• موت کی آغوش میں جب تھک کے سو جاتی ہے ماں
  • تب کہیں جا کر تھوڑا سکوں پاتی ہے ماں
  • روح کے رشتوں کی یہ گہرائیاں تو دیکھئے
  • چوٹ لگتی ہے ہمارے اور چلاتی ہے ماں
  • پیار کہتے ہیں کسے اور مامتا کیا چیز ہے؟
  • کوئی ان بچوں سے پوچھے جن کی مر جاتی ہے ماں
  • زندگانی کے سفر میں گردشوں کی دھوپ میں
  • جب کوئی سایہ نہیں ملتا تو یاد آتی ہے ماں
  • کب ضرورت ہو مری بچے کو، اتنا سوچ کر
  • جاگتی رہتی ہیں آنکھیں اور سو جاتی ہے ماں
  • بھوک سے مجبور ہو کر مہماں کے سامنے
  • مانگتے ہیں بچے جب روٹی تو شرماتی ہے ماں
  • جب کھلونے کو مچلتا ہے کوئی غربت کا پھول
  • آنسوؤں کے ساز پر بچے کو بہلاتی ہے ماں
  • لوٹ کر واپس سفر سے جب بھی گھر آتے ہیں ہم
  • ڈال کر بانہیں گلے میں سر کو سہلاتی ہے ماں
  • ایسا لگتا ہے جیسے آگئے فردوس میں
  • کھینچ کر بانہوں میں جب سینے سے لپٹاتی ہے ماں
  • دیر ہو جاتی ہے گھر آنے میں اکثر جب کبھی
  • ریت پر مچھلی ہو جیسے ایسے گھبراتی ہے ماں
  • شکر ہو ہی نہیں سکتا کبھی اس کا ادا
  • مرتے مرتے بھی دعا جینے کی دئے جاتی ہے ماں،

میری ماں کے لے دعا فرمائیں،

محمد رضوان ندوی

Advertisements