تم نے کھول رکھے ہیں بے رخی کے دروازے
بن کے سانپ ڈستے ہیں اب گلی کے دروازے
اب زمین لگتی ہے مانگ ایک بیوہ کی
بند ہو گئے شاید چاندنی کے دروازے
جب اندھیری راتوں میں حوصلوں کے پر نکلے
ہر طرف نظر آئے روشنی کے دروازے
اس سے پہلے آنگن کے پانچ پانچ ٹکڑے ہوں
بند کر مرے مولی زندگی کے دروازے
ڈگریاں سند لیکر لوگ ہوگئے بوڑھے
کیوں نظر نہیں آتے نوکری کے دروازے
دشمنی کے ہر تالے کٹ گئے مروت میں
جب سے ہم نے کھولے ہیں دوستی کے دروازے
چاہے اس کے قدموں میں دل کو رکھ دو یا سر کو
عشق نے ہی کھولے ہیں بندگی کے دروازے
خودکشی پہ آمدہ ہو گئے ہیں سب جگنو
کھل گئے چراغوں سے روشنی کے دروازے
غزل دلشاد دل سکندر پوری