Advertisement
  • شاعر : سچل سرمست
  • ترجمہ : آفاق صدیقی۔

تعارفِ غزل

یہ شعر ہماری درسی کتاب کی غزل سے لیا گیا ہے۔ اس غزل کے شاعر کا نام سچل سرمست ہے۔ اس غزل کو سندھی سے اردو میں آفاق صدیقی نے ترجمہ کیا ہے۔

Advertisement

تعارفِ شاعر

سچل سرمست سندھی زبان کے مشہور صوفی شاعر تھے۔ عرف عام میں شاعر ہفت زبان کہلاتے ہیں کیوں کہ آپ کا کلام سات زبانوں میں ملتا ہے۔ عربی ، سندھی ، سرائیکی ، پنجابی ، اردو ، فارسی اور بلوچی۔ سچل سرمست کی پیدائش 1739ء میں سابق ریاست خیر پور کے چھوٹے گاؤں درازا میں ایک مذہبی خاندان میں ہوئی۔

Advertisement
مثلِ طائر ہیں میرے خیال و گماں
میری پرواز کا نام ہے لامکاں

اس شعر میں شاعر نے خود کو پرندوں سے تشبہہ دی ہے کہ جیسے پرندے ہر وقت اڑتے رہتے ہیں، ویسے ہی میرا بھی ذہن خیالات میں ڈوبا رہتا ہے اور میری سوچ کا محور اللہ ﷻ کی ذات ہے اورے وہ راز جو زمین پر ہیں میں ان کی کھوج میں رہتا ہوں، میری سوچوں کی پرواز کی کوئی منزل نہیں ہے۔

Advertisement
موج در موج ایک بحر ہے بیکراں
مجھ کو پہنچا دیا میرے دل نے کہاں

اس شعر میں شاعر کہتے ہیں کہ جیسے سمندر کی لہریں اٹھتی ہیں اور پھر پھیل جاتی ہیں ویسے میرے دل وہ دماغ میں بھی اللہ ﷻ کی تلاش کی لہریں اٹھتی ہیں اور پھلتی چلی جاتی ہیں۔ اور اس تلاش کی بے چینی مجھے کہیں سکون سے قیام نہیں کرتی اور میں در در بھٹکتا ہوں میرے دل کا یہ عالم جانے مجھے کہاں تک لے آیا ہے۔

بے خبر ہوں میں آغاز و انجام سے
چار سو ہے کوئی سیلِ آبِ رواں

اس شعر میں شاعر کہتے ہیں کہ اللہ کی محنت میں ، میں اس قدر گم ہوں کہ میرے اردگرد کی مجھے کوئی خبر ہی نہیں اللہ کی یاد میں ڈوبا رہتا ہوں نہ مجھے کسی آغاز کی پرواہ ہے نا کسی انجام کی فکر ہے مجھے دنیا کی کسی چیز سے نہ لگاؤ ہے نہ اس کی خوبصورتی مجھے متاثر کرتا ہے۔

Advertisement
میں بھی اس بحر کی موج سرگشتہ ہوں
ہے اسی کی عطا میرا نام و نشاں

اس شعر میں شاعر عاجزی کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں۔ دنیا میں اللہ نے بے شمار لوگ پیدا کئے ہیں ہر رنگ و نسل کے میں بھی ان ہی لوگوں میں ایک ہوں۔ اور اگر دنیا میں میرا کوئی نام و مقام بنا ہے تو وہ صرف اللہﷻ کی ذات کا کرم ہے مجھےپر کہ وہ جیسے چاہے عطا کردیتا ہے۔

محو حیرت ہوں لیکن یہ احساس ہے
مل گئے مجھ کو آزادی جسم و جاں

اس شعر میں شاعر کہتے ہیں کے اللہ کے کرم پر میں حیران ہوں کہ اللہ نے دنیا بنائی انسان بنائے آب و نباتات بنائے غرض ہر شے تخلیق اور انسان میں جان ڈال کر اس کو اپنی مرضی مطابق جینے کا حق بھی عطا کیا اوراللہ کے اس کرم و عطا کا مجھے احساس بھی ہے جس کا جتنا شکر کیا جائے کم ہوگا۔

Advertisement
Advertisement

Advertisement

Advertisement