غزل

شب فرقت میں یاد اس بے خبر کی بار بار آئی
بھلانا ہم نے بھی چاہا مگر بے اختیار آئی
تری محفل سے ہم آئے، مگر با حال زار آئے
تماشا کامیاب آیا، تمنا بے قرار آئی
جو ان کے حسن سے بھی بڑھ گئی ہے بے قراری
تڑپ ایسی کہاں سے حسن میں پروردگار آئی
یہ کیا اندھیر ہے اے دشمن اہل وفا تجھ سے
ہوس نے کام جاں پایا،محبت شرمسار آئی
الٰہی رنگ یہ کب تک رہے گا ہجر جاناں میں
کہ روز بے دلی گزرا تو شام انتظار آئی
بجا ہیں کوششیں ترکِ محبت کی مگر حسرتؔ
جو پھر بھی دل نوازی پر وہ چشم سحر کار آئی

تشریح

شب فرقت میں یاد اس بے خبر کی بار بار آئی
بھلانا ہم نے بھی چاہا مگر بے اختیار آئی

محبوب عاشق سے تغافل برتتا ہے۔اس سے بے خبر رہتا ہے۔اب شاعر کہتا ہے کہ جدائی کی رات میں اس بے خبر محبوب کی یاد بڑی شدت سے آتی ہے۔ہم نے اسے لاکھ بھلانے کی کوشش کی مگر اس کی یاد پر ہمارا کوئی اختیار نہیں چلا اور وہ شدت کے ساتھ آئی۔

تری محفل سے ہم آئے، مگر با حال زار آئے
تماشا کامیاب آیا، تمنا بے قرار آئی

شاعر محبوب سے مخاطب ہو کر کہتا ہے کہ تیری بزم سے ہم آئے مگر کچھ آسودہ حال نہیں بلکہ بری حالت ہے۔تماشا تو کامیاب ہوا کہ دید تو نصیب ہوئی مگر آرزو پوری نہیں ہوئی۔گویا تمنا بے قراری کی حالت لیے ہوئے لوٹی۔

جو ان کے حسن سے بھی بڑھ گئی ہے بے قراری
تڑپ ایسی کہاں سے حسن میں پروردگار آئی

شاعر کہتا ہے کہ یا خدا محبوب کے حسن میں یہ تڑپ اضطراب کہاں سے آگئی ہے جو بےقراری میں خود حسن سے بھی دو قدم آگے بڑھتی ہوئی لگتی ہے۔

یہ کیا اندھیر ہے اے دشمن اہل وفا تجھ سے
ہوس نے کام جاں پایا،محبت شرمسار آئی

شاعر محبوب سے مخاطب ہو کر کہتا ہے کہ وفا کرنے والوں کے دُشمن محبوب یہ کیسا ستم ہے،یہ کیسی ناانصافی ہے کہ اہل ہوس کی آرزو تو یہاں پوری ہو جاتی ہے اور اہل محبت ناکام وشرمسار آتے ہیں۔

الٰہی رنگ یہ کب تک رہے گا ہجر جاناں میں
کہ روز بے دلی گزرا تو شام انتظار آئی

شاعر کہتا ہے کہ یا خدا محبوب کی جُدائی کا یہ رنگ آخر کب تک رہے گا کہ دن تو بے دلی میں گزرتا ہے اور ہر شام انتظار کے ساتھ آتی ہے۔گویا نہ دن کو راحت ہے اور نہ شب کو سکون ہے۔

بجا ہیں کوششیں ترکِ محبت کی مگر حسرتؔ
جو پھر بھی دل نوازی پر وہ چشم سحر کار آئی

غزل کے مقطع میں شاعر کہتا ہے کہ اے حسرتؔ محبت میں جو دُشواریاں اور ناکامیاں ہوئی ہیں ان کو دیکھتے ہوئے اس کو ترک کرنے کی کوششیں بجا ہیں،درست ہیں لیکن خدا نخواستہ اگر وہ جادو کرنے والی محبوب کی آنکھ اگر دل نوازی پر آئی تو کیا ہوگا۔کیا پھر یہ کوششیں کامیاب ہوں گی۔

Advertisements