تعارف

مجنوں گورکھپوری کا اصل نام احمد صدیق تھا اور وہ ۱۰ مئی ۱۹۰۴ء کو گورکھپور میں پیدا ہوئے تھے۔ وہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور جامعہ کراچی سے بطور استاد وابستہ رہے۔ مجنوں گورکھپوری کا شمار اردو کے چند بڑے نقادوں میں ہوتا ہے۔ ان کی تنقیدی کتب میں نقوش و افکار، تنقیدی حاشیے، تاریخ جمالیات، ادب اور زندگی، غالب شخص اور شاعر، اور غزل سرا کے نام سرفہرست ہیں۔

ادبی زندگی

انھوں نے اپنے مضمون ’’مجھے نسبت کہاں سے ہے‘‘ میں اس سلسلے میں خامہ فرسائی کی ہے۔ یہ مضمون پہلے پہل رسالہ نقوش لاہور ۱۹۶۴ کے شخصیات نمبر میں شائع ہوا، بعد ازاں ’ادب اور زندگی‘ میں بھی اسے شامل کر لیا گیا۔ مجنوں گورکھپوری نے شاعری بھی کی اور افسانے بھی لکھے ، لیکن اردو ادب میں ان کی بنیادی پہچان ترقی پسند نقاد کی حیثیت سے نمایاں ہے۔

ان کی تنقید نگاری کے سلسلے میں بہت کچھ لکھا جا چکا ہے لیکن بطور افسانہ نگار وہ ناقدین کی توجہ کم ہی مبذول کرا سکے۔ مجنوں گورکھپوری کے زیادہ تر افسانے ۱۹۲۵ سے ۱۹۳۵ کے درمیان شائع ہوئے۔ جس میں سے بیشتر افسانے انھوں نے ۱۹۲۹ تک لکھ لیے تھے۔ ۱۹۳۵ کے بعد ترقی پسند تحریک کا دور شروع ہوتا ہے۔ ترقی پسند تحریک سے وابستہ ہونے کے بعد مجنوں گورکھپوری نے مضامین اور تنقیدیں تو لکھیں لیکن ان کے افسانے خال خال ہی نظر آتے ہیں۔

ایک تحقیق کے مطابق مجنوں گورکھپوری کے صرف تین افسانوی مجموعے منظر عام پر آئے ہیں۔ ان میں سے پہلے دو مجموعے ’خواب و خیال‘ اور ’سمن پوش‘ کی اشاعت مجنوں گورکھپوری کی نگرانی میں ہی ’ایوان اشاعت‘ گورکھپور سے ہو چکی تھی۔ تیسرا افسانوی مجموعہ ’مجنوں کے افسانے‘ کے عنوان سے ان کے علی گڑھ تشریف لانے کے بعد شائع ہوا۔ یہ مجموعہ چند افسانوں کا انتخاب ہے جسے مجنوں گورکھپوری نے حالی پبلشنگ ہاؤس، دہلی کے روح رواں جناب اظہر عباس صاحب کی خواہش پر کیا تھا۔ انھوں نے اس انتخاب پر جو مقدمہ لکھا تھا اس پر ۵؍ اکتوبر ۱۹۳۵ کی تاریخ درج ہے۔ جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ مجموعہ پہلی مرتبہ ۱۹۳۵ کے آخری مہینوں میں شائع ہوا۔

مجنوں گورکھپوری ایک اچھے افسانہ نگار بھی تھے اور ان کے افسانوں کے مجموعے خواب و خیال، مجنوں کے افسانے، سرنوشت، سوگوار شباب اور گردش کے نام سے اشاعت پذیر ہوئے ہیں۔ مجنوں گورکھپوری نے ’مجنوں کے افسانے‘ میں ’شان نزول‘ کے عنوان سے مقدمہ بھی لکھا ہے۔ مقدمہ میں وہ اپنے افسانوں کے متعلق لکھتے تھے۔
‘‘مجھے ارمان تھا اور میں اس کا اہتمام بھی کر رہا تھا کہ اب میرے جتنے مختصر اور طویل افسانے مختلف رسائل میں منتشر پڑے رہ گئے ہیں، ان کو بڑی تقطیع پر، یکجا کرکے شائع کر دیا جائے۔ یہ کتاب اگر وجود میں آتی تو ۸۰۰ صفحات سے کم ضخیم نہ ہوتی۔ لیکن ضعیف البنیان انسان کا ارادہ ہی کیا؟ سوچتا کچھ ہے اور ہوتا کچھ ہے۔‘‘

مجنوں گورکھپوری کے درج بالا اقتباس سے اندازہ ہوتا ہے کہ انھوں نے مختصر سی مدت میں کتنی کثیر تعداد میں افسانے لکھے ہیں۔ بہرحال ان کے تمام افسانے ابھی رسائل تک ہی محدود ہیں جن کو کتابی صورت میں شائع کرنے کا عمل ابھی باقی ہے۔

تصانیف

ان کی تنقیدی کتب میں نقوش و افکار، نکات مجنوں، تنقیدی حاشیے، تاریخ جمالیات، ادب اور زندگی، غالب شخص اور شاعر، شعر و غزل اور غزل سرا کے نام اہم ہیں۔ وہ ایک اچھے افسانہ نگار بھی تھے اور ان کے افسانوں کے مجموعے خواب و خیال، مجنوں کے افسانے، سرنوشت، سوگوار شباب اور گردش کے نام سے اشاعت پزیر ہوئے۔ وہ انگریزی زبان و ادب پر بھی گہری نظر رکھتے تھے اور انہوں نے شیکسپیئر، ٹالسٹائی، بائیرن، برنارڈشا اور جان ملٹن کی تخلیقات کو بھی اردو میں منتقل کیا تھا۔
آپ کی چند تصانیف درج ذیل ہیں :

  • تین مغربی ڈرامے (ترجمہ)
  • سراب
  • دُوش و فردا (تنقید)
  • سمن پوش اور دوسرے افسانے (افسانے)
  • آغاز ہستی (ترجمہ)
  • مریم مجدلانی (ترجمہ)
  • سالومی (ترجمہ)
  • سرنوشت (ناول)
  • سوگوار شباب (افسانے)
  • شعر و غزل
  • گردش(ناولٹ)
  • غزل سرا
  • خواب و خیال
  • نقوش و افکار (تنقید)
  • نکات ِ مجنوں (تنقید)
  • تنقیدی حاشیے (تنقید)
  • اقبال اجمالی تبصرہ (تنقید)
  • تاریخ ِ جمالیات
  • مجنوں کے افسانے (افسانے)
  • زہر عشق
  • پردیسی کے خطوط
  • غالب شخص اور شاعر (غالبیات)
  • انتخاب دیوان شمس تبریز
  • ادب اور زندگی
  • ارمغان ِ مجنوں

وفات

۴ جون ۱۹۸۸ء کو اردو کے یہ ممتاز نقاد، محقق، ماہر تعلیم، مترجم اور افسانہ نگار کراچی میں وفات پاگئے۔ وہ کراچی میں سخی حسن کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔

Advertisements