یومِ مادر یا یومِ پدِر منانا ہماری تہذیب وثقافت کا حصہ ہے ہی نہیں پھر نہ جانے کیوں ہم لوگ مغرب کی اندھی تقلید کرنا اپنا فرضِ عین سمجھتے ہیں۔ہمارے دین نے ہمیں واضح الفاظ میں بتایا ہے کہ جنت ماں کے قدموں کے نیچے ہے اور باپ جنت کا دروازہ ہے۔

ابوالدرداء رضی اللہ سے مروی ہےکہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ باپ جنت کا درمیانی (سب سے بہتر) دروازہ ہے، چاہے تم اس دروازے کو ضائع کر دو ، یا اس کی حفاظت کرو
(سنن ابن ماجہ، کتاب الادب رقم الحدیث ٥٤٣
اس کا مطلب یہ ہے کہ والدین کی اطاعت دخول جنت اور ان کی نافرمانی دخول جہنم کا سبب ہے۔ بقول میاں محمد بخش۔۔

ع ۔۔باپ سِراں دے تاج محمد ماواں ٹھنڈیاں چھاواں

اس ٹھنڈی چھاؤں اور سر کے اس تاج کی ہمیں سال میں ایک دن نہیں بلکہ زندگی بھر ضرورت درپیش ہوتی ہے اور اگر ان کے ساتھ نیک معاملہ کیا تو دنیا اور عاقبت دونوں سنور جائیں گی۔

احادیث کی متبرک کتب میں والدین کے احترام اور اولاد پر ان کے حقوق کا بار ہا ذکر آیا ہے۔اس ضمن میں درجنوں حوالے دیے جا سکتے ہیں مگر میرا مقصد کسی رسالے یا جریدے کے لئے مضمون لکھنا ہر گز نہیں بلکہ سوشل میڈیا کے توسل سے زندگی کے مختلف شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے افراد کے یومِ پدر پر لکھے گئے تاثرات کو پڑھ کر اپنا ردِ عمل پیش کرنے کی کوشش کر رہا ہوں۔ممکن ہے کہ بہت سے لوگ اس تحریر سے متفق نہ بھی ہوں۔

دوسری جانب سناتن دھرم کی مذہبی کتابوں میں تو والدین کو بھگوان کا درجہ دیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ تمہارے والدین تمہارے بھگوان کا رُوپ ہیں۔اور ہندوؤں کے سنسکار میں یہ آتا ہے کہ والدین کی پاؤں چھو کر ملاقات کی جائے یا رخصت لی جائے۔ جو بچہ ایسا نہیں کرتا اسے سنسکاری نہیں مانا جاتا۔والدین کے ساتھ ساتھ گرُو (استاد)کے پاؤں چھونے کا بھی حکم ہے۔اسی طرح سِکھ مت میں بھی والدین کے احترام پر بہت زور دیا گیا ہے۔

سماجیات میں والد کو ہیڈ آف دی فیملی یعنی خاندان یا کنبے کا سربراہ کہا گیا ہے اور اگر سائنسی اعتبار سے دیکھا جائے تو ماں باپ ہی آپ کے اس دنیا میں آنے کا سبب ہیں۔

کہنے کے کا مطلب یہ ہوا کہ جن کے وجود کے بنا آپ کا کوئی وجود ہے ہی نہیں تو پھر آپ نے ان کے لئے سال میں صرف ایک ایک دن کیسےمخصوص کر لیا کہ فلاں دن مادر کا اور فلاں دن پدر کا ہوگا،جس روز ہم سیلفیاں لے کر سوشل میڈیا پر پوسٹ کریں گے کہ ہاں ہمیں اپنی والدہ یا اپنے والد سے بہت زیادہ محبت/عقیدت ہے۔اور ان خواتین کی تصاویر بھی انہی کے لاڈلے سوشل میڈیا پر وائرل کر رہے ہیں جو ووٹر شناختی کارڈ کے لئے بھی تصویر کھنچوانے کے لئے راضی نہ ہوا کرتی تھیں۔

دنیا میں کوئی بھی رشتہ جھوٹا ہو سکتا ہے مگر والدین کا اپنے بچوں کے ساتھ جو رشتہ ہوتا ہے اس میں کسی بھی قسم کی بناوٹ نہیں ہوتی،نہ شک کی گنجائش ہوتی ہے اور خاص کر ماں کا اپنے بچوں کے ساتھ جو رشتہ ہوتا ہے وہ سب سے خالص رشتہ ہےجبکہ بچے کا ماں کے ساتھ جو رشتہ ہوتا ہے وہ بھی اس کا نعم البدل نہیں ہو سکتا ہے۔

مائیں پہلے روز سے ہی بچوں کے لئے قربانیاں دینا شروع کر دیتی ہیں اور سب سے پہلی قربانی وہ ہوتی ہے کہ جب ماں خود بستر کے گیلے حصے پر سرک جاتی ہے تاکہ نومولود بچہ خشک جگہ پر رکھا جاسکے۔کیا مائیں سماج میں یہ چیز بتاتی ہیں یا سوشل میڈیا پر پوسٹ کرتی ہیں کہ سنو دنیا والو! مجھے اپنے بچے سے اس قدر محبت ہے کہ آج میں نے بچے کے لئے یہ کیا یا وہ کیا(ایک ماں جو بھی قربانی اپنے بچے کے لئے دے سکتی ہے)،یا پھر کسی کے والد نے بھی اپنے بچوں کو دستیاب کروائی گئیں سہولیات کا کبھی دکھاوہ کیا ہو۔۔۔۔۔۔؟ نہیں نا!
تو پھر آپ لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ فادر ڈے اور مادر ڈے پر اس قدر اہمتام کرنے کا دستور بنا لیا ہے۔؟

ہم میں سے بہت ساروں کے والدین سوشل میڈیا کا استعمال ہی نہیں کرتے تو پھر بتائیں کہ آپ نے جو فیس بک،انسٹاگرام یا واٹس ایپ پر اسٹیس پوسٹ کیا وہ آپ کے والدین میں سے کسی نے بھی دیکھا ہی نہیں کہ ہمارا لاڈلا یا لاڈلی ہمارے ساتھ محبت یا عقیدت کا اظہار کن لفظوں میں کر رہا ہے تو پھر ایسے پوسٹ لکھنےکے پیچھے منطق کیا ہے؟

والدین سیلفیاں نہیں پوسٹ کروانا چاہتے،وہ انگریزی زبان میں یوم مادر یا یوم پدر کے حوالے سے عیسائیوں یا یہودیوں کے لکھے ہوئے اقوال کا آپ کی فیس بک وال پر کاپی پیسٹ دیکھنے کی فرمائش بھی نہیں کرتے ،انھیں سوشل میڈیا پر تشہیر کی کوئی ضرورت نہیں،وہ اس چیز کی پرواہ بھی نہیں کرتے کہ سوشل میڈیا پر ان کی تصاویر کو کون لائک کرے یا اس پر کون کمنٹ کرے۔وہ آپ کے چہروں پر خوشیاں دیکھنا چاہتے ہیں،وہ آپ کو کامیاب ہوتے ہوئے دیکھنا چاہتے ہیں،انھیں آپ کا وقت چائیے جب آپ حقیقی اور مجازی دونوں طرح سے ان کے ساتھ ہوں،وہ فیس بک پر آپ کا پوسٹ شاید ہی دیکھیں مگر آپ کی فون کالز کا بے صبری سے انتظار کرتے ہیں۔

وہ یہ چاہتے ہیں کہ آپ جو کام کرو ان کے ساتھ مشورہ بھی کر لینا چاہیے،وہ آپ کی زندگی کی خوشیوں اور پریشانیوں کے متعلق جاننا چاہتے ہیں،وہ اپنی تکلیف آپ سے شئیر کرنا چاہتے ہیں ،ان کی آدھی تکلیف تو آپ کو خوش دیکھنے کے بعد ہی دور ہو جاتی ہے اور جب آپ انھیں اپنا وقت بھی دینا شروع کر دیں گے تو ان کی ساری پریشانیاں دور ہو جائیں گی اور پھر آپ ان کے چہروں پر فطری مسکراہٹ بھی دیکھ سکیں گے۔

از تحریراشتیاق احمد مصباح