فغاں کے پردے میں سن میری داستاں صیاد
کہ پھر رہے نہ رہے طاقت بیاں صیاد

ترا اشارہ ترا ساز برق سے نہ سہی
تجھے خبرہے کہ جلتا ہے آشیاں صیاد

نہ آ قریب کہ پروردۂ فنا ہوں میں
بنا ہے برق کے تنکوں سے آشیاں صیاد

بس ایک آہ جہاں سوز کے اثر تک ہیں
یہ خار برق قفس دام آسماں صیاد

نکل ہی جائیں گے نالے دہن سے خوں ہوکر
زبان نہیں تو کھلے گی رگ زباں صیاد

ستم رسیدۂ آوازۂ بیاں ہوں میں
قفس میں کھینچ کے لائی میری زبان صیاد

چمن میں دل ہے تو میری نگاہ میں ہے چمن
چمن سے تو مجھے لے جائے گا کہاں صیاد

یہ جذب ذوق اسیری ہے ورنہ اے فانی
کہاں میں سوختہ دل مست پر کہاں صیاد

کیا کہیے کہ بیداد ہے تیری بیداد
طوفان محبت کی زد میں فریاد

دل محشر بے خودی ہے اللہ اللہ
یاد اور کسی بھول جانے والے کی یاد

اللہ یہ بجلیاں نہ کام آئیں گی
آندھی ہی سے کیوں ہو آشیانہ برباد

دنیا جسے کہتا ہے زمانہ فانیؔ
ہے ایک طلسم اجتماع اضداد