سوانح نگاری ایک بیانیہ صنف ہے۔ زندگی کے واقعات کو تاریخ اور ترتیب کے ساتھ لکھنا سوانح نگاری ہے۔ سوانح عمری میں جس شخص کی زندگی کے حالات لکھنا مقصود ہوں، اس کے مزاج اور اس کی نفسیات اور اصل فطرت کو بھی سوانح نگار سمجھنے کی کوشش کرتا ہے۔

سوانح کا موضوع کسی ایسی شخصیت کو بنایا جاتا ہے جس نے ادبی ، سیاسی یا سماجی سطح پر کوئی بڑا کارنامہ انجام دیا ہو لیکن سوانح نگار صرف شخصیت ہی کو موضوع نہیں بناتا بلکہ اس شخص کے عہد ، تہذیبی و ثقافتی نیز سیاسی وسماجی صورتحال پر بھی نگاہ ڈالتا ہے اور اس کا تجزیہ کرتا ہے۔

سوانح نگار غیر معمولی واقعات کے بیان کے علاوہ صاحب سوانح کے وطن ، خاندانی پس منظر، بچپن لڑکپن اور تعلیم کے مراحل پر بھی خصوصی توجہ کرتا ہے۔ اسی طرح کسب معاش کی جدو جہد ملکی وملی خدمات ، نظریات اور اس کے عقائد بھی زیر بحث آتے ہیں۔

اپنے عہد کے اہم وغیر اہم رجحانات یا تحریکات سے اس کی وابستگی ، اپنے عہد کے دوسری اہم علمی و ادبی شخصیات سے اس کے تعلق کی نوعیت، اس کی رفاقتیں ، رقابتیں اور اختلافات بھی کسی شخص اور شخصیت کو سمجھنے میں معاون ہوتے ہیں۔ ان سرگرمیوں پر بے لاگ رائے بھی دی جاتی ہے۔

اردو کی اہم سوانح نگاریوں میں یادگار غالب اور حیات جاوید ( حالی ) ، الفاروق’ اور ‘سیرۃ النبی (شبلی)، سیرۃ عائشہ (سید سلیمان ندوی ) ، وقار حیات (اکرام اللہ ندوی ) ، غالب نامہ ( شیخ محمد اکرام )، محمد علی ذاتی ڈائری ( عبدالماجد دریابادی ) اور زندہ رود ( جاوید اقبال ) وغیرہ شامل ہیں۔