Advertisement

تعارفِ سبق

سبق ”سیانا بادشاہ“ کے مصنف کا نام ”ڈاکٹر نبی بخش خان بلوچ“ ہے۔ یہ سبق کتاب ” لوک کہانیاں“ سے ماخوذ کیا گیا ہے۔

Advertisement

تعارفِ مصنف

ڈاکٹر نبی بخش خان بلوچ سندھ کے ایک گاؤں جعفر خان لغاری ضلع سانگھڑ میں ۱۹۱۷ء میں پیدا ہوئے۔ آپ ابھی چھے ماہ کے تھے کہ آپ کے والد کا انتقال ہوگیا۔ آپ کی تربیت آپ کی والدہ اور چچا نے کی۔ انھوں نے ایم اے علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی اور ایجوکیشن میں کولمبیا یونی ورسٹی سے پی ایچ ڈی کیا۔

Advertisement

ڈاکٹر صاحب نے قیامِ پاکستان کے بعد علامہ آئی آئی قاضی کی سربراہی میں ”یونی ورسٹی آف سندھ“ کی ترقی اور تعمیر میں اہم کردار ادا کیا۔ انھوں نے ”اردو سندھی لغت اور سندھی اردو لغت“ ڈاکٹر غلام مصطفی کے ساتھ تیار کی۔

Advertisement

آپ نے شاہ عبداللطیف پر تحقیقی مجلے، سندھی موسیقی، سندھی ادب کی تاریخ اور لوک ادب پر کتابیں لکھی ہیں۔ آپ نہ صرف سندھی بلکہ انگریزی ، عربی ، فرسی ، سرائیکی اور اردو کے بھی ماہر تھے۔ آپ کی وفات ۲۰۱۱ء میں ہوئی۔ سندھ کے اس عظیم فرزند کو ان کی وصیت کے مطابق ”یونی ورسٹی آف سندھ“ میں علامہ آئی آئی قاضی کی قبر کے برابر میں دفن کیا گیا ہے۔ موجودہ کہانی ”سیانا بادشاہ“ آپ کی تحریر کردہ کتاب لوک کہانیاں سے لی گئی ہے۔

سوال نمبر 1: اس سبق کا خلاصہ اپنے الفاظ میں تحریر کیجیے۔

اس سبق میں مصنف ایک ساہوکار کا ذکر کرتے ہیں جو بہت بیمار ہوتا ہے۔ وہ سوچتا ہے کہ میرے مرنے کے بعد میرے چاروں بیٹے میرے ملکیت کے لیے لڑ کر الگ ہوجائیں اس سے بہتر یہ ہے کہ میں ان میں اپنی ملکیت برابر تقسیم کردوں۔ وہ چار دیگ لے کر اس میں اپنی ملکیت ڈالتا ہے اور ان دیگوں کو اپنی چارپائی کے پایوں کے نیچے گاڑھ دیتا ہے۔ پھر وہ اپنے بیٹوں سے کہتا ہے تم لوگ ایک ایک پایا مقرر کرلو اور میرے مرنے کے بعد جس کو جو ملے وہ اسے رکھ لے۔ چاروں بیٹے قرعہ اندازی کر کے ایک ایک پایا مقرر کرلیتے ہیں۔

Advertisement

جب ساہوکار مرتا ہے تو اس کے بیٹے اپنی اپنی دیگ نکالتے ہیں، پہلے بیٹے کو ہیرے اور جواہرات سے بھری دیگ ملتی ہے تو وہ خوش ہوجاتا ہے۔ دوسرے بیٹے کو سونے سے بھری دیگ ملتی ہے ، لیکن تیسرے اور چوتھے بیٹے کی دیگوں سے مٹھی بھر مٹی اور چند ہڈیاں نکلتی ہیں۔ وہ دونوں بھائی یہ دیکھ کر حیران ہوجاتے ہیں اور اپنے بھائیوں سے سونے اور جواہرات میں حصہ مانگتے ہیں۔ ان کے بھائی کہتے ہیں یہ پائے تم لوگوں نے خود مقرر کیے تھے تو اب ہم تمھیں اپنے حصے میں سے کیوں دیں۔

غرض تکرار بڑھتی جاتی ہے اور بات چار معتبر لوگوں تک پہنچتی ہے۔ وہ چاروں بھی اس مسئلے کا حل نہیں کرپاتے اور مسئلہ بادشاہ کے دربار میں جا پہنچتا ہے۔ بادشاہ مسئلے پر غور کرتا ہے اور پھر کہتا ہے کہ تمہارے باپ نے بالکل درست طریقے سے اپنی ملکیت کو تقسیم کیا ہے۔ تم میں سے جسے ہیرے ملے ہیں وہ ہیروں کا مالک ہے اور جسے سونے کی دیگ ملی ہے وہ اس سونے کا مالک ہے۔ جسے مٹھی بھر مٹی کی دیگ ملی ہے وہ اپنے باپ کی تمام زمینوں کا مالک ہے اور جسے ہڈیوں والی دیگ ملی ہے وہ چوپائے مال کا مالک ہے۔

Advertisement

بادشاہ کے اس انصاف پر چاروں بھائی خوش ہوجاتے ہیں اور اپنے اپنے مال سمیت ایک ساتھ ہنسی خوشی زندگی بسر کرنے لگتے ہیں۔

اس سبق کے سوالوں کے جوابات کے لیے یہاں کلک کریں۔

سوال نمبر 2 :درج ذیل خالی جگہیں پُر کیجیے :

(الف) ایک ساہوکار کے (چار) بیٹے تھے۔
(۱)تین
(۲)چار
(۳)پانچ
(۴)چھے

Advertisement

(ب) چار دیگیں (چارپائی کے) پایوں کے نیچے دفن ہیں۔
(۱)پلنگ کے
(۲)چارپائی کے ✔
(۳)کرسی کے
(۴)میز کے

(ج) ہر ایک نے (قرعہ اندازی) کرکے اپنا اپنا پایا مقرر کرلیا۔
(۱)اتحاد
(۲)جھگڑا
(۳)قرعہ اندازی ✔
(۴)یکجہتی

Advertisement

(د) ایک میں صرف مٹھی بھر (مٹی) پڑی ہے۔
(۱)ریت
(۲)دال
(۳)مٹی
(۴)گندم

سوال نمبر 3 : ذیل کے کالم "الف” کو کالم "ب”سے ملائیے :

الفب
ساہوکار نے اپنی ملکیتبیٹوں میں تقسیم کردی۔
دوسری دیگسونے سے بھری ہے۔
جسے مٹی کی دیگ ملی وہباپ کی زمین سنبھالے۔
چاروں بھائی آپس میںپیار محبت سے رہنے لگے۔
جسے ہڈیاں ملیں وہچوپائے مال کا مالک ہے۔

سوال نمبر 4 : دیے ہوئے لفظی اشاروں کی مدد سے کہانی مکمل کیجیے:

سبکتگین، غلام، شکار، ہرن کا بچہ، پیچھے دیکھنا، ہرنی، رحم، چھوڑنا، خواب، بزرگ، سلطنت، موت، انتخاب، تخت۔

Advertisement

کہانی
ایک روز سبکتگین اور اس کے غلام نے شکار کرنے کے لیے جنگل کا رخ کیا۔ وہاں انھیں ہرن کا بچہ نظر آیا، وہ اس کا شکار کرنے لگے جب انھیں پیچھے سے ایک آواز سنائی دی۔ انھوں نے پیچھے دیکھا تو وہاں ہرنی کھڑی تھی اور اس کی آنکھوں میں درد نظر آرہا تھا۔ سبکتگین کو ہرنی پر رحم آگیا اور اس نے ہرن کے بچے کا شکار کرنے کے بجائے اسے چھوڑ دیا۔ اسی رات جب وہ شکار سے گھر لوٹے تو سبکتگین نے خواب میں ایک بزرگ کو دیکھا جنہوں نے اسے بتایا کہ آج تمھیں سلطنت اور موت میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا تھا۔ اگر تم ہرنی کے بچے کو مار دیتے تو آج تم بھی مر جاتے لیکن تم نے اس پر رحم کر کے تخت و تاج کا انتخاب کیا ہے۔ اگلے روز سبکتگین نے یہ خواب اپنے غلام کو بھی بتایا اور اسے بھی انعام سے نوازا۔

سوال نمبر 5 : درج ذیل درست بیانات کے آگے (درست) کا نشان لگائیے :

  • 1) ساہوکار نے سکرات کے عالم میں بیٹوں کو بلایا۔ (✔)
  • 2) ساہوکار نے ساری ملکیت دو دیگوں میں ڈالی۔(✖)
  • 3) چاروں بیٹوں میں ملکیت برابر تقسیم ہوئی۔ (✔)
  • 4) بادشاہ نادان تھا۔ (✖)
  • 5) بات چار معتبر لوگوں تک پہنچی۔ (✔)
Advertisement

Advertisement

Advertisement