Advertisement

میر تقی میر کی غزل گوئی پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

تعارفِ غزل

یہ شعر ہماری درسی کتاب کی غزل سے لیا گیا ہے۔ اس غزل کے شاعر کا نام میر تقی میر ہے۔ یہ غزل ”کلیاتِ میر“ سے ماخوذ کی گئی ہے۔

تعارفِ شاعر

میر تقی میر آگرہ میں پیدا ہوئے۔ آپ کو خدائے سخن کہا جاتا ہے۔ آپ کی غزلوں میں انسانی جذبات ، درد و غم ، خود داری ، توکل ، قناعت پایا جاتا ہے۔ آپ کے علمی سرمائے میں چھ دیوان ، اردو شعرا کا ایک تذکرہ ، متعدد مثنویاں ، مرثیے ، ایک سوانح حیات اور ایک فارسی دیوان شامل ہے۔ میر تقی میر کا سارا کلام کلیاتِ میر کی شکل میں موجود ہے۔

Advertisement
فقیرانہ آئے صَدا کر چلے
میاں خوش رہو ہم دعا کر چلے

اس شعر میں شاعر کہتے ہیں کہ ہم اس دنیا میں ایک فقیر کی حیثیت سے آئے اور اب ہمارے واپس جانے کا وقت ہوچکا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ میاں تم خوش رہو ہم تمھارے لیے دعا کررہے ہیں اور ہمارا تو اب اس دنیا سے جانے کا وقت آچکا ہے۔

Advertisement
جو تجھ بن نہ جینے کو کہتے تھے ہم
سو اس عہد کو اب وفا کر چلے

اس شعر میں شاعر اپنے محبوب سے مخاطب ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم تم سے کہتے تھے کہ ہم تمھارے بغیر اس دنیا میں نہیں رہ سکتے تو اب ہمارے اس وعدے کو وفا کرنے کا وقت آگیا ہے اور اب ہم اس دنیا سے جارہے ہیں تاکہ تم بھی دیکھو کہ ہم تمھارے کتنے وفادار تھے۔

Advertisement
دکھائی دیے یوں کہ بےخود کیا
ہمیں آپ سے بھی جدا کر چلے

اس شعر میں شاعر اپنے محبوب کو مخاطب کر کے کہتے ہیں کہ تم ہمیں جب نظر آتے تھے تب تم ہمیں بےخود کردیتے تھے اور ہمیں تمھیں دیکھنے کے بعد اپنے آپ کا ہوش بھی نہیں رہتا تھا تو کسی اور کا ہوش کیسے رہے گا۔

جبیں سجدہ کرتے ہی کرتے گئی
حقِ بندگی ہم ادا کرچلے

اس شعر میں شاعر کہتے ہیں کہ ہماری پیشانی ہر وقت سجدے میں ہی جھکی رہتی ہے اور ہر وقت بندگی کا حق ادا کرتی رہتی ہے لیکن ہم چاہے ساری عمر بھی سجدے میں گزار دیں تب ہی حقِ بندگی ادا نہیں کرسکتے لیکن ہم اپنی جانب سے یہ حق ادا کرنے کی پوری کوشش کررہے ہیں۔

Advertisement
کہیں کیا جو پوچھےکوئی ہم سے میر
جہاں میں تم آئے تھے ، کیا کر چلے؟

اس شعر میں شاعر خود سے مخاطب ہیں اور کہتے ہیں کہ میر اگر کوئی ہم سے پوچھے کہ تم اس جہاں میں آئے تھے اور اب تم یہاں سے جارہے ہو تو تم نے اس دوران اس دنیا میں کیا کام کیا تو ہم اسے کیا جواب دیں گے۔ ہم نے تو اپنی پوری حیات میں کوئی قابلِ ذکر کام ہی نہیں کیا ہے۔

سوال نمبر 1: درج ذیل سوالات کے جوابات دیجئے۔

سوال: غزل کے مطلعے کی وضاحت کیجیے۔

جواب : غزل اور قصیدے کا پہلا شعر مطلع کہلاتا ہے اور اس کے لیے ضروری ہے کہ شعر کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوں۔

Advertisement

سوال: آپ کو اس غزل کا کون سا شعر زیادہ پسند ہے اور کیوں؟

جواب : مجھے اس غزل کا دوسرا شعر پسند ہے کیونکہ اس شعر میں شاعر اپنی وفا کا ثبوت دے رہا ہے اور لکھتا ہے کہ ہم نے تم سے وعدہ کیا تھا کہ ہم تمھارے بغیر اس دنیا میں نہیں رہیں گے تو اب ہم اس دنیا سے جارہے ہیں۔

سوال نمبر 2 : درج ذیل الفاظ و مرکبات کے معنی لکھیے :

الفاظمعنی
فقیرانہفقیر کی مانند
عہدوعدہ
بےخودمدہوش
جبیںپیشانی
حق بندگیبندگی کا حق

سوال: ساخت کے لحاظ سے غزل اور نظم کا فرق بتائیے۔

جواب : غزل عربی زبان کا لفظ ہے۔ اس کے لغوی معنی عورتوں اور عشق و حسن کی باتیں کرنے کے ہیں۔ غزل کا ہر شعر مکمل مفہوم لیے ہوئے ہوتا ہے اور دوسرے شعر سے الگ ہوتا ہے۔ غزل کے لیے موضوع کی کوئی قید نہیں ہے۔ نظم تسلسل پر مبنی اشعار کے ایسے مجموعے کو کہتے ہیں جس میں ایک مرکزی خیال ہوتا ہے اور نظم کے لیے بھی موضوع کی کوئی قید نہیں ہے۔

Advertisement

سوال نمبر 3 : اس غزل کے مصرعے ذہن میں رکھتے ہوئے کالم (الف) کے الفاظ کالم (ب) سے ملائیے :

کالم (الف)کالم (ب)
دکھائی دیے یوںکہ بے خود کیا
جہاں میں تم آئے تھےکیا کر چلے
فقیرانہ آئےصدا کر چلے
میاں خوش رہوہم دعا کر چلے

سوال نمبر 4 : درست جواب پر (درست) کا نشان لگائیے :

(الف) اس غزل میں لفظ “میاں” استعمال ہوا ہے :

  • (۱) بزرگ کے لیے
  • (۲) شوہر کے لیے
  • (۳) ذات کے لیے ✔
  • (۴) بچوں کے لیے

(ب) میر کے کلام کی نمایاں خصوصیت ہے :

Advertisement
  • (۱) سنجیدگی
  • (۲) درد وغم ✔
  • (۳) مزاح
  • (۴) شگفتگی

(ج) اس غزل میں شاعر نے بات کی ہے :

  • (۱) حق بندگی کی ✔
  • (۲) جبیں کی
  • (۳) دعا کی
  • (۴) وفا کی

(د) کسی ایک چیز کو دوسری چیز کے مانند قرار دینا کہلاتا ہے۔

Advertisement
  • (۱) مبالغہ
  • (۲) کنایہ
  • (۳) تشبیہ ✔
  • (۴) تلمیح

سوال نمبر 5 : نصابی کتاب میں شامل غزلوں کے کوئی دو مطلعے لکھیے جو آپ کو پسند ہو۔

مطلع نمبر ۱
دہن پر ہیں ان کے گماں کیسے کیسے
کلام آتے ہیں درمیاں کیسے کیسے
(خواجہ حیدر علی آتش)

مطلع نمبر ۲
لگتا نہیں ہے جی مرا اجڑے دیار میں
کس کی بنی ہے عالم ناپائدار میں
(بہادر شاہ ظفر)
Advertisement

Advertisement