زندگی میں جب بھی کسی کام کا ٹھان لیں تو اسے پورا کر گزریں۔ عزم آدھی جیت اور آدھی تکمیل کا نام ہے۔ محمد علی جناح کا قول ہے :
"ایک کام کرنے سے پہلے سو پر سوچ لو پھر اس پر ڈٹ جاؤ۔”
اس قول کی روشنی سے ہمیں یہی بات معلوم ہوتی ہے کہ عزم کرتے وقت 4 دماغوں سے سوچ لینا چاہئے۔ شش جہت اس کے بارے منفی و مثبت گمانوں کو پرکھ لینا چاہئے، مگر جب تمام تر حساب و کتاب کے بعد جب ایک نتیجہ اپنے پاس محفوظ ہو چکا ہو تو پھر اس پر کار آمد ہونا چاہئے۔

عزم کو کامرانی کی کنجی اس لیے کہا گیا ہے کہ انسان کشتیاں جلا کر جب عزم کرتا ہے تو اپنے سے دوگنا زیادہ فوج کو پچھاڑ دیتا ہے۔ یہ بلند پایہ عزم کا ہی نتیجہ ہے۔ جب خالد بن ولید عزم کرتے ہیں تو پھر سلطنت روم و فارس نیس و نابود ہو جاتی ہے۔ جب عزم ہو تو حیدر بھی مرحب کو پچھاڑ دیتا ہے۔ یہ ساری بات عزم کی ہے جیسے کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے :

ارادے جن کے پختہ ہوں نظر جن کی خدا پر ہو
طلاطم خیز موجوں سے وہ گھبرایا نہیں کرتے۔

قوم کا بیٹا علی صدپارہ جب ملک و قوم کا نام روشن کرنے کو سامان عزم باندھتا ہے تو پھر کے ٹو کی ہولناکی اس کے سامنے کچھ معنی نہیں رکھتی، وہ اقبال کے اس شعر کی مانند ہو جاتا ہے۔

بے خطر کود پڑا آتشِ نمرود میں عشق
عقل ہے محوِ تماشائے لبِ بام ابھی