سورۃ الانفال آیت 38 تا 44 سوالات و جوابات

0
قُل لِّـلَّذِيۡنَ كَفَرُوۡۤا اِنۡ يَّنۡتَهُوۡا يُغۡفَرۡ لَهُمۡ مَّا قَدۡ سَلَفَۚ وَاِنۡ يَّعُوۡدُوۡا فَقَدۡ مَضَتۡ سُنَّتُ الۡاَوَّلِيۡنَ‏ ﴿۳۸﴾

(اے پیغمبر) کفار سے کہہ دو کہ اگر وہ اپنے افعال سے باز آجائیں تو جو ہوچکا وہ انہیں معاف کردیا جائے گا۔ اور اگر پھر (وہی حرکات) کرنے لگیں گے تو اگلے لوگوں کا (جو) طریق جاری ہوچکا ہے (وہی ان کے حق میں برتا جائے گا)۔

وَقَاتِلُوۡهُمۡ حَتّٰى لَا تَكُوۡنَ فِتۡنَةٌ وَّيَكُوۡنَ الدِّيۡنُ كُلُّهٗ لِلّٰهِ‌ۚ فَاِنِ انْـتَهَوۡا فَاِنَّ اللّٰهَ بِمَا يَعۡمَلُوۡنَ بَصِيۡرٌ‏ ﴿۳۹﴾

اور ان لوگوں سے لڑتے رہو یہاں تک کہ فتنہ (یعنی کفر کا فساد) باقی نہ رہے اور دین سب خدا ہی کا ہوجائے اور اگر باز آجائیں تو خدا ان کے کاموں کو دیکھ رہا ہے۔

وَاِنۡ تَوَلَّوۡا فَاعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰهَ مَوۡلٰٮكُمۡ‌ؕ نِعۡمَ الۡمَوۡلٰى وَنِعۡمَ النَّصِيۡرُ‏ ﴿۴۰﴾

اور اگر روگردانی کریں تو جان رکھو کہ خدا تمہارا حمایتی ہے۔ (اور) وہ خوب حمایتی اور خوب مددگار ہے۔

وَاعۡلَمُوۡۤا اَنَّمَا غَنِمۡتُمۡ مِّنۡ شَىۡءٍ فَاَنَّ لِلّٰهِ خُمُسَهٗ وَ لِلرَّسُوۡلِ وَلِذِىۡ الۡقُرۡبَىٰ وَالۡيَتٰمٰى وَالۡمَسٰكِيۡنِ وَابۡنِ السَّبِيۡلِۙ اِنۡ كُنۡتُمۡ اٰمَنۡتُمۡ بِاللّٰهِ وَمَاۤ اَنۡزَلۡنَا عَلٰى عَبۡدِنَا يَوۡمَ الۡفُرۡقَانِ يَوۡمَ الۡتَقَى الۡجَمۡعٰنِ‌ؕ وَاللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَىۡءٍ قَدِيۡرٌ‏ ﴿۴۱﴾

اور جان رکھو کہ جو چیز تم (کفار سے) لوٹ کر لاؤ اس میں سے پانچواں حصہ خدا کا اور اس کے رسول کا اور اہل قرابت کا اور یتیموں کا اور محتاجوں کا اور مسافروں کا ہے۔ اگر تم خدا پر اور اس (نصرت) پر ایمان رکھتے ہو جو (حق وباطل میں) فرق کرنے کے دن (یعنی جنگ بدر میں) جس دن دونوں فوجوں میں مڈھ بھیڑ ہوگئی۔ اپنے بندے (محمدﷺ) پر نازل فرمائی۔ اور خدا ہر چیز پر قادر ہے۔

اِذۡ اَنۡتُمۡ بِالۡعُدۡوَةِ الدُّنۡيَا وَهُمۡ بِالۡعُدۡوَةِ الۡقُصۡوٰى وَ الرَّكۡبُ اَسۡفَلَ مِنۡكُمۡ‌ؕ وَلَوۡ تَوَاعَدْتُّمۡ لَاخۡتَلَفۡتُمۡ فِى الۡمِيۡعٰدِ‌ۙ وَلٰـكِنۡ لِّيَقۡضِىَ اللّٰهُ اَمۡرًا كَانَ مَفۡعُوۡلاً ۙلِّيَهۡلِكَ مَنۡ هَلَكَ عَنۡۢ بَيِّنَةٍ وَّيَحۡيٰى مَنۡ حَىَّ عَنۡۢ بَيِّنَةٍ‌ؕ وَاِنَّ اللّٰهَ لَسَمِيۡعٌ عَلِيۡمٌۙ‏ ﴿۴۲﴾

جس وقت تم (مدینے سے) قریب کے ناکے پر تھے اور کافر بعید کے ناکے پر اور قافلہ تم سے نیچے (اتر گیا) تھا۔ اور اگر تم (جنگ کے لیے) آپس میں قرارداد کرلیتے تو وقت معین (پر جمع ہونے) میں تقدیم وتاخیر ہو جاتی۔ لیکن خدا کو منظور تھا کہ جو کام ہو کر رہنے والا تھا اسے کر ہی ڈالے تاکہ جو مرے بصیرت پر (یعنی یقین جان کر) مرے اور جو جیتا رہے وہ بھی بصیرت پر (یعنی حق پہچان کر) جیتا رہے۔ اور کچھ شک نہیں کہ خدا سنتا جانتا ہے۔

اِذۡ يُرِيۡكَهُمُ اللّٰهُ فِىۡ مَنَامِكَ قَلِيۡلاً‌ ؕ وَّلَوۡ اَرٰٮكَهُمۡ كَثِيۡرًا لَّـفَشِلۡتُمۡ وَلَـتَنَازَعۡتُمۡ فِىۡ الۡاَمۡرِ وَلٰـكِنَّ اللّٰهَ سَلَّمَ‌ؕ اِنَّهٗ عَلِيۡمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوۡرِ‏ ﴿۴۳﴾

اس وقت خدا نے تمہیں خواب میں کافروں کو تھوڑی تعداد میں دکھایا۔ اور اگر بہت کر کے دکھاتا تو تم لوگ جی چھوڑ دیتے اور (جو) کام (درپیش تھا اس) میں جھگڑنے لگتے لیکن خدا نے (تمہیں اس سے) بچا لیا۔ بےشک وہ سینوں کی باتوں تک سے واقف ہے۔

وَ اِذۡ يُرِيۡكُمُوۡهُمۡ اِذِ الۡتَقَيۡتُمۡ فِىۡۤ اَعۡيُنِكُمۡ قَلِيۡلاً وَّيُقَلِّلُكُمۡ فِىۡۤ اَعۡيُنِهِمۡ لِيَـقۡضِىَ اللّٰهُ اَمۡرًا كَانَ مَفۡعُوۡلاً ؕ وَاِلَى اللّٰهِ تُرۡجَعُ الۡاُمُوۡرُ‏ ﴿۴۴﴾

اور اس وقت جب تم ایک دوسرے کے مقابل ہوئے تو کافروں کو تمہاری نظروں میں تھوڑا کر کے دکھاتا تھا اور تم کو ان کی نگاہوں میں تھوڑا کر کے دکھاتا تھا تاکہ خدا کو جو کام منظور کرنا تھا اسے کر ڈالے۔ اور سب کاموں کا رجوع خدا کی طرف ہے۔

اَلکَلِیَماتُ وَ التَّرَکِیبُ
مَضَتۡ گزرچکی
يَوۡمَ الۡفُرۡقَانِ فیصلے کے دن
بِالۡعُدۡوَةِ الدُّنۡيَا وادی کے اس جانب و کنارے
بِالۡعُدۡوَةِ الۡقُصۡوٰى اس جانب، اس کنارے
الرَّكۡبُ قافلہ
لَّـفَشِلۡتُمۡ تم ضرور ہمت بار جاتے، نامردی دکھاتے
یُقَلِّلُ کم کرکے دکھاتا ہے، تھوڑا کرکے

سوال(۱) : ایک لائن کا جواب تحریر کریں:

سوال : ان آیات میں کفار کو معافی کس شرط پر دی جارہی ہے؟

جواب: کفار کو معافی اس شرط پر دی جارہی ہے کہ وہ اپنے افعال سے باز آجائیں۔

سوال : اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو کب تک کفار کے خلاف لڑنے کا حکم دیا ہے؟

جواب: اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو کفار کے خلاف لڑنے کا حکم دیا ہے جب تک کہ ان کا کفر کا فساد ختم نہ ہو جائے۔

سوال : جب کفار بعید کے ناکے پر تھے تب مسلمان کہاں تھے؟

جواب: جب کفار بعید کے ناکے پر تھے تب مسلمان مدینے کے ناکے پر تھے۔

سوال : اگر مسلمان اور کفار جنگ کے لیے قرارداد کرلیتے تو کیا ہوتا؟

جواب: اگر مسلمان اور کفار جنگ کے لئے قرار داد کر لیتے تو وقت معین میں تقدیم و تاخیر ہو جاتی۔

سوال : اللہ تعالیٰ نے خواب میں کافروں کی کم تعداد کیوں دکھائی تھی؟

جواب: اللہ تعالیٰ نے خواب میں کافروں کی کم تعداد اس لیے دکھائی تھی کہ مسلمان جی چھوڑ دیتے۔

سوال(۲) : پانچ سے چھ لائن پر مشتمل جوابات تحریر کریں:

سوال۱: اس سبق میں غنیمت کی تقسیم کے بارے میں کیا حکم دیا گیا ہے؟

جواب:جب مسلمانوں کو جنگ میں فتحیابی نصیب ہوئی تو کفار کے لشکر سے جو مال مسلمانوں کے حصے میں آیا اس پر اللہ تبارک تعالیٰ نے حضورﷺ کو تقسیم کرنے کا حکم دیا۔ مال غنیمت کو پانچ برابر حصوں میں تقسیم کیا گیا۔ غنیمت کے پانچ حصوں میں سے چار حصے مجاہدین و شہداء میں تقسیم کیے گئے۔ جبکہ پانچواں حصہ اللہ تبارک تعالیٰ کا ہے۔ جس سے آپﷺ نے فلاحی کام سرانجام دیئے۔ آپﷺ نے اس مال کو یتمیوں مسکینوں،عزیز و اقارب اور مسافروں پر خرچ کیا۔

سوال۲: اللہ تعالیٰ نے غزوہ بدر میں مسلمانوں کی کامیابی کے لئےکس کس خصوصی انعام و احسان کا ذکر فرمایا ہے؟

جواب:غزوہ بدر کے موقع پر مسلمان تعداد و ہتھیار کے حساب سے کم تھے۔ کفار کے بڑے لشکر کی شان و شوکت تھی جو پوری تیاری سے میدان جنگ میں آئے تھے۔ مگر جماعت ربانی کو تائید ربانی حاصل تھی جس سے مسلمانوں کی غیب سے مدد ہوئی۔ جس دن جنگ ہونی تھی اس سے ایک رات قبل اللہ تبارک تعالیٰ نے بارش کر دی جس سے مسلمانوں نے سیر ہو کر پانی پیا جمع کیا اور ان سے ناپاکی دور ہو گئی۔ دوسرا انعام اللہ تبارک تعالیٰ کی جانب سے مسلمانوں کے لیے نیند طاری کرنا تھا۔ تاکہ مسلمان اچھی گہری نیند سو جائیں تاکہ ان کی تھکاوٹ ختم ہو اور وہ میدان جنگ میں دشمن کو زیر کر سکیں۔ اللہ تبارک تعالیٰ کا تیسرا انعام یہ تھا کہ خواب میں مسلمانوں کو کفار مکہ کی تعداد کم دکھائی گئی۔ جس سے مسلمانوں کے حوصلے اور بڑھ گئے۔

سوال۳: مندرجہ ذیل عبارت کا مفہوم بیان کیجئے:

وَقَاتِلُوۡهُمۡ حَتّٰى لَا تَكُوۡنَ فِتۡنَةٌ وَّيَكُوۡنَ الدِّيۡنُ كُلُّهٗ لِلّٰهِ‌

ترجمہ:

اور ان لوگوں سے لڑتے رہو یہاں تک کہ فتنہ (یعنی کفر کا فساد) باقی نہ رہے
مفہوم:قرآن میں بیشر جگہ پر جہاد کا ذکر آیا ہے۔ اللہ تبارک تعالیٰ نے جہاد ہر مومن مرد پر واجب کیا ہے۔ اسی لیے مسلمانوں کو میدان جنگ میں کفار کے گروہ کے سامنے جانے کا حکم دیا۔ اللہ تعالیٰ نے جنگ بدر کے موقع پر کفار کی بڑھتی ہوئی سرکشی کے جواب میں مسلمانوں کو حکم دیا کہ ان منکرین توحید و رسالت سے جہاد کرو جب تک کہ ان کو اللہ تعالیٰ کی حقانیت سے آشنا نہ کر لو۔ مسلمانوں کے حوصلے بلند کرکے اللہ تعالیٰ نے یہ حکم دیا کہ کفار کو راہ راست پر لانے تک ان سے برسرپیکار رہو۔ کفار مسلمانوں کی کم تعداد سے دھوکہ کھا کر اس وہم میں مبتلا تھے کہ وہ کثیر تعداد سے غلبہ پا لیں گے جس سے ان کی سرکشی میں اضافہ ہوا۔پھر خداتعالیٰ کی تائید سے مسلمانوں کو انعامات عطا ہوئے اور فرشتوں کی مدد سے فتحیابی یقینی ہوئی اور اللہ کا نام بلند ہونے سے کفر کا ختمہ ہوا۔