Advertisement

مدارس سے "قرآن و حدیث ” پڑھنے والے نہ تو ڈاکٹر بنتے ہیں نہ انجنیئر نہ سائنسدان نہ فوجی نہ پولیس والے ، مدارس میں زندگی کے اتنے سال لگانے والے آخر ایسا کونسا کام کر جاتے ہیں جو انسانیت کیلیے مفید ہو ؟

کسی کی سوشل میڈیا پر پوسٹ دیکھ کر افسوس و حیرت کے ملے جلے جذبات تھے لیکن پھر سمجھ آیا کہ اگر آپ میڈیکل کے تھرڈ ایئر کے اسٹوڈنٹ ہوں اور روزانہ جون ایلیاء بھی پابندی سے پڑھتے ہوں تو دماغی توازن کی حالت یہی ہوگی جو اس پوسٹ کرنے والے کی ہے۔ کوئی اس عقل کے دشمن سے پوچھے کہ بھیا کبھی تم نے میڈیکل کالج کی انتظامیہ سے سوال کیا کہ یہاں سے ڈاکٹر کے علاوہ آج تک نہ تو کوئی انجنیئر بنا نہ ہی وکیل ، نہ ہی فوجی نہ پولیس والا ؟ یا کسی انجنیئرنگ کالج کی انتظامیہ سے ہی سوال کر لیتے کہ آج تک یہاں سے نہ تو کوئی ماہر قانون پیدا ہوئے نہ ہی ڈاکٹر نہ ہی فوجی ، الغرض انجنیرنگ ڈپارٹ کے علاؤہ اور کوئی فرد نہیں ملا تو کیا یہ کالجز کی انتظامیہ اور ان میں پڑھنے والے پاگل ہیں جو کئی کئی سال ان شعبہ جات کو دیتے ہیں ؟

دراصل یہ سوال وہی کر سکتا ہے جو مدارسِ دینیہ کے قیام کے اغراض ومقاصد سے نا واقف ہو اور باطن میں دین بیزاریت کے جذبات بھی موجیں مارتی ہوں ورنہ کوئی جان بوجھ کر اس طرح کا جاہلانہ سوال نہیں کر سکتا۔ اس ایک پیراگراف میں دو سوال ہیں (1) جدید ترقی یافتہ معاشرے کے ضرورت مند افراد ( ڈاکٹرز ، انجنیئرز، سائنسدان وغیرہ) مدارس سے کیوں نہیں مل رہے ؟ (2) مدارس نے انسانیت کی خدمت کیلیے کیا کِیا ؟

دنیاوی شعبہ جات کےلیے مدارس سے فارغ التحصیل ہونے والے افراد اس لیے نہیں ملتے کہ مدارس دینیہ کے قیام کے اغراض ومقاصد موجودہ مروجہ دنیاوی علوم پڑھانہ نہیں ہے اگر مدارس کے قیام کا مقصد فزکس ، کیمسٹری ، بایو اور مئتھ پڑھانا اور ان کی تھیوریز (Theories) پر ایکسپیریمنٹ (Experiment) کرنا مقاصد ہوتے تو سوال کیا جا سکتا ہے۔ جبکہ مدارس دینیہ کے قیام کے اغراض و مقاصد کچھ اور ہیں جیسے کہ ایسے علماء وفضلاء اور اسلام کے داعی تیار کرنا ہے جو کمالِ علم کے ساتھ تقویٰ، ِللہیت اور اخلاص کے زیور سے آراستہ ہوں، جن کا مقصدِ اساسی دین اسلام کی حفاظت، اس کی نشر واشاعت اور امت مسلمہ کی صراط مستقیم کی طرف راہنمائی کرنا۔

معاشرے کی دینی ضرورتوں کو پورا کرنا مثلاً نظریات ، عبادات ، شرعی مسائل ، اسلامی تہذیب کی بقاء ، مغربی الحاد کی یلغار کا دفاع کرنا اور اس معاشرے کی تمام مذھبی حاجات کیلیے نا صرف شہروں بلکہ دیہاتوں تک افراد تیار کرکے فراہم کرنا ، معاشرے کا یہ تمام بوجھ ان مدارس دینیہ نے ہی اپنے ناتواں کندھوں پر اٹھایا ہوا ہے۔

ہاں یہ دیکھا جا سکتا ہے کہ کیا مدارس اپنے ان مقاصد میں کسی حد تک کامیاب ہیں یا نہیں ؟ سو فیصد اگرچہ نہیں ہیں لیکن اطمئنان بخش حد تک ضرور کامیاب ہیں جس کی برہان بین یہی کافی ہے کہ ان ہی کی بدولت آج پاکستان میں شعائرِ اسلام محفوظ ہیں۔

دوسری بات کہ اس معاشرے کے لیے مدارس نے کیا کِیا ہے ؟
# یہ مدارس ہی ہیں جو ملک کے لاکھوں نادار افراد کو نہ صرف تعلیم سے بہرہ ور کرتے ہیں بلکہ ان کی ضروریات مثلاً خوراک، رہائش، علاج، اور کتابوں وغیرہ کی کفالت بھی کرتے ہیں۔

#ان مدراس نے ہزاروں نہیں لاکھوں غریب لوگوں کے روزگار کے اسباب مہیا کیے ہوئے ہیں اس میں صرف پڑھانے والے استاد ہی کے گھر کا چولھا نہیں جلتا ان کے ساتھ ساتھ ان مدارس میں چوکیدار ، طباخ ، منتظمین کئی طرح کے لوگ ہیں جو روزگار مہیا کیا ہوا ہے۔

# یہ مدارس ہی معاشرہ میں بنیادی تعلیم اور خواندگی کے تناسب میں معقول اضافہ کا باعث بنتے ہیں۔

# یہ مدارس ہی عام مسلمانوں کے عقائد، عبادات، اخلاق، اور مذہبی کردار کا تحفظ کرتے ہیں اور دین کے ساتھ ان کا عملی رشتہ قائم رکھے ہوئے ہیں۔

# یہ مدارس ہی اسلام کے خاندانی نظام اور کلچر و ثقافت کی حفاظت کر رہے ہیں، اور غیر اسلامی ثقافت و کلچر کی یلغار کے مقابلہ میں مسلمانوں کے لیے مضبوط حصار کی حیثیت رکھتے ہیں۔

# یہ مدارس ہی اسلامی عقائد و احکام کی اشاعت کرتے ہیں اور ان کے خلاف غیر مسلم حلقوں کی طرف سے کیے جانے والے اعتراضات و شبہات کا جواب دیتے ہیں۔

# یہ مدارس ہی اسلام کی بنیادی تعلیمات اور عقائد و احکام سے انحراف اور بغاوت کا مقابلہ کرتے ہیں اور مسلمانوں کی ’’راسخ العقیدگی‘‘ کا تحفظ کرتے ہیں۔

ڈاکٹر محمد اقبال مرحوم جو مغرب کے جدت پسند معاشرے کو اچھی طرح دیکھ چکے تھے اس کے بعد ان جیسے سر پھرے لوگوں کیلیے ہی ان مدارس کی اہمیت اور ضرورت کے بارے میں فرما گئے کہ ان مکتبوں کو اسی حالت میں رہنے دو، غریب مسلمانوں کے بچوں کو انہیں مدارس میں پڑھنے دو۔ اگر یہ ملا اور درویش نہ رہے تو جانتے ہو کیا ہوگا؟ جو کچھ ہوگا میں انہیں اپنی آنکھوں سے دیکھ آیا ہوں اگر ہندوستانی مسلمان ان مدرسوں کے اثر سے محروم ہوگئے تو بالکل اسی طرح ہوگا جس طرح اندلس میں ہوا۔

Advertisement

مسلمانوں کی آٹھ سو برس کی حکومت کے باوجود آج غرناطہ اور قرطبہ کے کھنڈرات اور الحمراء کے نشانات کے سوا اسلام کے پیروؤں اور اسلامی تہذیب کے آثار کا کوئی نقش نہیں ملتا، ہندوستان میں بھی آگرہ کے تاج محل اور دلی کے لال قلعے کے سوا مسلمانوں کے آٹھ سو سالہ حکومت اور ان کی تہذیب کا کوئی نام و نشان نہیں ملتا۔ اللّہ پاک ان دین کے مراکز کو تا صبحِ قیامت قائم رکھے اور حاسدین کے حسد محفوظ فرمائے۔

تحریرابو عمر غلام مجتبیٰ العطاری المدنی

Advertisement
Advertisement