Advertisement

حالات زندگی:

عبد الوحید صاحب 19 نومبر 1978 ء کو ساندہ کلاں لاہور میں پیدا ہوئے آپ کے والد کا نام محمد رشید ( مرحوم) ہے۔ عبد الوحید صاحب نے ابتدائی تعلیم ہی گرلز پرائمری سکول ساندہ سے حاصل کی اور جماعت ششم سے میٹرک تک ایم۔ آئی پہلی ہائی سکول میں تعلیم حاصل کی۔1994ء میں میٹرک کا امتحان پاس کیا پھر ایم۔ اے۔ او کالج لاہور میں داخلہ لیا اور 1996ء میں آئی۔ کام کا امتحان پاس کیا اور 1999ء میں بی۔ کام کا امتحان پاس کیا۔ اس کے بعد تعلیم میں کچھ عرصہ وقفہ رہا اور پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں بطور معلم فرائض سر انجام دیتے رہے اور اکاؤنٹنگ وغیرہ پڑھاتے رہے۔ CMA میں 2001ء میں داخلہ لیا اور فائنل تعلیم ACMA انٹر ہے۔ اس کے بعد عثمان زبیر اینڈ کو نامی کمپنی میں ایک سال بطور انٹرنی کام کی۔ اس کے بعد ملٹی لنکس کمپنی میں بھی ایک سال تک خدمات سر انجام دیں۔ بعد ازاں Wave کمپنی میں 2005 ء سے لے کر جنوری2012 ء تک ڈپٹی میجر اکاؤنٹس رہے۔ اب وہ Ever Fresh پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنی میں منیجر اکاؤنٹس کے طور پر خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔

Advertisement

ادبی خدمات:

ان کا پہلا افسانہ لیٹر بکس” تھا جو غیر مطبوعہ ہی رہا۔ پہلا مطبوعہ افسانہ ”زندہ مردہ تھا۔ مصنف کے یہ افسانے مختلف رسائل اور جرائد میں شائع ہوئے رہے پھر ان کو مجموعی صورت میں قبل از مسیح؟“ کے عنوان سے شائع کیا گیا۔ جن رسائل میں ان کے افسانے شائع ہوتے رہے ان میں “احساس” ، “سفید” “چھڑی”، “راولی”زیادہ نمایاں ہیں۔
مصنف کا ابھی تک دو ہی مجموعے ” قبل از مسیح” اور “درختی گھر” منظر عام پر آیا ہے۔ جبکہ ایک اور مجموعہ جس کا ممکنہ عنوان ” بیری اور تبوک“ ہے کام چل رہا ہے۔ عبد الوحید صاحب انجمن ترقی پسند مصنفین سے فکری وعملی سطح پر وابستہ ہیں۔ حمید اختر مرحوم صاحب کے کالم پڑھنے سے ادبی مجلسوں میں جانے کی ترغیب پیدا ہوئی۔ 2008ء میں اجلاسوں میں با قاعدہ شرکت اختیار کی۔ 11۔ 2008ء تک انجمن کے جوائنٹ سیکرٹری رہے۔ سال 13۔ 2012ء میں سیکرٹری کے عہدے پر رہے اور 2014ء سے تا حال انجمن ترقی پسند مصنفین لاہور کے نائب صدر ہیں۔ اس کے علاوہ حلقہ ارباب ذوق کے اجلاسوں میں بھی شرکت کرتے رہے ہیں اور اپنے افسانے پیش کرتے رہے۔

Advertisement

مصنف سے دوران گفتگو جو سوالات پوچھے گئے اور انہوں نے جو جوابات دیے اور اپنے جو رجحانات ظاہر کیے اور میں نے ان سے جو نتائج اخذ کیے ان کو اختصار اور جامعیت کے ساتھ پیش کرنا چاہوں گا یہ سوالات ادبی نوعیت کے تھے۔ جس سے ان کے ادبی رجحانات کے بارے اہم اشارے ملتے ہیں۔ ادب میں انہیں فکشن اور فکشن میں افسانہ پسند ہے۔ سعادت حسن منٹو اور غلام عباس پسندیدہ افسانہ نگار ہیں۔ غلام عباس کا افسانہ ” آنندی اور منٹو کا سرکنڈوں کے پیچھے ان کے نزدیک بہترین افسانے ہیں۔ ادب میں مقصدیت کے قائل ہیں جیسے انجمن ترقی پسند مصنفین کے پیش نظر مقاصد اور اسی کے مطابق ان کی تخلیقات۔

شاعری میں فیض کو اپنے انقلابی نظریات کی وجہ سے پسند کرتے ہیں۔ ادب کے میدان میں آنے کا محرک کوئی ایک خاص واقعہ نہیں بلکہ متفرق واقعات اور معاشرتی مسائل محرک ثابت ہوئے۔ روحانیت یا مذہب کو محض معاشرے کا حصہ گردانتے ہیں۔ اچھا ادب انسان پر اپنے اثرات ضرور ڈالتا ہے۔ ہر عہد اپنا ادب خود تخلیق کرتا ہے۔ تنقید ہر میدان میں اصلاح کے لیے راہ ہموار کرتی ہے۔ بھوک اور جنس کے سامنے اکثر اوقات انسان کی انسانیت دم توڑ دیتی ہے۔

Advertisement

مصنف کے ہاں فکر کو مرکزیت حاصل ہے۔ یہ مرکزیت ان کے پیش نظر مقصدیت کی وجہ سے در آئی۔ صنف کے ہاں عہد کا گہرا شعور پایا جاتا ہے ان کے موضوعات متفرق ہیں مگر وہ اسی معاشرے سے لیے گئے میں ان کے کردار ہم لوگ ہیں ان کا ابھی تک ایک ہی مجموعہ منظر عام پر آیا ہے اور اسی حوالے سے ہم ان کے مکر وفن کا جائزہ پیش کریں گے۔ یہ مجموعہ ان کے فن کا بھی نمائندہ ہے اور فکر کا بھی۔ انہوں نے معاشرے کے پیسے ہوئے طبقات کی بات اور اس استحصال کی وجوہات دریافت کرنے کی بھر پور کوشش کی ہے۔ ان کے ہاں کرداروں کی نفسیات کا گہرا شعور پایا جاتا ہے۔ وہ اپنے کردار کی ظاہری و باطنی مصوری کرتے نظر آتے ہیں۔

یہ افسانے آج کی سماجی زندگی سے پیدا ہونے والے مسائل پر سوال اٹھا رہے ہیں۔ جنس ان کے ہاں ایک اہم موضوع ہے۔ انجمن ترقی پسند تحریک سے وابستہ ہونے کی وجہ سے ان کی فکر پر انجمن کے گہرے اثرات ہیں اس مجموعے میں بھوک کے آگے انسانی بے بسی کے موضوع کو تکرار کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ فنی لحاظ سے مصنف کے ہاں بیانیہ کا غلبہ ہے وہ اپنی بات کو موثر طریقے سے پہنچانے کے لیے اکثر اوقات بیانیہ ہی کا سہارا لیتے ہیں۔ ان کے ہاں فنی لحاظ سے ایک نو بالغ تخلیق کار ضرور موجود ہے جو ضرور اپنی بلوغت کی پختگی کو بھی پہنچے گا۔ ان کے افسانوں میں کرداروں کی بھی کمی ہے۔ اکثر افسانے صیغہ واحد متکلم میں لکھے گئے ہیں۔ شاہد اس کا محرک کوئی لاشعور کا گہرا احساس ہے۔ ان کے مکالمے طویل ہیں۔ جیسے افسانے قبل از مسیح کے مکالمے مگر اس کے باوجود موضوع کی مناسبت سے یہ ایک بہترین افسانہ ہے۔ جو فکری وفنی حسن کا نمائندہ ہے۔ مصنف نے ذفلیش بیک کی تکنیک کو متعدد افسانوں میں بڑی خوبصورتی سے برتا ہے۔ ان کے بعض کا کینوس بہت وسیع ہے۔ جو ایک فرد سے لے کر ملکی سطح تک پھیلا ہوا ہے۔ ان کے ہاں معاشرتی رویوں پر ایک طنز کی کیفیت بھی پائی جاتی ہے مگر اس طنز کے پردوں میں احساس لپٹا ہوا ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ علامت کا استعمال بھی بڑی خوبی سے کیا ہے۔ علامت نگاری میں پیچیدگی سے اجتناب کیا گیا ہے۔ اس کی بہترین مثالیں افسانہ حقیقی قید اور مقدس لکیر ہیں۔

Advertisement

عبد الوحید صاحب کے ہاں بہترین اسلوب پایا جاتا ہے ان کے ہاں سادہ مگر موثر تخلیق زبان پائی جاتی ہے ان کے ہاں فصاحت و بلاغت کے بہترین نمونے پائے جاتے ہیں۔ ہیں ۔ فکر وفن کے حسین امتزاج پر مشتمل جملے ہر افسانے کا حصہ ہیں۔ وہ الفاظ کو پیدا ہونے والی کیفیات کے تناظر میں دیکھتے ہیں۔ وہ الفاظ کے برمحل استعمال جذبات اور کیفیات کی مرقع نگاری پیش کرتے ہیں۔ اسی طرح الفاظ کا استعمال اس طریقے سے کرتےہیں کہ ایک پورا منظر آنکھوں کے آگے ابھر آتا ہے۔
آپ اب بھی لاہور میں قیام پذیر ہیں۔

تحریرعامر سہیل

Advertisement