محمد طفیل کا خاکہ "جگر صاحب”

محمد طفیل ایک اچھے مدیر ہونے کے ساتھ ساتھ ایک کامیاب خاکہ نگار بھی تھے ان کے لکھے ہوئے خاکوں کے مجموعے مخدومی، معظم، مکرم، محترم، آپ، جناب اور صاحب کے ناموں سے کتابی صورت میں شائع ہوچکے ہیں۔ ان کی تحریروں کی خوبی صاف گوئی، بے باکی اور بیان کی روانی ہے۔

خلاصہ

جگر صاحب محمد طفیل کی کتاب "صاحب “سے ماخوذ ہے۔ یہ خاکہ لکھنؤ کی گرم دوپہر سے شروع ہوتا ہے اہل لکھنؤ کی طرح نہ دھوپ میں لطافت تھی نہ نزاکت اور دھوپ کے ساتھ لو بھی سونے پر سہاگہ – حالانکہ وہاں کے رہنے والوں کے مطابق ہلکی دھوپ ہوتی جیسے اہل مذاق پیار میں دھوپیہ کہتے ہیں۔

لکھنؤ کی سر زمیں ہی ایسی ہیں کہ وہاں قدم قدم پر شاعر ملیں گے بعض لوگوں کا خیال ہے کہ وہاں سوتے جاگتے میں شعر کہتے اور سنتے بھی ہیں. محمد طفیل شوکت تھانوی کے گھر میں دوپہر کو سو رہے تھے کہ سوتے سوتے انہوں نے شعر سنے؀

اللہ اگر توفیق نہ دے انسان کے بس کا کام نہیں
فیضان محبت عام سہی عرفان محبت عام نہیں

جب طفیل صاحب بیدار ہوئے تو دیکھا کہ شوکت تھانوی کے ساتھ جگر صاحب کمرے میں موجود ہیں جگر صاحب اشعار ترنم سے پڑھ رہے ہیں اتنے میں شوکت صاحب نے آواز دی طفیل جاگ رہے ہو اور جگرصاحب کی طرف اشارہ کرکے کہا آپ انہیں جانتے ہیں؟
جی ہاں اور جگر صاحب سے باقاعدہ اپنا نام بتایا۔

طفیل کہتے ہیں کہ جگر صاحب کے شعری کارنامے امٹ ہیں. جگر صاحب نے خود اپنے ہاتھ سے شعری ادب کی تاریخ میں اپنا نام جلی حروف سے لکھ دیا ہے اور یہ کسی کے مٹائے مٹنے والا نہیں اچھا انسان ہی اچھا شعر کہہ سکتا ہے سچے شاعر کا ماحول سے متاثر ہونا لازمی ہے۔

طفیل صاحب نے جگر صاحب کو جس طرح دیکھا اچھے بھلے انسان تھے جگر صاحب بڑی خوش مذاق ہیں ہر وقت بقراط بنے نہیں بیٹھے رہتے – دوستوں کو دیکھ کر خوش ہو جاتے ہیں باتوں باتوں میں کوئی نہ کوئی فقرہ چپکا دیں گے پھر کھلکھلا کر ہنسیں گے۔ جگر صاحب روزبروز فلسفی” ولی اللہ” بنتے جا رہے ہیں ہر بات کو فلسفیانہ رنگ میں سوچیں گے مذہبی رنگ میں اس پر تبصرہ کریں گے اور اپنی باتوں میں بعض اوقات ایسے ڈوب جاتے ہیں کئی دوسرے کے پلے کچھ نہیں پڑتا ان کی باتیں غزل کے شعر ہوتی ہیں گفتگو میں اضافتوں کا کثرت سے استعمال کرتے ہیں جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ باتیں کسی پڑھے لکھے انسان سے ہو رہی ہیں۔

انہیں اس بات کا بڑا صدمہ ہے کہ لوگ ان کی دعوتیں کرتے ہیں اور پھر قیمت وصول کرنے کے لئے ان سے شعروں کی فرمائش کرتے ہیں اگر ان کی کوئی چیز چوری ہو جائے تو یہ کہتے ہیں کہ ” اگر چور صاحب مجھ سے پوچھ لیتے کہ جگر صاحب مجھے آپ کی فلاں چیز کی ضرورت ہے تو میں چور سے کہتا کہ لے جاؤ۔

جگر صاحب اول تو بہت کم خط لکھتے ہیں ان میں سے ہر ایک خط کا مضمون قریب قریب یکساں ہوتا ہے وہی خلوص، وہی محبت، وہی یگانگی ہر ایک سے ایک سطح پر ملیں گے- خواہ کوئی گورنر جنرل ہو، خواہ معمولی کلرک۔ کسی کے یہاں ملنے جائیں گے تو اس کے بچوں کے لئے مٹھائی کھلونے لے جائیں گے طبیعت میں جماؤ نہیں، ذرا سی خلاف طبیعت بات ہوئی تو سمجھئے شامت آئی۔

جگر صاحب ہر بات میں نفاست پسند ہیں اور بڑے بھول بھلیاں ہیں انہیں کوئی بات یاد نہیں رہتی آپ کا ان کا ہفتوں ساتھ ہو جاتے اتفاق سے درمیان میں دو چار برس ملاقات نہ ہو تو وہ آپ کو بھول جائیں گے. انہوں نے یادداشت کا یہ طریقہ نکالا ہے کہ ایک ڈائری پر لکھتے رہتے ہیں ان کے کھوئے کھوئے رہنے سے کئی لوگ ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں یہ اپنی سیکڑوں چیزیں گم کرتے رہتے ہیں۔

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ جگر صاحب کا بٹوا گم ہو گیا اس میں ہزار بارہ سو روپے تھے یہ بٹوہ گم نہیں ہوا تھا بلکہ تانگے میں ساتھ بیٹھے ہوئے ان کے ایک شناسا نے جیب سے نکالا تھا یہ بات جگر صاحب نے خود بتائیں اور کہا کہ میں نے انہیں بٹوہ چراتے دیکھ لیا تھا اگر اس وقت ان سے کہتا آپ نے میرا بٹوہ چورا لیا ہے تو اس وقت جو اسے پشیمانی ہوتی وہ مجھ سے نہ دیکھی جاتی
جگر صاحب کی شخصیت نے مجھے بے حیثیت انسان کی اتنا متاثر کیا ہے کہ اسے لوگوں کی تعداد انگلیوں پر گنی جاسکتی ہے یہ میری بدقسمتی ہے اور ماحول کی بھی۔۔

سوال و جواب

سوال نمبر 1: خاکہ نگار پہلی مرتبہ جگر صاحب سے کس طرح متعارف ہوا؟

جواب: خاکہ نگار محمد طفیل کی ملاقات جگر صاحب سے پہلی بار لکھنؤ میں ہوئی تھی جب وہ گرمی کے موسم میں لکھنؤ پہنچے وہ شوکت تھانوی کے گھر سو رہے تھے اس وقت جگر صاحب اپنے اشعار ترنم سے پڑھ رہے تھے اس شعر کے ساتھ جو ترنم تھا اس نے آنکھیں کھول دیں اور شوکت صاحب نے آواز دی بھائی طفیل جاگ رہے ہو آؤ تمہیں ایک چیز دکھائیں اور جگر صاحب مسکرا رہے ہیں انہوں نے شوکت تھانوی سے ان کے متعلق پوچھا تو خاکہ نگار نے خود آگے بڑھ کر اپنا تعارف کرایا کی میرا نام محمد طفیل ہے۔

سوال نمبر 2: لکھنؤ کی سرزمین کے متعلق خاکہ نگار نے کیا بات کہی ہے؟

جواب:_ لکھنؤ کی سرزمین کے متعلق خاکہ نگار نے کہا کہ وہاں آپ کو قدم قدم پر شاعری ملیں گے بعض دانشوروں کا خیال ہے کہ وہاں سب سوتے اور جاگتے میں شعر کہتے ہیں اور شعر بھی سنتے ہیں وہاں پہنچ کر مجھ پر بھی یہ اثر ہوا کہ سوتے ہی سوتے شعر سنے۔

سوال نمبر 3 : خاکہ نگار نے کیوں کہا ہے کہ جگر صاحب کی باتیں غزل کے شعر ہوتی ہیں؟

جواب :_جس طرح غزل کے شعر اپنے مفہوم کے اعتبار سے الگ الگ حیثیت رکھتے ہیں اسی طرح جگر صاحب ایک جیسی باتیں نہیں کرتے بلکہ مختلف موضوعات پر لطیف گفتگو کرتے ہیں وہ اپنی باتوں میں اس قدر ڈوب جاتے ہیں کہ دوسرے کے پلے کچھ نہیں پڑتا اگر دوسرے کے پلے کچھ پڑ گیا تو مزا آ گیا جس طرح غزل کے شعر سن کر مزہ آتا ہے۔

سوال نمبر 4 : جگر صاحب کی شخصیت کے کس پہلو سے آپ متاثر ہوئے بیان کیجیے؟

جواب :_جگر صاحب بڑے خوش مذاق ہیں ہر بات میں نفاست پسند ہیں۔اس خاکے میں جگر صاحب کے بٹوہ گم ہونے کا ذکر کیا ہے جگر صاحب کا بیان ہے کہ کل ایک صاحب سے چلتے چلتے ملاقات ہوئی تھی انہوں نے بڑی نیازمندی کا اظہار کیا میں نے سوچا کوئی ملنے والا ہوگا بازار سے کچھ سودا سلف خرید ا پھر تانگے میں بیٹھے اور یہاں آئے۔ راستے میں ان صاحب نے میری جیب سے کچھ نکالا میں نے سوچا مجھے کچھ بدگمانی ہوئی ہے یہ بات نہیں ہو سکتی. جب ٹٹولا تو بٹوہ غائب تھا میں نے اپنا بٹوا ان کے پاس اپنی آنکھوں سے بھی دیکھ لیا لیکن میں نے ان سے کچھ کہا نہیں اگر میں ان سے یہ کہتا کہ میرا بٹوہ آپ نے چرا لیا ہے تو اس وقت جو اسے پشیمانی ہوتی وہ مجھ سے نہ دیکھی جاتی جگر صاحب کی شخصیت کا یہ پہلو بہت متاثر کیا۔