یوں تو گوادر شہر اپنے موسم ،ماحول، رہن سہن ،سمندری خزانہ ،کوہ باتیل اور شریف النفس و بے ضرر ریائشیوں کی وجہ سے نہ صرف بلوچستان کے دیگرشہروں سے ایک منفرد اور ممتاز مقام رکھتا ہے،بلکہ‌ مساجد کی تعداد کی وجہ سے بھی اپنا ایک‌الگ اور منفرد اعزاز رکھتا ہے،اگر مساجد کی تعداد کی بات کریں تو میرے خیال میں شال(کوئٹہ) کے بعد مساجد کی تعداد کے لحاظ سے گوادر شہرکا ہی نمبر آتا یےجن کی اندازاً تعداد پرانا ملابند(ڈیپ سی پورٹ علاقہ )سے لے کر نیو ٹاون تک تقر یباً 64 کے قریب یا اس سے زیادہ بنتی ہے،جو اس بات کی غمازی کرتی ہے ،کہ یہاں کے باسی شروع سے ہی مذہبی میلانات و رحجانات رکھنے والے لوگ ہیں،باوجود اس کے کہ وہ غربت اور افلاس کی زد میں رہے ،لیکن اپنے لئے مساجد کی تعمیر خود ہی کرتے رہے،وہ تو بہت بعد میں جاکر 1994 _95 کے لگ بھگ ،ملا عبدالباقی اور اس جیسے دوسرے دیندار لوگوں کی وجہ سے قبرستان والی پرانی مسجد کو شہید کرکے،ایک نئی مسجد کی بنیاد ڈالی گئی اور یہیں سے گوادر میں عام عوام کے چندوں سے مساجد کی تعمیرات کا ایک سلسلہ شروع ھوا،جو کہ دو اور مساجد کی تعمیرات تک کئی سال تک جاری و ساری رہا،جس کا ایک غلط فائدہ آج بھی کچھ لوگ دکانوں اور کوچز میں جاکر مسجد کے نام پر چندہ وصولی کو اپنا پیدائشی حق سمجھتے ھوئے ،کررہے ہیں،لیکن بحرحال ایک بات تو طے ہے کہ پہلی دفعہ صرف اور گوادر کے رہائشیوں کے چندے کے پیسوں سے تین شاندار مساجد،فیضان مدینہ،ملا موسیٰ مسجد اور فیضی مسجد کی صورت ظہور پذیر ہوئیں۔پھر اسکے بعد اور موجودہ دور میں حاجی محمد ناگمان کی زیر نگرانی خیلج کے کچھ مخیر بلوچ یا غیر بلوچ کی مالی معاونت سے بھی کچھ مساجد کی تعمیر ھوئی اور ماشااللہ اب بھی ھورہی ہیں۔

یہاں اس بات کی وضاحت بھی ضروری ھے کہ گوادر کی تمام مساجد ابتداء ہی سے ایک طرح سے جامعہ مساجد ہیں ،کیوں کہ تمام مساجد میں جمعہ کی نماز ھوتی ہے،ماسوائے چند ایک انتہائی چھوٹے مساجد کے اور اسی کے ساتھ گوادر والے نکاح اور میت کے پٌرس (تعزیت )کے لئے بھی مساجد کو ہی ترجیح دیتے ہیں۔

اب آئیں گوادر کی مساجد کو قدامت اور جدیدیت کی وجہ سے دو الگ الگ کیٹیگریز میں تقسیم کرتے ہیں اور ساتھ ہی یہ جائزہ بھی لیتے ہیں کہ کن کن مساجد میں رمضان المبارک کی تراویح میں تلاوت قرآن (ختم قرآن )کا اہتمام ہوتا ہے اور کن میں 20 رکعات تراویح میں عمہ پارہ کی چھوٹی آیات سے تراویح کا اہتمام ہوتا ہے۔تو یہاں یہ بات پتہ چلتی ہے کہ گوادر میں چونکہ ابتدائی دور (1947 ء)سے ایک آدھ مدارس کی وجہ سے حافظ قرآن کی کمیابی کی وجہ سے رمضان المبارک کی تراویح میں قران کی قراءت کا اہتمام کم دیکھنے میں آیا اور غالباً قرآن کی قرات کی ابتداء 1991-92میں طوبی مسجد میں اس دور کے دو حفاظ قاضیوں ،جو غالباً پنجگور کے تھے ،کہ جن میں ایک قاضی عبدالقادر اور دوسرے قاضی نامعلوم تھے ،سے مسجد مزکورہ تراویح میں قرآت قرآن کا آغاز ھوا،پھر اگلے کچھ سالوں میں جیونی شہر سے حافظ قرآن بلواکر اس سلسلے کو جاری رکھا گیا،جوآج بھی جاری و ساری ہے،جبکہ اس دوران مولانا محمد ابراہیم مرحوم کے کماڈی وارڈمیں موجود مدرسہ سے بھی حفاظ فارغ ھوئے،جن میں سے ایک حافظ آج بھی عثمانیہ مسجد میں بطور امام و قاری اپنا دینی فریضہ نبھا رہا ہے۔

اب آئیے قدیم اور جدید مساجد کا ایک مختصر جائزہ لیں:
نوٹ:اس سلسلے میں اگر درج معلومات میں اگر کمی بیشی پائی جائے تو پیشگی معزرت،اور اس سلسلے میں آنے والی مزید گراں قدر معلومات بہم پہنچانے والے کا خیر مقدم بھی کیا جائے گا،لیکن بلاوجہ تنقید سے گریز کی درخواست بھی کی جاتی ہے۔

  • قدیم مساجد :اس کیٹگری میں پرانا ملابند (جو ڈیپ سی پورٹ کی وجہ سے وہاں سے نئی جگہ منتقل ھوچکا ہے)میں ملا صادق والی مسجد ،جو کہ اب شہید ھوچکی ہے کا نام سرفہرست یے،اس کے بعد گوتری مسجد، کہدہ احمد محلہ میں *کہدہ مسجد،(مشرقی سمت)اور قاضی داد محمد مسجد(مغربی سمت )جو درکار معلومات کے مطابق غالباً والی دور کے قاضی دادمحمد کی تعمیر کردہ ھے ، جو کہ ایک دور میں نہ صرف ایک مسجد تھی ،بلکہ موصوف خود اس میں پیش امام اور لوگوں کے شرعی و قانونی مسائل کو حل کرنے کے لئے مسجد کے اندرا یک الگ کمرہ بھی اس سلسلے میں استعمال کرتے تھے۔
  • پرانا کسٹم مسجد(پردو),منشی یعقوب مسجد ،ڈھوریہ کے نزدیک ایک مسجد،واڈو مسجد۔۔۔۔۔
  • قبرستان مسجد(فیضان مدینہ).ابتداء میں یہ مسجد قبرستان والی یا غالباً سلور مسجد کہلاتی تھی ،لیکن نئی خوبصورت بلڈنگ کی تعمیر کے بعد مکمل طور پر اہل سنت و جماعت کا مرکز بن چکی ھے۔اس کے پیش امام ابتداء سے ھی ملا حسن ہیں ۔جو انتہائی نیک اور مخلص مقامی شخص ہیں۔
  • تحصیل مسجد( ,توحیدی مسجد )۔۔یہاں چونکہ ابتدائی دور میں تحصیل آفس ھوا کرتا تھا،اس لئے یہ اسی نام سے مشہور تھی۔
  • چند سالوں سے مزکورہ مسجد کو مولانا عبدالعلیم جیسا کراچی کے مدرسے سے فارع الثحصیل‌عالم فاضل پیش امام ملا ھے،جو امامت کے ساتھ ساتھ شرعی مسائل بھی اپنے مقتدیوں کو سمجھاتے رہتے ہیں۔
  • ملا مبارک(قادری مسجد)۔اس مسجد کا شمار بھی قدیم مساجد میں ھوتا ھے،اس کے ابتدائی موءزن ملا مبارک اور ابتدائی پیش امام مولانا عبدالکریم کھتری تھے،جو ایک بہت بڑے عالم فاضل شخص تھے،لیکن پچھلے چند سالوں سے اس مسجد ‌کو مولانا ریاض کی صورت جو ایک کراچی کے مدرسے سے فارغ التحصیل عالم فاضل پیش امام ملا ھے،جو نہ صرف فتاویٰ کا جواب دے سکتا ھے،بلکہ اپنی محنت سے کوہ بن وارڈ میں ایک بہترین مدرسہ بھی چلاتا ھے،کہ جہاں کچھ عرصے سے نماز جنازہ کے اہتمام کے لئے بھی مدرسے کے دروازے چوبیس گھنٹے کھلے رہتے ہیں۔
  • اسی طرح ملا موسیٰ مسجد بھی ایک قدیم مسجد جو چندے کی رقومات سے ایک بہترین اندازمیں دوبارہ تعمیر ھوچکی ھے،اس کے پیش امام ابتداء سے ھی ملا موسیٰ تھے،لیکن کچھ عرصہ سے مسقط میں سکونت اختیار کرنے کی وجہ سے مختلف پیش امام مزکورہ مسجد میں امامت سرانجام دیتے ہیں۔
  • *یہ بھی یاد رکھیں کہ آج سے 30۔35سال پہلے یہ مسجد تراویح پڈھانے کے معاملے بہت زیادہ تیز تھی ،جبھی کچھ منچلوں نے اس کا نام راکٹ رکھا تھا۔
  • قلندری مسجد ،,,یہ مسجد گزروان وارڈ میں واقع ہے، اور جسے آج کل مسجد اقصیٰ کے نام سے جانا جاتا ھے،اس کے ابتدائی دور کے پیش امام گوادر شہر کے مشہور و معروف نکاح خواں ملا کریم داد تھے۔جن کے نواسوں کے لوگ آج بھی اپنے آباو اجداد کے نکاح فارم کا ریکارڈ چیک کرنے جاتے ہیں
  • عثمانیہ مسجد،( ملا ہاشم یا ملا عثمان کی تعمیر کردہ ۔۔)۔نوٹ :ملا عثمان شاید گوادر کے پہلے عالم دین تھے کہ جن کی محنت اور پند و نصائح کی بناء پر گوادر شہر میں حضرت گل نامی افغانی شخص کی پھیلائی ھوئی پیر و زیارت و توہم پرستی کا کافی حد تک خاتمہ ھوا۔)یہ ویسے ایک نصیب والا مسجد ہے کہ اس مسجد کے بیشتر امام عالم دین رہے ہیں ،جن میں ملا عثمان اور مولانا نظام الدین سے لے کر آج حافظ جاوید کی صورت میں موجودہ پیش امام بھی شامل ہے۔
  • مسجد باب الاسلام(جو کھبی ناگمان یا سھرابی مسجد کے نام سے مشہور تھا )،آج کل دوبارہ اس کی خوبصورت تعمیرات جاری ہیں اور موجودہ دور میں مولانا عبدالحق اسکے پیش امام ہیں
  • فیضی مسجد،جو کہ ملا عبدالباقی ملا یاسین کے چندے سے تعمیر کردہ ھے،گوادر کی پہلی دو منزلہ مسجد ہے ( یہ مسجد ہرانے وقتوں میں قالو بابا کے نام سے بھی جانا جاتا تھا )
  • یاسین مسجد:یہ موجودہ کولگری وارڈ میں واقع ہے،اس کا نام ملا عبدالباقی کے والد ملا یاسین کے نام سے پڑا،یا شاید ابتدائی طور پر یہ مسجد انہی کا تعمیر کردہ ہے،اس کے مشہور پیش امام ملا عبدل تھے،جو کہ اپنی خوبصورت اور خوش الحان ازان (فجر اور عشاء کی خاص طور پر)کی بدولت بچپن سے ہمارے پسندیدہ موءزن و پیش امام ریے ہیں ۔اللہ انہیں بہشت بریں میں اعلا مقام عطا فرمائے۔آمین۔ کافی عرصہ سے اس مسجد کے پیش امام الحاج محمد علی ہیں۔
  • کسٹم مسجد:یہ بھی ایک پرانی مسجد ھے،جو آج بھی قائم و دائم ھے۔
  • اب آئیں تھوڈا نئے مساجد پر ایک نگاہ ڈالیں۔
  • مسجد عمر بن خطاب..یہ خوبصورت مسجد پدی زر کے جنوبی کونے اور کوہ باتیل کے بلند و بالا سائے میں بڑی شان سے براجمان ھے، کہ جس میں علی الصبح سمںندر جانے والے اور دوپہر کے وقت سمندرسے لوٹنے والے مچھیرے باجماعت نمازک کےلئے ایک نزدیکی بہترین مسجد سمجھتے ہیں اسکے پیش امام ملا غلام رضا ایک صاحب علم اور دینی علوم سے واقفیت رکھنے والے مقامی دینی شخصیت ہیں،جو ہمہ وقت اپنے مقتدیوں کو دینی مسائل کا حل بتاتے رہتے ہیں۔
  • طوبیٌ مسجد -پرانے وقتوں کے بعد جو پہلا نیا مسجد گوادر میں تعمیر ھوا ،وہ طوبیٰ مسجد ھے،جو کہ بلوچی زبان کے مشہور شاعراور استاد واجہ اللہ بخش جوہر نے ابتدائی طور پر تعمیر کی تھی،اور ہماری معلومات کے مطابق بنیاد سے لے کر تمام کا تمام سرمایہ موصوف کا فراہم کردہ اور اراضی بھی موصوف کی زاتی تھی۔اس کے ابتدائی پیش امام ملا امام بخش اور موجودہ دور میں ملا لیاقت اس کے پیش امام ہیں۔ یہ مسجد ابتداء سے تبلیغی سرگرمیوں کا مرکز ھے اور حاجی خداداد کے ڈی اور ملا عبدالحکیم اس کے روح رواں ہیں۔
  • مکی مسجد :اس مسجد کو غالباً گوادر شہر کی پہلی جامعہ مسجد کا اعزاز حاصل ہے ،کہ جس میں ملا قاسم مرحوم (گوادر کے پہلے تبلیغی امیر) امامت کرتے تھے،اور جمعہ مبارک کا خوبصورت اور دل کو چھولینے والا خطبہ سے پہلے والا بیان اور رمضان المبارک کی 27ویں رات کا بیان لوگوں کو دور سے کھینچ کھینچ کر لاتے تھے،جو ھوتا تو سادہ‌و عام فہم ،لیکن جب موصوف اپنی مخصوص مسکراہٹ کے ساتھ وہ بیان کرتے تھے،تو نرم دل انسان تو اپنے آنسو ضبط کر ھی نہیں سکتے تھے،لیکن ہم جیسے سنگدل بھی اپنے آنسو روک نہیں پاتے تھے،لیکن آج وہ عظیم شخص صرف یادوں کی صورت موجود ہیں ،اور ہمارے خیال میں اب گوادر شہر میں مرحوم جیسا خطیب شاید ہی مل جائے۔اللہ پاک انہیں کروٹ کروٹ جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے۔
  • مدنی مسجد:اسی طرح مکی مسجد کے ساتھ ساتھ مجاہد وارڈ میں مدنی مسجد کے نام سے ایک مسجد تعمیر ھوئی اور اس سے اگلے محلے میر لعل بخش وارڈ میں* نعمانیہ مسجد بھی موجود ہے،جو کہ غالباً اگر بہت پرانی نہیں تو اتنی نئی بھی نہیں ہے،یہاں کے پیش امام مولانا عبدالرحمان بھی ایک جید عالم اور خطیب تھے۔اسکے علاوہ دارالعلوم کی تعمیر کے بعد اس میں ایک چھوٹی مسجد کی تعمیر بھی ھوئی ھے ۔جس کے ابتداء سے ہی پیش امام ملا اسحاق ہیں
  • تھانہ مسجد:اگلا محلہ تھانہ وارڈ ہے کہ جس میں تھانہ قلات(گوادر میوزیم )کے اندر ایک قدیم مسجد موجود ہے،کہ جہاں ابھی تک میں نے صرف ایک دفعہ نماز پڑھی ھے اور اسکی قدامت دیکھ کر اور وہاں نماز پڑھ کر مجھے کافی سکون ملا۔
  • بلال مسجد۔۔تھانہ وارڈ کے مشرقی حصے میں موجود یہ مسجد گوادر شہر کی سب سے بڑی جامع مسجد کہلانے کی حقدار ھے،جو ٹھیکہ دار خدابخش باھوٹ کی ٹھیکہ داری میں تعمیر شدہ ایک شاندار مسجد ہے،اس مسجد کے پیش امام شروع سے ھم سب کے یر دلعزیز مولانا ھادی ہیں۔
  • مسجد خضراء۔۔۔اسی تھانہ وارڈ کے مغربی سمت ماسٹر عبدالغفور جاشکی کی کوششوں سے تعمیر کردہ ایک اور شاندار مسجد ،خضراء مسجد کے نام سے موجود یے۔اس کے موجودہ وقت میں پیش امام حاجی عبدالغفور ہیں۔
  • اس مسجد میں کچھ سالوں سے عیدین کی نمازیں بھی پڑھی جاتی ہیں۔
  • الباسط مسجد۔۔یہ مسجد پدی زر میرین ڈرائیو کے مشرقی طرف ،اپنے خوبصورت گنبدوں اور پرشکوہ عمارت کی وجہ سے حالیہ سالوں میں تعمیر ھونے والا ایک خوبصورت مسجد ھے،جو کہ مرحوم عبدالباسط حاجی عبدالصمد کی زاتی دلچسپی اور مالی تعاون کی بناء پر تعمیر ھوسکا ھے اور یہ گوادر کا پہلا مسجد ھے کہ جس کا پیش امام ایک مفتی جناب مفتی اختر صاحب ہیں ،جو کہ گوادر شہر اور اس مسجد کے لئے کسی اعزاز سے کم نہیں۔
  • اسی کے ساتھ ساتھ سید ھاشمی ایونیو پر ایک مسجد بسم اللہ کے نام سے اور تھوڈا ہی آگے دوسری مسجد قاسم العلوم کے نام سے مسجد و مدرسہ کی صورت موجود ھے۔
  • اسی طرح بائیں طرف جاتی سڑک سے ہی ٹی ٹی سی کالونی جاتے ھوئے پہلی مسجد نظر اتی ھے وہ مسجد،امیر حمزہ ھے اسکے علاوہ ،مسجد نعیم ،جو کہ مرحوم مولانا علی اکبر کی تعمیر کردہ ھے۔
  • اسکے ساتھ ساتھ ،مسجد خدیجتہ الکبری موجود ھے ،لیکن سب سے جو خوبصرت مسجد نظرآتی ھے،وہ دوبارہ تعمیر کردہ مسجد الفلاح ھے۔
  • اسی مسجد کے سامنے سے مغربی سمت ملا بند کی نئی آبادی کے سامنے بھی ایک بڑی مسجد ،مسجد علی نظر آتی ہے۔
  • یہیں سے جناح ایونیو پر چلتے ھوئے ،نیو ٹاون فیز I میں داخل ھوجائیں تو الرحمان کے نام سے ایک نئی مسجد ھے کہ جس کا شعلہ بیان خطیب مولانا معاویہ ہے۔،اور اندر آبادی کے اندر مسجد شھدائے احد، آمنہ مسجد اور قندیل چوک سے مڑکر مسجد الفلاح کی طرف جائیں تو روڈ پر ایک مسجد عالیہ کے نام سے اور تھوڈا سا آگے مغربی سمت کی گلی میں روشن مسجد کے نام سے ایک اور خوبصورت اور بڑی مسجد دعوت نظارہ دیتی ھے۔

ان مساجد کے علاوہ آگے کی آبادی شمبے سماعیل،جہان آباد جو کہ نیاباد کے نام سے مشہورہے،فقیر کالونی اور گھٹی ڈور میں بھی مساجد ہیں لیکن میں ان کا ڈیٹا اور تصاویر حاصل نہیں کرسکا۔
انشااللہ زندگی رہی تو پھر کھبی سہی۔یار زندہ صحبت باقی۔
وسلام

بقلم رفیق زاہد نیوٹاون گوادر