Advertisement
  • حصہ نثر۔ باب اول
  • سبق: مکتوب نگاری
  • مصنف:مرزا غالب
  • ماخوذ: مکتوبات غالب

تعارف سبق:

اس سبق میں مکتوب نگاری کے تعارف کو بیان کرتے ہوئے مرزا غالب کے مخطوط “بنام منشی ہرگوپال تفتہ” اور بنام “منشی نبی بخش حقیر ” دیے گئے ہیں۔

تعارف مصنف:

غالب کا پورا نام مرزا اسد اللہ خاں بیگ غالب ہے۔ آپ27 دسمبر1797 میں آگرہ میں پیدا ہوئے۔غالب بچپن میں ہی یتیم ہوگئے یوں ان کی پرورش ان کے چچامرزا نصر اللہ بیگ نے کی۔لیکن جب غالب کی عمر آٹھ سال ہوئی تو ان کے چچا بھی انتقال کر گئے۔

Advertisement

1810میں تیرہ سال کی عمر میں غالب کی شادی مرزا الہی بخش خاں کی بیٹی امراؤ بیگم سے ہوئی۔شادی کے بعد غالب نے اپنے آبائی وطن کو خیر آباد کہہ کر دہلی میں سکونت اختیار کی۔1850میں بہادر شاہ ظفر نے مرزا غالب کو نجم الدولہ دبیر المک نظام جنگ کا خطاب عطا کیا اور خاندان تیموری لکھنے پر مامور کیا۔کثرت شراب نوشی کے باعث 15فروری1869 میں غالب نے وفات پائی۔

سن1807 میں غالب نے شاعری کا آغاز کیا اور بطور شاعر بے پناہ شہرت حاصل کی۔جبکہ نثر کا آغاز غالب نے فارسی نثر نگاری سے کیا۔فارسی نثر میں غالب کی مشہور کتب پنج آہنگ، مہر نیمروز اور دستنبو ہیں۔ جبکہ اردو نثر نگاری میں غالب کابڑا کارنامہ ان کے خطوط ہیں جن کے ذریعے غالب نے اردو کو ایک منفرد نثری اسلوب سے روشناس کروایا۔غالب کے مکتوب اردو ادب کا اہم سرمایہ ہیں جو نہ صرف ان کی ذاتی زندگی کے عکاس ہیں بلکہ ان کے زمانے کے سماجی ماحول اور سیاسی حالات کو جاننے میں بھی نہایت کارآمد ہیں۔غالب کی تحریر واقعہ نگاری منظر نگاری جذبات نگاری اور طنز و مزاح کا بھر پور عنصر لیے ہوئے ہے۔

Advertisement

اول خط:”بنام منشی ہرگوپال تفتہ”

خلاصہ:

انگریزوں کے خلاف 1857 کی ہونے والی بغاوت جسے بعد میں غدر کا نام دیا گیا اس میں دہلی شہر بہت تکلیف دہ اور مایوس کن حالات سے دوچار ہوا۔غالب نے اس خط کے ذریعے اس عہد کے دہلی شہر کی سماجی زندگی کے ساتھ ساتھ وہاں کے سیاسی حالات کا بھی نقشہ کھینچا ہے۔انگریز حکمرانوں کے قابض ہونے کے بعد دہلی شہر اجڑنے کے بعد دوبارہ سے آباد ہو رہا تھا اور یہ ایک طرح سے غالب کی لیے دوسرا جنم تھا۔جہاں پھر سے دہلی کی پرانی روایات لوٹنے لگی تھیں۔دہلی کے لوگ یہاں کے حکام کا اجازت نامہ پانے کے بعد یہاں دوبارہ سے بسنے لگے تھے۔مجرموں کو سزائیں دی جارہی تھیں۔غالب اس وقت قلعہ میں شعری اصلاح کی ملازمت پر معمور تھے۔انہوں نے ان تمام حالات کو خط کے ذریعے منشی ہرگوبال تفتہ کے نام لکھا ہے۔

Advertisement

سوالات

سوال نمبر1:”دوسرا جنم ہم کو ملا”اس سے غالب کی کیا مراد ہے؟

دوسرا جنم ہم کو ملا سے غالب کی مراد غدر یعنی 1857 کی بغاوت کے بعد دہلی کے حالات ہیں۔ غدر سے قبل دہلی شہر میں ادب پروری کا دور دورہ تھا۔مگر غدر کے واقعہ سے دہلی کا ماحول یکسر بدل گیا۔پرانے معاملات،میل ملاپکا ماحول نہ رہالیکن کچھ عرصہ بعد جب دہلی کے حالات دوبارہ سے معمول پر آنے لگے۔میل ملاپ بڑ ھنے لگا اور خط و کتابت ہونے لگی تو غالب نے ان حالات کو دوسرا جنم قرار دیا۔

سوال نمبر 2:”مفصل حال لکھتے ہوئے ڈرتا ہوں”غالب نے یہ بات کیوں لکھی؟

مفصل حال لکھنے سے ڈرتا ہوں غالب نے یہ بات اس لیے لکھی کہ انگریزوں کے دہلی پر قابض ہوجانے کے بعد دہلی کے حالات میں بہت تبدیلی دیکھنے کو ملی۔قلعہ کے ملازمین پر بہت سختی تھی۔ہر طرح کے معاملات پر باز پرس کیا جانا معمول کی بات تھی۔غالب بھی چونکہ قلعہ کی ملازمت سے وابستہ تھے یہی وجہ ہے کہ وہ خط کے ذریعے مفصل حالات سے آگہی دینے سے ڈر رہے تھے۔

Advertisement

سوال نمبر 3:”اس فتنہ و آشوب میں ،میں نے کسی مصلحت میں دخل نہیں دیا”سے آپ کیا سمجھتے ہیں؟

فتنہ و آشوب میں، میں نے کسی مصلحت میں دخل نہیں دیا سے مراد اس وقت کے دہلی کے پر آشوب یا ہنگامہ و فساد سے پر حالات میں غالب نے نوکری یا دیگر کسی بھی قسم کے حالات پر نہ تو کوئی اعتراض اٹھایا اور نہ ہی اس معاملے میں کسی سے صلاح و مشورہ کرنا اہم جانااور جو ہے اسی کو غنیمت جان کر کام کو جاری رکھا۔

سوال نمبر 4:”گھر گھربے چراغ پڑے ہیں”اس کا کیا مطلب ہے؟

گھر گھر بے چراغ پڑے ہیں سے مرادگھر تو جوں جے توں موجود ہیں مگر ان میں بسنے والا کوئی موجود نہیں ہے۔بغاوت کے وقت بہت سے لوگ دہلی سے کوچ کر گئےجبکہ کچھ کو شہر بدر کر دیا گیا۔ جس کی وجہ سے شہر میں ویرانی کا سماں تھا۔جب تک افسران کی جانب سے باقاعدہ آباد کاری کا پروانہ نہ ملتا ان گھروں میں بسنے والا کوئی نہ تھا ۔

Advertisement

سوال نمبر5:”مجرم سیاست پاتے جاتے ہیں”غالب اس جملے میں کیا کہنا چاہتے ہیں؟

مجرم سیاست پاتے جاتے ہیں سے مراد وہ تمام لوگ جو کسی طرح مجرم قرار پا رہے تھے ان کو سزائیں دی جا رہی تھیں۔

عملی کام:

سوال: اس خط کی روشنی میں غالب کے زمانے پر ایک نوٹ لکھیے۔

غالب کا عہد اٹھارویں صدی کا عہد ہے۔جب دہلی شہر علم وفن ،مہر ومحبت اور ملنساری کا گہوارہ ہوا کرتا تھا۔بڑے بڑے نامور شاعر وادیب حضرات دہلی سے وابستہ تھے۔1857 میں ہندوستان میں غدر کے بعد دہلی شہر کا پانسا پلٹا اور یہاں انگریزوں کے مکمل طور پر قابض ہو جانے کے بعد دہلی نے فتنہ و آشوب سے پر دور دیکھا۔غالب اس وقت دہلی میں مقیم تھے۔غالب نے ان حالات کا براہ راست سامنا کیا۔یوں 1857 کے بعد کے حالات کا بیان ان کے اس خط میں بھی ملتا ہے۔

Advertisement
Advertisement