Advertisement
مجھ کو اک شمع جو مل جائے تو جل جاؤں گا
ایک قطرے سے سمندر میں بدل جاؤں گا
موت کے ڈر سے ڈرانے کی نہ کوشش کرنا
مجھکو معلوم ہے میں وقت اجل جاؤں گا
سنگ نفرت میں ترے کتنی سکت ہے دکھلا
میں محبت کے بنے شیش محل جاؤں گا
چاہے تو جتنے گرانے کے جتن کر لیکن
میں اگر گر بھی گیا گر کے سنبھل جاؤں گا
اتنا آسان نہیں مجھ کو ڈبونا فیضان
میں وہ قطرہ ہوں سمندر سے نکل جاؤں گا
فیضان رضا
Advertisement

Advertisement