Advertisement
سچا جھوٹا نیک بھی پل میں برا ہو جائیگا
کیا خبر کس کو یہاں کب کیا سے کیا ہو جائیگا
کون ظالم کون عابد آپ کہنے والے کون
نیک و بد کا فیصلہ روز جزا ہو جائیگا
مال و دولت مرتبہ جب پاس ہوگا آپکے
جو پرایا ہو گیا ہے آپ کا ہو جائیگا
نیک کاموں سے بنیں گے لوگ تیرے معتقد
ظلم کاری سے جہاں میں دبدبہ ہو جائیگا
مال و دولت جاہ و حشمت پر نہ تو مغرور ہو
دیکھتے ہی دیکھتے سب کچھ فنا ہو جائیگا
کس کو کہتے ہیں غریبی کرب کس کا نام ہے
مل غریبوں سے کبھی تو تجربہ ہو جائیگا
ان کے دربار ولا کی شان ہیں فیضان ہم
ہم نہیں ہوں گے تو کوئی دوسرا ہو جائیگا
Advertisement