نظم ”چارہ گر “

نظم” چارہ گر“ مخدوم محی الدین کی ایک مشہور زمانہ نظم ہے۔ان کی یہ نظم دراصل محبت کے حسین جذبے کا اظہار کرتی ہے اور محبت کی ازلی پیاس اور چارہ گروں کے عدم تعاون کی شکایت کرتی ہے۔

دو چاہنے والے میکدے سے ذرا دور ایک موٹر پر پیار کی آگ میں جل گئے یعنی منزل تسکین پا نہ سکے اور ان کے وجود اور اور ان کی محبت کا خاتمہ ہوا۔ اگرچہ کہ پیار ان کے لیے وفا کا دوسرا نام تھا اور خدا بھی تھا ان کے لئے یہی پیار، لیکن اسی پیار کے ہاتھوں ان کی موت بھی واقع ہوئی اور یہی پیار ان کی چتا بن گیا۔

دو معصوم اور دھڑکتے دل اوس میں بھیگتے اور چاندنی میں نہاتے تھے۔ ان کا وجود دو تازہ کھلے ہوئے پھولوں کی مانند تھا۔ ان کی موت پر چمن کی تیز اور ٹھنڈی ہوا بھی تھم گئی اور گرم رخساروں پر ایک پل کے لیے رک گئی گویا کہ یہ اس کا نذرانۂ عقیدت ہے۔

زمانے والوں نے انہیں اندھیروں میں، اجالوں میں دیکھا، مسجدوں کے میناروں اور مندروں کے کواڑوں نے بھی دیکھا اور میکدوں کی دراڑوں نے بھی انہیں دیکھا لیکن کوئی ان کے کام نہیں آیا۔

ازل سے ابد تک محبت بد نام اور رسوا رہی ہے۔ شاعر زمانے کے چارہ گروں سے سوال کرتا ہے کہ ان کی زنبیل میں کوئی ایسا نسخہ ہے کہ جس کے استعمال سے آدمی، آدمی سے محبت کرنے لگے؟ محبت ایک ایسا جذبہ ہے جو عطیۂ خداوندی ہے اور اس کا احترام کرنا چاہیے۔

مخدوم کی نظم چارہ گر ایک آزاد رومانی نظم ہے جس میں انہوں نے محبت کے جذبہ عظیم کا اعتراف کیا ہے اور یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ دو چاہنے والوں کا وجود اگر اس دنیا سے مٹ جائے تو کائنات بھی سوگوار ہو جاتی ہے۔ بقول ڈاکٹر راج بہادر گوڈ: ”مخدوم نے اس نظم میں محبت کی تشنگی بتائی ہے۔“

دو چاہنے والوں کی دنیا محبت کے دم سے گلشن بنی ہوئی تھی اور ان کا وجود اوس میں بھیگنے اور چاندنی میں نہ آنے کی وجہ سے بالکل تازہ پھولوں کی مانند تھا اور ان کی بے چین روحوں کو مندروں کے کواڑوں اور مسجدوں کے مناروں نے دیکھا، میکدے کی دراڑوں نے بھی دیکھا، لیکن حیات انسانی اور محبت و خلوص کا ارتقا ہمیشہ چارہ گر کا متلاشی رہا کیونکہ پیار دو چاہنے والوں کے لیے حرف وفا بھی تھا اور خدا بھی تھا اور یہی پیار ان کی چتا کا سبب بھی بنا۔

تنقیدی جائزہ

مخدوم کی نظم ”چارہ گر“ کی یہ خوبی ہے کہ یہ آزاد نظم ہوتے ہوئے بھی پڑھنے والے کے قلب و ذہن پر اثر انداز ہوتی ہے اور زبان و بیان کی دلکشی ’اردو شاعری کی معراج‘ معلوم ہوتی ہے۔

مخدوم کی یہ نظم دنیا کے سبھی انسانوں کے لئے چارہ گری کا تقاضا کرتی ہے اور اپنے والوں کے لیے بھی اور چاندنی میں نہانے والوں کے لیے بھی اور مخدوم خود ہی درحقیقت چارہ گر ہیں۔ ان کی زنبیل میں محبت و الفت کا مداوا ابھرا ہوا تھا۔ ہر چند انہوں نے اس دنیا والوں کی نظروں سے چھپائے رکھا اور خود ہی سوال کر بیٹھے۔

” یہ بتا چارہ گر!
تیری زنبیل میں
نسخہ کیمیائے محبت بھی ہے؟
کچھ علاج مداوائے اُلفت بھی ہے؟

دنیا کو چاہنے والا محبتوں کو سمجھنے والا خود چارہ گر کی تلاش میں نکلے تو یہ ایک عارف کا تجاہل عارفانہ ہوگا۔