Advertisement

حاکم جس گھر کی دائیں طرف خشکی کے ایک اونچے ٹیلے پر بیٹھا تھا وہ گھر کبھی مکمل طور پر اس کی دسترس میں تھا۔ اس گھر کے درودیوار، چھتیں اور فرش حتی کہ تمام چیزیں جن سے مل کر کوئی گھر یا گھونسلہ بنتا ہے اس کی اپنی تھیں۔ ماضی کی ایک دھندلی سی فلم حاکم کے ذہن کو مفلوج کرنے ہی لگی تھی کہ اچانک اس نے سامنے پتے کھاتے ہوئے درختوں کو دیکھا۔ درختوں کا اس طرح پتوں کو کھانا اس کے لیے ایک انہونی چیز تھی۔ درخت اس کے دوست تھے اور اس نے انہیں خون پلا پلا کر بڑا کیا تھا۔ اب وہ خون نایاب ہو چکا تھا جو کسی وقت میں ان درختوں کی خوراک ہوا کرتا تھا۔ ان کی چاروں اطراف میں پانی سے بھرے ہوئے دریا روانی کے ساتھ بہہ رہے تھے۔ ان دریاؤں میں خون سے لت پت انسانی اعضاء اور وافر مقدار میں انسانی خون نظر آتا۔ لیکن ان اعضاء او خون میں بارود کی بُو شامل ہونے کی وجہ سے درختوں کو کراہت محسوس ہوتی اور وہ اپنی ہی شاخوں سے گرے ہوئے پتوں کو کھا کر اپنا جہنم بھر لیتے۔ حاکم ان درختوں کی خودداری اور غیرت کا معترف تھا۔ وہ سوچتا کہ انسانوں کو انسانوں کے خون سے بارود کی بُو کیوں نہیں آتی؟ وہ ان اعضاء کو آخر کیوں اتنی آسانی سے کھا لیتے ہیں اور ان کا کس قبیلے سے تعلق ہے؟

حاکم نے ایک تھرتھراہٹ سی محسوس کی اور آنکھیں بند کر کے درخت کے ساتھ ٹیک لگا کر کچھ یاد کرنے لگا۔ اب اس کی آنکھوں کے سامنے وہی گھر تھا جو کبھی مکمل طور پر اس کے اختیار اور اس کی پہنچ میں تھا۔ وہ گھر ابھی بھی اس کے پاس ہے لیکن وہ اس کا نہیں ہے۔ حالانکہ تمام قانونی تقاضے بھی پورے کیے گئے تھے ، تمام قانونی کارروائیاں بھی تب ہی مکمل ہو گئی تھیں جب اس گھر کا بٹوارہ کیا گیا۔ گھر مربع شکل میں تھا اور اسے دو حصوں میں تقسیم کرنے والی دیوار اخلاقی طور پر گھر کے صحن کے بالکل درمیان میں سے گزارنی چاہیئے تھی لیکن اس دیوار کو خلاف بنیاد اٹھایا گیا تھا۔ حاکم کے پاس آدھا گھر ہے اور باقی آدھا گھر اس کے جڑواں بھائی جابر کے پاس ہے۔ گھر کی تقسیم کا فیصلہ دونوں بھائیوں کی مرضی کے مطابق نہیں ہوا تھا۔ اس میں تقسیم کرنے والے تیسرے شخص نے سراسر جانبداری سے کام لیا تھا۔ لیکن حاکم آج بھی اس تقسیم سے خوش ہے کیوں کہ اس کے بیوی بچے اس آدھے گھر میں سر چھپانے کے قابل تو ہیں۔

روبوٹ کی مچائی ہوئی تباہی نے بھی حاکم کو خوفزدہ کر رکھا تھا۔ گو کہ اس نے اسے خود اپنے ہاتھوں سے بنایا تھا لیکن اب اس پر اس کا اختیار نہیں رہا۔ اختیار ہو بھی تو وہ عارضی طور پر ہوتا ہے کیوں کہ بعض دفعہ اس پر کوئی تدبیر کارگر ثابت نہیں ہوتی۔ گھر کی حفاظت کی ذمہ داری روبوٹ کو سونپی گئی تھی۔ حاکم زمینداری کے کاموں میں اس قدر الجھ جاتا کہ اسے گھر واپس آنے میں اکثر دیر سویر ہو جاتی تھی۔ گھر ایک سنسان علاقے میں ہونے کی وجہ سے کئی حوالوں سے محفوظ نہیں تھا۔ اس کی زمین گھر سے کافی دور تھی۔ وہ وہاں سے اٹھا اور گھر میں داخل ہوتے ہی بلند آواز سے بیوی بچوں کو مخاطب کیا ، بچے کھیل کود میں مگن تھے جبکہ رضیہ چائے کی پتیلی مانجھ رہی تھی۔ اس نے کہا سب لوگ جلدی لنگر پانی کر لیں اور ضروری سامان درانتیاں، بیل گاڑی، رسیاں اور جوتے وغیرہ ایک جگہ پر تیار کر کے رکھ لیں۔ فصل پک کے تیار ہو چکی تھی۔ گندم کی کٹائی وہ ہمیشہ خود ہی کرتے ۔ کنبہ کافی بڑا تھا اور انہیں ان کاموں کے لیے کسی اور کی طرف دیکھنے کی کبھی ضرورت ہی محسوس نہ ہوئی۔ وہ اندر گیا، کام والے کپڑے پہنے اور باہر آ کر ایک کچی تھڑی پر چوکڑی مار کر بیٹھ گیا۔ رضیہ کی چھوٹی بہن کے بچے بھی کئی دنوں سے وہاں آئے ہوئے تھے اور حسب روایت اس دفعہ بھی انہوں نے کافی دن وہاں رہنے کی منصوبہ بندی کر رکھی تھی۔

پچھلی دفعہ بھی گندم کی کٹائی پر یہ بچے ادھر ہی تھے۔ انہوں نے خوب جان لڑا کر کام کیا تھا ، اس کے بدلے میں حاکم نے انہیں نئے کپڑے اور جوتے دلوائے تھے۔ اس رحم کا ان کے سر پر باپ کے سایہ کا نہ ہونا بھی تھا۔ اب کی بار بھی حاکم کے ذہن میں یہی باتیں چل رہی تھیں۔ اپنے آگے چلتے ، دھول اڑاتے اور مٹی سے کھیل مستیاں کرتے ہوئے بچوں کو دیکھ کر اس کے دل میں لڈو پھوٹ رہے تھے ۔ وہ اندر ہی اندر خوشی اور غم کے ملے جلے جذبات کے ہاتھوں مسلسل بہک رہا تھا ۔ بچے جب ادھر ادھر پگڈنڈیوں پر چڑھ دوڑتے تو وہ انہیں انتہائی شفقت اور محبت بھرے لہجے میں واپس آنے کو کہتا ۔ زمین دریا کے کنارے پر تھی اور اس پر اگنے والی گھاس بوٹیاں بھی کافی دبیز اور گہری رنگت کی تھیں۔ اب دھول اور مٹی ختم ہو چکی تھی۔ اس نے سب بچوں کو بیل گاڑی پر بٹھا لیا اور انہیں سختی سے تاکید کی کہ اب کوئی بچہ اس سے نیچے نہیں اترے گا۔ اسے فکر تھی کہ شام تک ساری فصل کی کٹائی مکمل ہو جائے اور اس کے دن پھر جائیں۔ بیوی بچوں کا راشن ختم ہو چکا تھا اور اس سے یہ کیفیت بالکل بھی برداشت نہیں ہوتی تھی ، پھر بچوں کے تن ڈھانپنے بھی بے حد ضروری تھے۔ فصل کی کٹائی کے موسم میں ہمیشہ اس کا سینہ چوڑا ہوجاتا اور ان لمحوں کا انتظار اسے فصل کی بوائی کے بعد سے ہی شروع ہو جاتا۔

اب وہ اپنی گندم کی فصل کے نزدیک پہنچنے والے تھے۔ اچانک اس نے دیکھا کہ فصل کے عین درمیان میں ڈھیر سارے کوئے فضا میں ایک دائرے کے اندر (کاں کاں کرتے کبھی پر کھولتے اور کبھی بند کرتے) شور برپا کیے ہوئے ہیں۔ درانتی کی کرچ کرچ کی آواز بھی مسلسل اس کے کانوں میں محسوس ہو رہی تھی۔ وہ حیران بھی تھا اور پریشان بھی ۔ اس نے بلند آواز میں پکارا اور پوچھا کہ کون ہے ؟ لیکن آگے سے کوئی جواب نہ آیا۔ وہ خوف اور حیرت کی کیفیت میں مبتلا ہو گیا اور تمام بچوں کو پیچھے ہٹ جانے کو کہا۔ وہ گندم کی فصل میں کود پڑا، تیزی سے قدم بڑھاتا ہوا وہ فصل کے درمیان میں پہنچنے کی کوشش میں تھا۔ وہ اندر سے ڈرا ہوا تھا کہ آخر معاملہ کیا ہے۔ اس کی فصل ہمیشہ سلامت رہی ہےاور وہ پوری فصل اٹھاتا رہا ہے۔ اچانک ایک ٹانگ پہ مسلسل ایک دائرے میں برق رفتاری سے گھومتا ہوا روبوٹ اس کے سامنے تھا اور اس کے دونوں ہاتھوں میں درانتیاں تھیں۔ وہ کبھی اسے دیکھتا اور کبھی فصل کو۔ اس کا سر چکرا گیا کہ روبوٹ اس کی فصل میں (بھی) پہنچ گیا۔ روبوٹ نے اسے اس کے بولنے سے پہلے للکار کر کہا خبردار آگے مت بڑھنا۔ تمہیں معلوم ہے کہ میں مکمل طور پر تمہارے اختیار (کنٹرول) میں نہیں ہوں۔ تم مجھے نہ ہی کنٹرول کر سکتے ہو اور نہ ہی کوئی نقصان پہنچا سکتے ہو۔ حاکم کپکپاتے ہوئے بولنے کی کوشش کر رہا تھا لیکن اس کی زبان اس کا ساتھ نہیں دے رہی تھی۔
ت۔ت۔ت۔تو۔تو۔تم
ہاں میں۔

Advertisement

مگر تم یہاں کیوں؟
اب مجھے کہیں بھی جانے سے کوئی روک نہیں سکتا۔
لیکن تم نے تو میرا سب کچھ برباد کردیا۔۔۔۔۔۔۔حتی کی میری فصل بھی۔۔۔۔
برباد نہیں کیا، اپنی اجرت وصول کر رہا ہوں۔
کیسی اجرت؟
میں نے تمہارے گھر کی حفاظت کی، تمہارے بہت کام کیے۔

حاکم اجڑی ہوئی فصل کو دیکھ رہا تھا۔ اس نے پوری فصل کو اوپر سے کاٹ دیا تھا اور فصل کے تمام سٹے غائب تھے۔ ہرطرف ہو کا عالم تھا لیکن حاکم اپنے دل کی دھڑکن کا بلند و بالا شور سن سکنے کے قابل تھا۔اس کے دل میں طوفان اٹھ رہے تھے۔ دل ڈوب رہا تھا لیکن اس کے اختیار میں صبر اور خاموشی کے علاوہ کچھ نہیں تھا۔ اپنی بنائی ہوئی شے پر آپ کا کوئی اختیار باقی نہ رہے تو آپ رولا نہیں ڈالتے بلکہ گہری چپ سادھ لیتے ہیں۔ حاکم بہت کچھ بولنا چاہتا تھا بہت کچھ کرنا چاہتا تھا لیکن اسے پتا تھا کہ سرِدست وہ کچھ نہیں کر سکتا۔ اس کے دل میں ہزاروں گلے تھے لاکھوں شکائتیں تھیں۔ اس کی کیفیت بالکل ایسی تھی!!!

Advertisement
جینے کا حق سامراج نے چھین لیا
اٹھو مرنے کا حق استعمال کرو
ذلت کے جینے سے مرنا بہتر ہے
مٹ جاؤ یا قصر ستم پامال کرو
سامراج کے دوست ہمارے دشمن ہیں
انہی سے آنسو آہیں آنگن آنگن ہیں
انہی سے قتل عام ہوا آشاؤں کا
انہی سے ویراں امیدوں کا گلشن ہے
بھوک ننگ سب دین انہی کی ہے لوگو
بھول کے بھی مت ان سے عرض حال کرو
جینے کا حق سامراج نے چھین لیا
اٹھو مرنے کا حق استعمال کرو
ظلم کے ہوتے امن کہاں ممکن یارو
اسے مٹا کر جگ میں امن بحال کرو
جینے کا حق سامراج نے چھین لیا
اٹھو مرنے کا حق استعمال کرو

وہ اس کے سنہری لباس سے بھی خوفزدہ ہو جاتا۔ اس لباس میں عجیب سی دہشت تھی۔ ہاتھ میں مضبوط چھڑی ، چہرے پر ہروقت غصہ ، بڑی بڑی خوفناک سی آنکھیں اور مضبوط کندھے حاکم کو اس کے سامنے محکوم بنا دیتے۔

وہ تب بھی کچھ نہ کر سکا تھا جب اس نے اس کی بیوی کی عزت پہ ہاتھ ڈالا۔ وہ اس وقت بھی کچھ نہ کرسکا تھا جب اس نے اس کے سامنے اس کی دو سالہ بچی کو چیر پھاڑ دیا۔ وہ تب بھی بے بس تھا جب اس نے اس کے سارے مویشی چیر پھاڑ کر رکھ دیے اور کئی دنوں تک وہ اس کے سامنے انہیں کھاتا رہا۔ وہ اب کی بار بھی مایوس تھا۔ وہ مرجانا چاہتا تھالیکن اپنے بیوی بچوں کے لیے اسے جینا پڑرہا تھا۔ اب اس کے پاس کچھ بھی باقی نہیں بچا تھا۔اسے دوبارہ اس حال میں آنے کے لیے پورا ایک سال انتظار کرنا بہت دشوار لگ رہا تھا۔ گھر کی حفاظت کے بدلے میں وہ اسے ساری جمع پونجی پہلے ہی دے چکا تھا۔ وہ دبے پاؤں وہاں سے واپس چلا گیا۔ اسے بچوں کی روٹی اور جوتے کپڑوں کی فکر مسلسل کھائے جا رہی تھی۔ بیوی بچوں کو گھر چھوڑنے کے بعد وہ پھر سے درختوں کی آغوش میں جا بیٹھا۔ آسمان کی رنگت سرخ ہو رہی تھی۔ چاروں طرف سے گرم ہوا کے جھونکے آ رہے تھے۔ درخت بالکل خاموش تھے۔ ہرطرف پتوں کے ڈھیر لگے ہوئے تھےلیکن درخت انہیں کھانے میں دلچسپی نہیں لے رہے تھے۔ اس نے غور سے دیکھا تو سبھی درخت زخمائے ہوئے تھے۔ وہ درد سے چور چور تھے اور ان کے زخموں سے خون نکل رہا تھا۔ تمام درخت مرنے کے قریب تھے لیکن اس نے انہیں وہی خون ( جو ان کے زخموں سے بہہ رہا تھا ) پلا کر بچانے کی کوشش کی۔ دریا بھی خون سے بھرا ہوا تھا لیکن اس بار خون گندا نہیں تھا۔ درختوں سے نکلنے والا خون سیدھا دریا میں گر رہا تھا۔

اب دریا میں موجود انسانی اعضاء آپس میں (خودکار طریقے سے) جڑے جا رہے تھے اور ایک بار پھر سے انسانی روپ دھار رہے تھے۔ مری ہوئی سب مچھلیاں زندہ ہو چکی تھیں۔ وہ مچھلیاں دوبارہ سے تعمیر ہوتی ہوئی انسانی پونگ کو اچھال اچھال کر دریا سے مسلسل باہر پھینک رہی تھیں۔ دوبارہ زندہ ہونے والے سبھی لوگ درختوں کی مرہم پٹی کرنے میں مصروف ہو گئے۔ پرندوں نے گیت گانے شروع کر دیے۔ حاکم ان لوگوں کے ساتھ ٹھنڈی گھاس پر بیٹھ کر آپ بیتی سنارہا تھا۔ اس نے انہیں بتایا کہ میں نے ایک روبوٹ بنایا تھا۔ اس کا مقصد تو گھر کی حفاظت کروانا تھا لیکن میرا گھر بار سب کچھ اس کے دائرہ قوت میں آچکا ہے۔ وہ کئی بار میرے گھر کی چھت کو بھی اڑا چکا ہے۔ میرے بیوی بچوں پر حملہ کر چکا ہے۔ اس دفعہ تو اس نے میری ساری فصل (گندم) اجاڑ دی ہے۔ اس کا مقابلہ کرنا خود موت کو دعوت دینے کے برابر ہے۔

ابھی یہ باتیں ہو ہی رہی تھیں کہ ایک زوردار دھماکہ ہوا۔ حاکم کا گھر اور بیوی بچے سب کچھ ختم ہو گیا۔ ایک بھگدڑ سی مچ گئی۔ درخت پھر سے زخمی ہو گئے۔ ہر طرف بارود کے دھوئیں اٹھ رہے تھے۔ حاکم اور سبھی لوگ گھر سے کچھ دور ہونے کی وجہ سے ہلاک ہونے سے تو بچ گئے لیکن شدید مضروب ہو گئے۔ گھر کی چاروں اطراف میں جو حفاظتی باڑ لگی تھی روبوٹ نے اسے اکھاڑ پھینکا۔ ایک ہی گھر سے درجن کے قریب جنازے اٹھائے گئے ، انہیں سیاہ کفن میں چھپایا گیا تھا۔ رات کی تاریکی میں ان کی قبریں کھود کر انہیں دفن کیا گیا۔ ہر ایک قبر پر ایک کتبہ لگایا گیا۔ ہر کتبے پر ایک جملہ لکھا ہوا تھا کہ” یہ قدرتی موت مرے ہیں” ۔ روبوٹ وہاں سے جا چکا تھااور جاتے وقت سبھی مال و دولت اپنے ساتھ لے گیا۔ اس نے اپنے جیسے ہزاروں روبوٹ تیار کر لیے تھے۔ سب کی رنگت سنہری تھی۔ اس وقت قبرستان میں دو لوگ کسی خاص مقصد کے لیے آئے تھے ۔ ایک کا چہرہ زرد تھا جبکہ دوسرے کا سرخ ۔ زرد چہرے والا شخص قبرستان میں آنے جانے والے ہر شخص پر نظر رکھتا۔ سرخ چہرے والا شخص قبروں کی چھان بین کرتا کہ یہ خاص کتبے کیوں لگائے گئے ہیں۔

درختوں پر گیت گانے والے پرندے اب بین کرتے رہتے ہیں۔ ایک کالے رنگ کا کبوتر سرخ چہرے والے شخص کے پاس آتا اور اس کے کان میں کچھ کہہ کر اڑ جاتا۔ زرد چہرے والے شخص نے یہ تاڑ لیا تھا کہ رات کے پچھلے پہر سنہری روبوٹ ایک چھوٹے لشکر کی شکل میں قبرستان میں آتے ہیں اور کچھ ہی دیر بعد واپس چلے جاتے ہیں۔ حاکم کے بنائے ہوئے روبوٹ نے تمام کالے کبوتروں کو مار دیا۔ زرد اور سرخ چہرے والے دونوں شخص بھی قبرستان سے اپنی جان بچا کر بھاگ گئے۔ درختوں نے پھر سے پتے کھانے شروع کر دیے۔ دریا میں دوبارہ بارود کی بُو والی لاشیں بہتی ہوئی نظر آنے لگ گئی ہیں۔ حاکم نے ایک قبر کھودی اور اس میں لیٹ گیا۔ اپنی قبر پر اس نے ایک خوبصورت کتبہ اپنے ہاتھوں سے سجا دیا۔ اس کتبے پر لکھی تحریر بڑی حیران کن تھی!!!

خدا تمہارا نہیں ہے خدا ہمارا ہے
اسے زمین پہ یہ ظلم کب گوارا ہے
لہو پیو گے کہاں تک ہمارا دھنوانو
بڑھاؤ اپنی دکاں سیم و زر کے دیوانو
نشاں کہیں نہ رہے گا تمہارا شیطانو
ہمیں یقیں ہے کہ انسان اس کو پیارا ہے
خدا تمہارا نہیں ہے خدا ہمارا ہے
اسے زمین پہ یہ ظلم کب گوارا ہے
تحریر : امتیاز احمد

Advertisement