Advertisement
مانند پارہ تھا خون جب، تو متحد تھا مسلمان
منجمند جب سے ہوا خونِ غیرت تو پارہ پارہ ہے مسلمان

یاد رکھتا ہے قصۂ بہادری قاسم و محمود
عمل بھی تھا کرنا یہ بات بھول بیٹھا ہے مسلمان


انا، خوداری، عزت، غیرت، توکل، تقوی، اور راہِ حق
بیچ بیٹھا ہے ہر جوہر نفس کے آگے ہے مسلمان

اکثر ہی وقت یاد آتا ہے عمر کا تو رلا دیتی ہے شجاعتِ علی
جب دیکھتی ہوں جام شہادت کو موت سمجھتا آج کا ہے مسلمان

کیسے جنم لے گا کسی کوکھ سے دیدہ ور عائشہ
عورت کو دیکھ کر جب یاد کرتا ہے مسلمان
Advertisement

Advertisement

Advertisement

Advertisement
Advertisement