• اجاڑ بن میں کچھ آثار سے چمن کے ملے
  • دل خراب سے وہ اپنی یاد بن کے ملے
  • ایک شام میں عالم ہے یوسفستان کا
  • پرکھنے والے تو کچھ بوئے پیرہن کے ملے
  • تھی ایک بوئے پریشاں بھی دل کے صحرا میں
  • نشان پا بھی کسی آہوے ختن کے ملے
  • عجیب راز ہے تنہائی دل شاعر
  • کہ خلوتوں میں بھی آثار چمن کے ملے
  • فقیر عشق کو کیا جامہ زیبوں سے غرض
  • یہی بہت ہے اگر چار گز کفن کے ملے
  • کچھ اہل بزم سخن سمجھے کچھ نہیں سمجھے
  • بہ شکل شہرت مبہم صلے سخن کے ملے
  • تھا جرعہ جرعہ نئی زندگی کا اک پیغام
  • جو چند جام کسی بادۂ کہن کے ملے
  • کمندِ فکرِ رسا میں حریف مان گئے
  • وہ پیج و تاب تری زلف پرشکن کے ملے
  • نظر سے مطلعِ انوار ہوگئی ہستی
  • کہ آفتاب ملا مجھ کو اس کرن کے ملے
  • ہر ایک نقش نگاریں ہر ایک نگہت و رنگ
  • لقائے ناز میں جلوے چمن چمن کے ملے
  • مزاج حسن چلو اعتدال پر آیا
  • جو روز روٹھ کے ملتے تھے آج بن کے ملے
  • ارے اسی سے تو جلتے ہیں شاد کام حیات
  • کہ اہل دل کو خزانے غم و محن کے ملے
  • اسی سے عشق کی نیت بھی ہوگئی مشکوک
  • گنوادیے کئی موقعے جو حسن ظن کے ملے
  • ادا میں کھینچتی تھی تصویر کرشن و رادھا کی
  • نگاہ میں کئی افسانے نل و من کے ملے
  • حواس خمسہ پکار اٹھے یک زبان ہوکر
  • کئی ثبوت تری خوبی بدن کے ملے
  • نثار کج کلہی شوخی بہار چمن
  • گر اس ادا سے شگوفوں کو بانکپن کے ملے
  • حیات وہ نگہ شرمگیں جسے بانٹے
  • وہی شراب جو تیری ممژہ سے چھن کے ملے
  • خدا گواہ کہ ہر دور زندگی میں فراقؔ
  • نئے پیام گنہ مجھ کو اہرمن کے ملے
Advertisements