عادی تھی، اس قیدی زندگی پر دن رات روتی رہی۔ ہر روز عمر اس کے پاس آتا ہے اور اسے شادی پر رضامند کرنے کی کوشش کرتا مگر وہ مسلسل انکار کرتی رہتی۔ بالآخر گھر اور وطن کی یاد ماروی کو اس قدر تکلیف میں مبتلا کر دیتی ہے کہ وہ کھانا پینا چھوڑ دیتی ہے اور بیمار پڑجاتی ہے۔ جب عمر کو اس کی بیماری کی خبر ہوتی ہے تو وہ دوبارہ اس کے پاس آتا ہے اور شادی کرنے کی درخواست کرتا ہے۔ اس پر ماروی اسے جواب دیتی ہے کہ ”اگر میں اپنے وطن کی یاد میں دم توڑ دوں تو میرا جسدِ خاکی میرے گھر لیجانا، تاکہ میں صحرا کی ریت میں آرام کر سکوں۔ 

مرنے کے بعد ہی سہی، اگر میری ہڈیاں ملیر پہنچ گئیں تو میں پھر سے زندہ ہو جاﺅں گی۔“ عمر ماروی کی وطن سے محبت کا یہ عالم دیکھ کر بالآخر ایک سال کی قید کے بعد اسے رہائی دے دیتا ہے۔ اس کے آدمی ماروی کو عزت و تکریم کے ساتھ اس کے گاﺅں لے کر جاتے ہیں۔ عمر کے آدمی گاﺅں والوں کو یہ پیغام بھی دیتے ہیں کہ ’ماروی کو جس حالت میں لیجایا گیا تھا یہ اسی حالت میں واپس آئی ہے۔‘ لیکن اس پیغام کے باوجود جب ماروی اپنے گاﺅں پہنچتی ہے تو گاﺅں کے لوگ اس کی پاکدامنی پر شک کرتے ہیں لیکن اس کا منگیتر کھیت اسے واپس لے جاتا ہے اور ان کی شادی کی تیاری شروع ہو جاتی ہے۔ شادی کی رات جب وہ حجلہ عروسی میں اپنے شوہر کا انتظار کر رہی ہوتی ہے، وہ سوچ رہی ہوتی ہے کہ اگر اس کے شوہر نے اس کی پاکدامنی کے متعلق سوال کیا تو وہ کیا جواب دے گی۔ یہ خیال اس کے لیے ناقابل برداشت ثابت ہوا، اس نے آخری سانس لی اور وہیں دم توڑ گئی۔ یہاں ماروی کی کہانی تو ختم ہو گئی لیکن اس کا نام آج بھی زندہ ہے اور اس کا نام زندہ ہونے کا حوالہ اس کی عمر سے محبت نہیں بلکہ اپنے وطن سے لازوال محبت ہے۔

سوال ٦ : شاہ عبداللطیف بھٹائی سندھی زبان کے بہت بڑے صوفی شاعر تھے۔ اگر ہم اس نظم کو معرفت الہی کی طرف لے جائیں تو خلاصہ کیا ہوگا؟

جواب : اگر ہم اس نظم کو معرفت الہی کی طرف لے جائیں تو اس نظم کا خلاصہ یہ ہوگا کہ ہمیں اپنے رب سے سب سے زیادہ محبت کرنی چاہیے اور اس دنیا اور یہاں کے رشتوں کے پیچھے اس رب کی محبت کو کبھی بھی قربان نہیں کرنا چاہیے۔ بلکہ ہمیں اپنے رب کی محبت کے پیچھے اس دنیا کی ہر لالچ کو ٹھکرا دینا چاہیے۔