تعارف

علی سردار جعفری اتر پردیش کے گونڈہ ضلع میں ۱۹۳۱ میں پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے لکھنؤ میں ایک مذہبی ماحول میں پرورش پائی تھی۔ انہوں نے لکھنؤ یونیورسٹی سے ماسٹرز کیا تھا۔علی سردار جعفری ۸ سال کی عمر میں انیس کے مرثیوں میں سے ۱۰۰۰ اشعار روانی سے پڑھتے تھے۔ وہ صرف ۱۵ برس کے تھے جب انہوں نے اپنا ادبی سفر افسانہ نگاری سے شروع کیا۔

شمالی ہند میں ہمالیہ کی ترائی کے دامن میں ایک چھوٹی سی مسلمان ریاست بلرام پور تھی، علی سردار جعفری کا خاندان یہاں آباد تھا۔ یہ بڑا ایمان دار، مذہب کا پابند اور پرہیزگار خاندان تھا۔ محرم بڑے جوش سے مناتے تھے، مجلسیں ہوتی تھیں، علی سردار لکھتے ہیں :
’میں نے اس عہد کے تمام بڑے ذاکروں کو سنا ہے اور تمام بڑے علما اور مجتہدین کے ہاتھوں کو بوسے دیے ہیں۔‘‘

ادبی زندگی

یہ اس ماحول کا اثر تھا کہ پانچ چھ برس کی عمر سے وہ منبر پر بیٹھ کر سلام اور مرثیے پڑھنے لگے۔ پندرہ سولہ کی عمر میں خود مرثیے کہنے لگے، مرثیے کہنے کے ساتھ ساتھ علی سردار جعفری حدیث خوانی بھی کرتے تھے اس لیے روایات اور قرآن کی بہت سی آیات انھیں زبانی یاد ہو گئی تھیں۔ لکھتے ہیں : ’’ان سب کا مجموعی اثر مجھ پر یہ تھا کہ حق اور صداقت کے لیے جان کی بازی لگا دینا، انسانیت کی سب سے بڑی دلیل ہے۔‘‘

افسانہ نگاری

جعفری ان کا پہلا افسانہ ’آتشیں قمیض‘ تھا۔ ’لالۂ‘ صحرائی ‘ ’ہجوم و تنہائی‘ وغیرہ بھی طالب علمی کے زمانے میں لکھے ہوئے افسانے ہیں جن کے شائع ہونے کی کوئی سند دستیاب نہیں ہے۔ سردار جعفری کا پہلا مطبوعہ افسانہ ’ تین پاؤ گندھا ہوا آٹا‘ ہے، جس کا ذکر ستارہ جعفری بھی کرتی ہیں، یہ شاید ’ساقی‘ یا ’نیرنگ ‘ میں چھپا۔ اس وقت تک سردار جعفری کے افسانے چھپنے لگے تھے، مطبوعہ افسانوں میں ’لچھمی‘ مارچ ۱۹۳۷ ء میں چھپا۔

اس افسانے کو پڑھ کر یہ احساس ہوتا ہے کہ جاگیردارانہ و زمیندارانہ ماحول کا پروردہ سردار جعفری انقلابی ہوگیا تھا ، ترقی پسند تحریک نے سردار جعفری پر گہرا اثر ڈالا۔ دراصل ۱۹۴۵ء سے شروع ہونے والی یہ تحریک ۱۹۳۶ء کے پریم چند کی صدارت میں ہونے والے جلسے کے بعد اس قدر مقبول ہوئی کہ اس زمانے کا تعلیم یافتہ نوجوان طبقہ اپنے آپ کو انقلابی سمجھنے لگا۔ ترقی پسند تحریک کے اغراض و مقاصد نے نوجوانوں میں ایک نیا عزم ، ایک نیا جوش اور ایک نیا ولولہ پیدا کردیا۔

علی سردار جعفری ترقی پسند شعراء میں نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ ترقی پسند رہنماؤں میں سجاد ظہیر کے بعد کوئی نام ادب و احترام کے ساتھ لیا جاسکتا ہے تو وہ سردار جعفری کا ہے۔ وہ مارکسی نظریات سے براہِ راست متاثر تھے اور آخر تک وہ اسی تحریک سے وابستہ اور سرگرم رکن رہے۔ نیز اپنے خیالات اور ترقی پسند نظریات کی ترویج و تبلیغ کی پاداش میں قید و بند کی صعوبتیں بھی برداشت کرتے رہے۔

کثیر جہتی شخصیت

علی سردار جعفری ایک کثیر جہتی شخصیت کا نام ہے۔ وہ شاعر تھے، نقاد تھے، منفرد اسلوب کے حاصل نثر نگار، فلم ساز تھے۔ وہ ایک فعال عالم تھے۔ وہ اپنے نظریات پر اٹل تھے مگر مخالفین کے نظریات اور خیالات کو سننے اور ان پر بحث کرنے سے کبھی انکار نہیں کرتے تھے۔ اس کے ساتھ یہ بھی سچائی ہے کہ اگر ایک دور میں انتہا پسندی کے لئے بدنام ہوئے تو بعد میں ان پر مصلحت کے تحت سمجھوتہ کرنے کا الزام بھی لگا۔ تخلیقات کی حد تک کوئی بھی سردار جعفری پر شعوری سمجھوتہ کا الزام نہیں لگا سکتا۔ ان تمام خوبیوں کے باوجود وہ ترقی پسند ادبی تحریک کی سب سے زیادہ متنازعہ شخصیت رہے ہیں۔

علی سردار جعفری ایک معتبر شاعر، اچھے صحافی ، ڈرامہ نگار، ناقد، ترقی پسند تحریک کے سرگرم رکن، افسانہ نگار، اور ٹیلی ویژن کی دنیا کے رمز شناس تھے۔ میر، کبیر، غالب اور اقبال پر انھوں نے قابل ذکر کام کیا ہے۔ ان کی کتاب ’’ترقی پسند تحریک کی نصف صدی ‘‘ اور شاعری کی لغت ’’سرمایۂ سخن‘‘ کو حوالے کی حیثیت حاصل ہے۔ شعرو ادب کے انتخاب کا عمدہ ذوق رکھتے تھے اور مافی الضمیر ادا کرنے کے بیشتر وسائل کے سلیقے مند اظہار سے واقف تھے۔

کلام میر کے علاوہ پریم چند سے لے کر سید محمد اشرف تک کے افسانوں کا انتخاب، ’نیا ادب ‘ اور’گفتگو‘ کی ادارت ، شاعروں کے کوائف پر مبنی ٹی وی سیریل ’کہکشاں‘ اور اِپٹا کے بینر تلے کھیلے گئے ان کے ڈرامے ان کی مختلف النوع دلچسپیوں اور صلاحیتوں کی غمازی کرتے ہیں۔ ان کی تنقیدی تحریروں اور بعض ادبی اور تحریکی فیصلوں میں ایک نوع کا تحکم ان کے مزاج کی شدت کی عکاسی کرتا ہے۔

تصانیف

ان کی مشہور تصانیف میں “امن کا ستارہ، ایشیا جاگ اٹھا، ایک خواب اور، غالب کے سومنات خیال، اقبال شناسی، خون کی لکیر، لہو پکارتا ہے، لکھنؤ کی پانچ راتیں، منزل، نئی دنیا کو سلام، مخدوم محی الدین، پیغمبرانِ سخن، پتھر کی دیوار، سرمایہ سخن، ترقی پسند ادب” نمایاں ہیں۔

آخری ایام

آپ کا انتقال یکم اگست ۲۰۰۰ میں ۸۷ سال کی عمر میں ہوا۔

Advertisements