• سبق نمبر 24:

سوال۱: آپ ﷺ کے عفو و درگزر پر ایک نوٹ تحریر کریں۔

عفو و درگزر:

”عفو“ کا مفہوم دوسروں کی غلطیوں، زیادتیوں پردرگزر کرنا اور ان کی مہربان ہو کر معاف کر دینا ہے۔
”عفو“ ایسی محمود پسندی صفت اور فضائل اخلاق میں شمار ہوتی ہے کہ اس کے سبب سے دل میں کدورت(رنجش ) نہیں رہتی اور صفائی پیدا ہوتی ہے اور انسانوں سے تعلقات خوشگوار ہوتے ہیں اور باہمی زندگی میں ہمدردی و محبت پید اہو جاتی ہے۔

ہمارے سامنے انسانیت کے سب سے بڑے محسن، ہادئ اعظمﷺ کا اسوۂ حسنہ ہے کہ بقول ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کبھی آپﷺ نے کسی سے اپنے ذاتی معاملہ میں اختیار کے باوجود انتقام نہیں لیا سوائے اس صورت کے کہ جب کسی نے احکام الہیٰ کی ہنسی اڑائی یا اس کی شدید مخالفت کی۔

اللہ تعالیٰ کاارشاد فرمایا کہ اے مسلمانوں! تم اللہ کی صفات خؤگر اور عادی ہو جاؤ“اس لئے جب ہم قرآن مجید کو دیکھتے اور سمجھتے ہیں۔ تو بہت مقامات پر اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو فروگزاشت اور غلطیوں کو درگزر فرماکر انہیں بخشش کی نوید دی تو ہمیں بھی احکام رب العالمین کی تعمیل اور سیرت نبویﷺ کے اتباع میں عفو اختیار کرکے اللہ تعالیٰ سے غلطیوں اور فروگزاشتوں پر عفو کی امید کرنی چاہئے غور کیجئےکہ اگر اللہ تعالیٰ اپنی صفت عفو سے ہمیں امید وار بخشش نہ بناتا تو ہمارے اعمال جن کا ہمیں بخوبی علم ہے، ہم کسی درجہ عذاب کے مستحق قرار پاتے اور ہمارا کیا ہوتا۔

اس لئے جب ہم اپنے رب سے اپنے گناہوں اور غلطیوں کی بخشش کے امیدوار ہیں تو دوسروں کی غلطیوں کو معاف کرنے میں ہمیں کیا تامل ہونا چاہیے۔ اسی لئے بزرگان دین فرماتے ہیں ”کہ تم دوسروں کی غلطیوں کو معاف کرو تو اللہ تمہیں معاف فرمائے گا۔“
قرآن مجید اس کا شاہد ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کئی موقعوں پر مسلمانوں کو اس جانب اس طرح متوجہ فرمایا: ارشاد ربانی ہے:
تو بے شک بڑا معاف کرنے والا پوری قدرت والا ہے۔ (سورۂ النساء:۱۴۹)

ایک دوسری جگہ ہے:
”اور وہ ایسا ہے کہ اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے اپنے بندوں کی برائیوں کو جانتا ہے جو تم کرتے ہو۔“(سورۂ الشوریٰ: ۲۵)
ایسے مواقع بھی زندگی میں آتےہیں کہ کوئی آپ پر ظلم کرتا ہے، زیادتی کرتا ہے اور آپ اس کی اس غلطی سے اس قدر برہم ہوتے ہیں کہ اسے معاف نہیں کر سکتے تو ایسے موقعہ پر اس زیادتی کا یکساں طور بدلہ لیا جاسکتا ہے اس سے زیادہ کی اجازت نہیں ہے مگر اس سے بھی بڑھ کر یہ مقام ہے کہ قدرت کے باوجود آپ اسے معاف کر دیں تو اس سے پہلا فائدہ یہ ہوگا کہ زیادتی کرنے والا کو پشیمان ہو کر ایسی زیادتی آئندہ نہ کرے گا۔

دوسرا آئندہ کے لئے باہمی تعلقات بگڑنے کی صورت شاید پیش نہ آئے گی۔ زیادتی کرنے والے کی اصلاح کے لئے آپ کا برتاؤ اسے آئندہ زیادتی سے روکے گا۔ کہا جاتا ہے کہ ہیرے جیسے سخت پتھر میں کسی سخت آلہ سے سوراخ نہیں کیا جا سکتا مگر سیسہ کی سلائی اس میں سوراخ کر دیتی ہے اسی طرح زیادتی کا جواب زیادتی سے دینا تو انتقام ہوگیا شاید اس کے بعد ظالم ظلم اور زیادتی سے باز نہ آئے مگر جب قدرت کے باوجود اسے معاف کردیں تو لازماً اسے اپنے کئے پر پشیمانی ہوگی اور ممکن ہے کہ وہ آئندہ صرف آپ کے ساتھ زیادتی سے باز نہ آئے بلکہ کسی اور کے خلاف ایسا دل آزاررویہ اختیار نہ کرے۔

سوال۲:عفو و درگزر کا سیرت نبویﷺ سے ہمیں کیا سبق ملتا ہے؟

جواب: سیرت نبویﷺ کا یہ پہلو کس قدر مؤثر اور کار آمد ثابت ہوا کہ کفار قریش جو کسی طرح اپنی زیادتیوں سے باز نہ آتے تھے۔ فتح مکہ کے موقعہ پر جب مجبور ہو کر ہرساں اور خوفزدہ حاضر کیے گئے تو ہر ایک کو اپنی زیادتیوں کا بخوبی علم تھا اور انہیں یقین تھا کہ اب ان کی خیر نہیں مگر حضورﷺ نے ان سے کوئی باز پرس نہ کی، ان کے ظلم و زیادتی کا بدلہ نہ لیا اور فرمایا:”جاؤ تم آزاد ہو، تم سے میں کوئی باز پرس نہیں کروں گا۔“تو سزادینے کے مقابلہ پر اس کا اثر یہ ہوا کہ وہ جوق در جوق آکر دائرہ اسلام میں داخل ہو گئےاور ان میں سنگدل ہندہ جیسی سفاک عورت بھی یہ کہنے پر مجبور ہوگئی کہ : اے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آج سے پہلے تک آپ سے زیادہ کوئی شخص میرے لئے قابل نفرت نہ تھا مگر آج آپ کی خدمت میں حاضری کو سب سے زیادہ پسندیدہ سمجھتی ہوں اور آپﷺ کی مجلس سے زیادہ کوئی دوسرا مقام میرے لئے پسندیدہ نہیں ہے۔