Advertisement

غزل

صوفیوں کو وجد میں لاتا ہے نغمہ ساز کا
شبہ ہو جاتا ہے پردے سے تری آواز کا
یہ اِشارہ ہم سے ہے،ان کی نِگاہ ناز کا
دیکھ لو تیرِ قضا ہوتا ہے اس انداز کا
روح قالب سے جُدا کرتا ہے، قالب روح سے
ایک ادنٰی سا کرشمہ ہے یہ تیرے ناز کا
سرمہ ہوجاتا ہے جل کر،آتش سودا سے یار
دیکھنے والا تری چشمِ فسوں پرداز کا
حیرت آنکھوں کو ہے، نظارے میں اس محبوب کے
یہ نہیں کھلتا کہ دل کُشتہ ہے کس انداز کا

تشریح

پہلا شعر

صوفیوں کو وجد میں لاتا ہے نغمہ ساز کا
شبہ ہو جاتا ہے پردے سے تری آواز کا

صوفی یعنی پرہیزگار، پاک کو، وجد اس حالتِ بے خودی کو کہتے ہیں جو صوفیائے کرام کو سماع سے ہوتی ہے۔اب شاعر کہتا ہے کہ محض باجے کا سُر ہی، راگ ہی صوفی کو وجد میں لے آتا ہے۔ اور وہ اس لئے حالتِ بے خودی میں آ جاتا ہے کہ اسے اس ساز کے پیچھے دراصل رب جلیل کی آواز سُنائی دیتی ہے۔

Advertisement

دوسرا شعر

یہ اِشارہ ہم سے ہے،ان کی نِگاہ ناز کا
دیکھ لو تیرِ قضا ہوتا ہے اس انداز کا

شاعر کہتا ہے کہ محبوب کی نِگاہ جو سر تا پا ناز ہے، کا اِشارہ قیامت سے کم نہیں ہے۔اب وہ کہتا ہے کہ محبوب نے جو اپنی نگاہ ناز سے ہم کو اشارہ کیا ہے وہ یہ بتا رہا ہے کہ موت کا تیر ایسا ہوتا ہے۔یعنی اس کا اشارہ پانے کے بعد کوئی سنبھال نہیں سکتا۔

Advertisement

تیسرا شعر

روح قالب سے جُدا کرتا ہے، قالب روح سے
ایک ادنٰی سا کرشمہ ہے یہ تیرے ناز کا

شاعر محبوب سے مخاطب ہے اور اس کے ناز و انداز کا تذکرہ کر رہا ہے کہ تیرا ناز نخرہ جو کیفیت طاری کرتا ہے وہ بیان سے باہر ہے۔جسم سے رُوح اور رُوح سے جسم کو الگ کر دینا یعنی جان لے لینا اس کے لئے ایک معمولی سی بات ہے۔اب ہر کوئی اسے کیوں کر برداشت کرسکتا ہے۔

Advertisement

پانچواں شعر

حیرت آنکھوں کو ہے، نظارے میں اس محبوب کے
یہ نہیں کھلتا کہ دل کُشتہ ہے کس انداز کا

محبوب کا دیدار کرتے ہی دل کی کیفیت ناقابلِ برداشت ہوجاتی ہے۔شاعر نے اس کیفیت کو دل کے قتل ہونے سے تعبیر کیا ہے۔وہ کہتا ہے کہ محبوب کا دیدار کرتے ہی دل کا قتل ہوگیا۔اب آنکھیں حیرت زدہ ہیں،سخت حیراں ہیں کیوں کہ ان کو یہ معلوم نہیں ہو پا رہا کہ آخر دل کس معشوقانہ لگاوٹ سے قتل ہوا ہے۔

چھٹا شعر

آتشؔ شاعری میں بندشِ الفاظ یعنی الفاظ کی ترتیب کے بڑے قائل ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ الفاظ کی بہتر ترتیب کے بغیر شاعری ممکن نہیں ہے اور یہ الفاظ کی بندش زیور میں نگ جڑنے سے کم نہیں ہیں۔نگ جڑنے کا کام سُنار کا ہے۔لہجہ شاعری بھی مرصع سازی کا کام ہے۔ گویا بڑا محنت طلب کام ہے۔

Advertisement
Advertisement

Advertisement

Advertisement