تعارف

علی اکبر ناطق ۱۹۷۶ میں پنجاب کے ضلع اوکاڑا کے گاؤں ایل میں پیدا ہوئے۔ نظم اور افسانوی نثر سے اُن کو بچپن سے ہی شغف رہا ہے۔ وه شاعری کی دو کتابیں اور افسانوں کا ایک مجموعہ شائع کر چکے ہیں، جن کو عالمی اردو حلقوں میں بہت سراہا گیا ہے۔ وه اسلام آباد میں مقیم ہیں، جہاں وه غیر منافع بخش تنظیموں کے لئے تخلیقی مشیر کے طور پر کام کرنے کے علاوه، ”مرزا غالب کتاب مرکز“ نامی ایک کتب خانہ بھی چلاتے ہیں۔

علی اکبر ناطق افسانہ نگار‘ ناول نگار شاعر اور نقاد تو ہیں ہی کچھ نہیں کہہ سکتے کہ کل کلاں مجسّمہ ساز‘ مصّور اور مفتی بھی نکل آئیں۔ ”سُر منڈل کا راجا‘‘ ان کا تیسرا مجموعۂ کلام ہے جو سانجھ لاہور نے چھاپا اور قیمت ۱۸۰ روپے رکھی ہے۔ اس کا انتساب فہمیدہ ریاض کے نام اور دیباچہ نگار زیف سیّد ہیں، ٹائٹل بھی زیف سید ہی کے موقلم کا مرہونِ منّت ہے۔ ہمارے دوست شمس الرحمان فاروقی پسِ سرورق پر رقم طراز ہیں:

“علی اکبر ناطق کے بارے میں اب یہ حکم لگانا مشکل ہو گیا ہے کہ جدید شعر میں ان کی اگلی منزل آگے کہاں تک جائے گی کہ ہر بار وہ پہلے سے زیادہ چونکاتے ہیں، ان کے پہلے کلام میں تازگی اور میرا جی کی سی قوت اور داخلیت تھی۔ روایت اور تاریخ کا شعور بھی حیرت زدہ کرنے والا تھا۔ اب کے کلام میں لہجہ جدید نظام کے کلاسک شعرا سے بالکل الگ بھی ہے‘ نیا بھی ہے اور جوشِ درد سے بھی بھرا ہوا ہے اور صرف اور صرف اُن کا اپنا ہے۔ اس سے پہلے ایسی روایت موجود نہیں ہے۔ محبّت کی باتیں بہت ہیں لیکن ان میں زیاں اور ضرر کا احساس بھی زیادہ ہے۔ لہجہ پیغمبرانہ ہے۔ نظم کا بہاؤ اور آہنگ کی روانی ایسی ہے کہ حیرت پر حیرت ہوتی ہے خاص کر جب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ اس وقت ان کے کلام پر پنجابی کا اثر عام سے زیادہ ہے۔ اس کے باوجود یہ پیوند بہت ہی اچھے لگتے ہیں۔ اس مجموعے کی نظمیں ہماری جدید شاعری کے لیے ایک مطلق نئی چنوتی لے کر آئی ہیں۔ اللہ کرے مرحلۂ شوق نہ ہو طے”

اس کے بعد زیف سیّد کے دیباچے سے ایک اقتباس اس طرح سے ہے:
‘‘علی اکبر ناطق کی لگ بھگ ہر نظم سننے کے بعد جب یہ محسوس ہونے لگتا ہے کہ شاید اس نے اپنے اظہار کی معراج حاصل کر لی ہے اور اس سے آگے بڑھنا ناممکن ہو گا۔ وہ اگلی ہی نظم میں ایک نیا راستہ اختیار کر کے نئے سفر پر گامزن ہو جاتا ہے۔ ناطق کی نظم کا بیج مٹی میں ضرور ہوتا ہے لیکن نظم اُوپر ‘ اور اُوپر اٹھتے اٹھتے جاودانی آسمان کی وسعتوں سے ہم آہنگ ہو کر آفاقی اسطورہ بن جاتی ہے جسے آپ غیر قانونی اساطیر کے پہلو میں دیکھ سکتے ہیں۔ مجھے ایک اعزاز رہا ہے کہ میں پچھلے پانچ برس سے علی اکبر ناطق کی تقریباً ہر نئی نظم کا اولین سامع رہا ہوں۔ اس کے باوجود کم ہی ایسا ہوا ہے کہ اس کی نئی کاوش سُنتے وقت دل میں یہ سوال پیدا نہ ہو کہ اس شخص کی تخلیقی صلاحیتوں کی کوئی تھاہ ہے بھی کہ نہیں۔‘‘

تصانیف

ناطق ایک کہنہ مشق شاعر، کے ساتھ ساتھ فکشن رائٹر اور سات کتابوں کے مصنف ہیں، ان کا افسانہ معمار کے ہاتھ امریکہ کے مشہور ادبی میگزین گرانٹا میں شائع ہوچکا ہے۔ اِن کا شعری مجموعہ ’یقین بستیوں میں‘، ’یاقوت‘ اور افسانوی مجموعہ ’قائم دین‘ انگریزی اور جرمن میں ترجمہ ہوچکی ہیں، جسے پینگوئن انڈیا بھی شائع کرچکا ہے۔ جبکہ علی اکبر ناطق کا ناول ’نولکھی کوٹھی‘ ادبی حلقوں میں ہلچل مچاچکا ہے۔

Advertisements