مؤکدہ سنتوں کے علاوہ غیر مؤکدہ سنتوں اور نفل نمازوں کا بھی اہتمام کرنا چاہیے۔ بات یہ ہے کہ انسان دنیا میں جو کچھ کرلے گا آخرت میں اسکا پھل پالے گا،آخرت کی تجارت میں نقصان کا کوئی خطرہ ہی نہیں ہے ،اس لیے جہاں تک ممکن ہو نفل نمازوں میں بھی کوتاہی نہ کی جائے۔

حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن بندے کے اعمال میں سب سے پہلے نماز کا حساب ہوگا نماز ٹھیک نکلی تو کامیاب اور بامراد ہوگا اور اگر نماز خراب نکلی تو ثواب سے محروم ہوگا اور نقصان اٹھائے گا،اگر فرضوں میں کچھ کمی نکلی تو اللہ تعالی فرمائے گا دیکھو کیا میرے بندے کی کچھ غیر فرض نمازیں بھی ہیں؟ اگر غیر فرض نماز بھی ہوگی تو ان کے ذریعہ فرض کی کمی پوری کر دی جائے گی۔ پھر دیگر اعمال (روزہ ،زکوۃ وغیرہ) کا حساب بھی اسی طرح ہوگا( یعنی نوافل سے فرائض کی تکمیل کی جائے گی) ۔(مشکوة شریف)

اللہ اکبر! کیا شان ہے اللہ کی عنایت کی کہ فرائض کی کوتاہی کو غیر فرض سے پورا فرما دیں گے۔ اب ہم بندوں کی سمجھداری ہےکہ سنتوں اور نفلوں کو معمولی نہ سمجھیں بلکہ فرض کے آگے پیچھے جو مؤکدہ و غیر مؤکدہ سنتیں اور نوافل ہیں انکا خاص خیال رکھیں یعنی برابر پڑھتے رہیں تاکہ آخرت کے بلند درجات نصیب ہوں اور فرضوں کی کمی بھی پوری ہوسکے۔

نفل اور غیر مؤکدہ سنتوں کو چھوڑنے پر عذاب کی وعید تو نہیں ہے لیکن ان کا نفع بہت زیادہ ہے اس سے محروم ہو جانا بڑی نا سمجھی ہے۔ اسلئے ضرورت اس بات کی ہےکہ ہر شخص اپنی آخرت کی خود فکر کرے، نفل نمازیں جس قدر بھی پڑھے بہتر ہے لیکن چاشت،اشراق اور اوابین، تہجد پڑھنا بھی بہت ہی زیادہ نفع کی چیزیں ہیں۔ ان نمازوں کے فضائل انشاء اللہ تعالی آنے والی فہرست میں بیان کیے جائیں گے۔

عصر سے پہلے چار رکعتوں کی فضیلت

عصر سے پہلے چار رکعات پڑھنے کے بارے میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رحم اللہ امر أصلي قبل العصر اربعا” یعنی اس شخص پر اللہ تعالی رحم فرمائے جو عصر سے پہلے چار رکعت نماز پڑھ لے۔(مشکوہ شریف)

مسئلہ:

مؤکدہ سنت کا درجہ واجب کے قریب ہے انکے چھوڑنے سے گناہ ہوتا ہے۔

مسئلہ:

لمبے سفر میں اگر ریل چھٹ جانے یا بس کے نکل جانے کا اندیشہ ہو یا ریل میں جگہ ملنے کی دشواری ہو تو مؤکدہ سنتوں کو چھوڑنے کی گنجائش ہے مگر فجر کی سنتیں جہاں تک ممکن ہو پڑھ ہی لے۔ اگر کوئی شخص سخت مریض ہو تو وہ بھی مؤکدہ سنتیں چھوڑ سکتا ہے لیکن وتر کبھی نہ چھوڑے کیونکہ وتروں کا درجہ فرضوں کے قریب ہے۔اگر عشاء کی نماز قضا ہو جائے تو فرضوں کے ساتھ وتروں کی قضا بھی لازم ہے۔

مسئلہ:

اگر فجر کی نماز قضا ہو جائے اور سورج نکلنے کے بعد آنکھ کھلے تو سنت اور فرض دونوں کی قضا کریں۔ اگر ظہر کا وقت آگیا اور فجر کی فضا نہیں پڑھی تو اب صرف فجر کے فرضوں کی قضا پڑھیں، سنتوں کی قضا پڑھنے کا وقت گزر گیا۔ *واللہ اعلم*

Advertisements