غزل

حیراں ہوں، دل کو روؤں کے پٹیوں جگر کو میں
مقدور ہو تو ساتھ رکھوں نوحہ گر کو میں
چھوڑا نہ رشک نے کہ تیرے گھر کا نام لوں
ہر اک سے پوچھتا ہوں کہ جاؤں کدھر کو میں
جانا پڑا رقیب کے در پر ہزار بار
اے کاش جانتا نہ ترے رہگزر کو میں
لو وہ بھی کہتے ہیں کہ یہ بے ننگ و نام ہے
یہ جانتا اگر تو لٹاتا نہ گھر کو میں
چلتا ہوں تھوڑی دور ،ہر اک تیز رُو کے ساتھ
پہنچانتا نہیں ہوں ابھی راہبر کو میں
خواہش کو احمقوں نے پرستش دیا قرار
کیا پُوچھتا ہوں اس بت بیداد گر کو میں
پھر بے خودی میں بھول گیا راہ کوئے یار
جاتا وگرنہ ایک دن اپنی خبر کو میں
اپنے پہ کر رہا ہوں قیاس اہل دہرکا
سمجھا ہوں دل پذیر، متاعِ ہُنر کو میں
غالب !خُدا کرے کہ سوار سمندر ناز
دیکھوں علی بہادر عالی گہر کو میں

تشریح

پہلا شعر

حیراں ہوں، دل کو روؤں کے پٹیوں جگر کو میں
مقدور ہو تو ساتھ رکھوں نوحہ گر کو میں

شاعر کہتا ہے کہ میرے دل اور جگر دونوں تمام ہوگئے ہیں۔اب میں سخت حیران ہوں دل کو روؤں کہ جگر کو پیٹوں۔ایک ہی وقت میں دونوں کا ماتم کیسے کر سکتا ہوں۔اگر میرے اختیار میں ہوتا تو میں کسی نوحہ گر کو ساتھ رکھتا۔اس کی خدمات حاصل کرتا کہ وہ جگر کو روتا اور میں دل کا ماتم کر لیتا اس طرح دونوں کا ماتم ہو جاتا اور میں دو عزیز مرنے والوں کا تنہا ماتم دار ہونے کی کسر شان سے بچ جاتا۔

دوسرا شعر

چھوڑا نہ رشک نے کہ تیرے گھر کا نام لوں
ہر اک سے پوچھتا ہوں کہ جاؤں کدھر کو میں

شاعر کہتا ہے کہ رشک کے مارے میری یہ حالت ہے کہ تیرے گھر کا پتہ بھی کسی سے نہیں پوچھ سکتا۔مقام رشک یہ ہے کہ کوئی تمہارا نام لے گا تو میرا رقیب بن جائے گا۔ اس لئے میں ہر کسی سے اتنا ہی پوچھتا ہوں کہ میں کدھر جاؤں۔اس طرح معشوق کا پتہ کہاں چلے گا۔مگر رشک کا کیا علاج۔

تیسرا شعر

جانا پڑا رقیب کے در پر ہزار بار
اے کاش جانتا نہ ترے رہگزر کو میں

کیونکہ محبوب زیادہ تر رقیب کے گھر میں رہتا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ مجھے ہزار بار رقیب کے گھر جانا پڑا۔رقیب کے گھر جانا عاشق کے لیے باعثِ ننگ ہے۔اس لئے شاعر کہتا ہے کہ کاش! مجھے تیرے گھر کا پتہ ہی نہ ہوتا تو میں اس ذلت سے بچ جاتا۔

چوتھا شعر

لو وہ بھی کہتے ہیں کہ یہ بے ننگ و نام ہے
یہ جانتا اگر تو لٹاتا نہ گھر کو میں

شاعر کہتا ہے کہ ذرا ملاحظہ فرمائیے کہ جن کے لیے ہم نے اپنا گھر بار سب کچھ لٹا دیا اور برباد ہوگئے وہی فرما رہے ہیں کہ یہ بے ننگ و نام ہے۔اس کے پاس نام و عزت کچھ نہیں ہے۔ اگر ہمیں معلوم ہوتا کہ وہ اس طرح کے طعنے دیں گے تو پھر ہم اپنا گھر نہ لٹاتے اور آج یہ بات نہ سُننا پڑتی۔

پانچواں شعر

چلتا ہوں تھوڑی دور ،ہر اک تیز رُو کے ساتھ
پہنچانتا نہیں ہوں ابھی راہبر کو میں

شاعر کہتا ہے کہ مجھے منزل کا راستہ معلوم نہیں اور آرزو یہ ہے کہ کسی نہ کسی طرح منزل پالوں۔جس شخص کو تیزگام پاتا ہوں،سمجھتا ہوں کہ یہ منزل کا راستہ جانتا ہوگا۔اس لیے اس کی ہمراہ لیتا ہوں۔گویا تلاش منزل میں آوارہ ہو گیا ہوں۔

چھٹا شعر

خواہش کو احمقوں نے پرستش دیا قرار
کیا پُوچھتا ہوں اس بت بیداد گر کو میں

شاعر کہتا ہے کہ خواہش اور پرستش ایک چیز نہیں ہو سکتی۔ اب مجھے محبوب کی خواہش اور آرزو ہے لیکن میں اس کا پجاری نہیں ہوں۔یہ احمق لوگ اس بات کو نہیں سمجھتے جو فرق خواہش اور پرستش میں ہے۔ لہٰذا میری خواہش کو یہ نادان لوگ پرستش قرار دیتے ہیں۔

ساتواں شعر

پھر بے خودی میں بھول گیا راہ کوئے یار
جاتا وگرنہ ایک دن اپنی خبر کو میں

اس شعر میں بیان ہوا ہے کہ میں محبوب کی گلی میں گیا تھا کہ وہاں ایسا بے خود ہو گیا کہ خود کو بھی بھول گیا اور اب تک اسی بے خودی کے عالم میں ہوں۔نہ اپنا ہوش ہے اور نہ اس کے کوچے کا راستہ یاد ہے۔ اگر میرے ہوش و حواس بجا ہوتے مجھے تو ایک دن اس کی گلی میں اپنی خبر لینے ضرور جاتا کہ وہاں مجھ پر کیا گزری تھی۔

آٹھواں شعر

اپنے پہ کر رہا ہوں قیاس اہل دہرکا
سمجھا ہوں دل پذیر، متاعِ ہُنر کو میں

شاعر کہتا ہے کہ میں جیسا خود ہوں ویسا ہی دنیا والوں کو خیال کرتا ہوں۔ یعنی میں ہنر کی دولت کو قدردان سمجھتا ہوں۔لیکن حقیقت برعکس ہے اہل دنیا میری طرح متاع ہنر کو عزیز خیال نہیں کرتے، یعنی اس کی قدر نہیں کرتے۔

نواں شعر

غالب !خُدا کرے کہ سوار سمندر ناز
دیکھوں علی بہادر عالی گہر کو میں

شاعر خود سے مخاطب ہے۔کہتا ہے کہ غالب خُدا کرے عالی ہے گہر عالی میں بہادر قوم سمند ناز پر سوار دیکھوں۔

Advertisements