شاعر : خواجہ میر درد۔

تعارفِ غزل :
یہ شعر ہماری درسی کتاب کی غزل سے لیا گیا ہے۔ اس غزل کے شاعر کا نام خواجہ میر درد ہے۔

تعارفِ شاعر :
خواجہ میر درد ؔ کو اردو میں صوفیانہ شاعری کا امام کہا جاتا ہے۔ دردؔ اور تصوف ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم بن کر رہ گئے ہیں۔ دردؔ کے کلام میں تصوف کے مسائل اور صوفیانہ حسّیت کے حامل اشعار کی کثرت ہے لیکن انہیں محض اک صوفی شاعر کہنا ان کی شاعری کے ساتھ نا انصافی ہے۔ میر تقی میرؔ نے، جو اپنے سوا کم ہی کسی کو خاطر میں لاتے تھے، انہیں ریختہ کا "زور آور” شاعر کہتے ہوئے انہیں "خوش بہار گلستان، سخن” قرار دیا۔

(غزل نمبر ۱)

مدرسہ یا دیر تھا یا کعبہ یا بت خانہ تھا
ہم سبھی مہمان تھے واں تو ہی صاحب خانہ تھا

تشریح :
اس شعر میں شاعر زندگی کی حقیقت کو بیان کررہے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم سب تو یہاں پر بس مہمان تھے اور ہم سب کو اس دنیا سے ایک نہ ایک دن چلے جانا ہے۔ کوئی بھی شخص اس دنیا میں تاقیامت زندہ نہیں رہے گا لیکن اس دنیا کا مالک بس ایک ہی ہے اور وہ اللہ تعالیٰ ہے اور وہ ہمیشہ سے موجود ہے اور ہمیشہ موجود رہے گا۔
________

وائے نادانی کہ وقت مرگ یہ ثابت ہوا
خواب تھا جو کچھ کہ دیکھا جو سنا افسانہ تھا

تشریح : اس شعر میں شاعر اپنی گزری زندگی پر افسردہ ہوتا ہے اور کہتا ہے کہ زندگی جو ایک فانی شے اور خواب کی مانند تھی اور اس کے حالات ایک افسانہ تھے، جس کا اختتام موت ہے اور شاعر افسوس کرتا ہے کہ اس کی موت کا وقت آتا ہی ہے اور اس نے ساری نے زندگی آسائشوں اور رنگیوں میں گم گزار دی اور زندگی میں کبھی کوئی ایسا کام نہیں کیا جس سے وہ آخرت کی زندگی کے لیے پرسکون ہوجاتا۔
________

حیف! کہتے ہیں ہوا گل زار تاراج خزاں
آشنا اپنا بھی واں اک سبزۂ بیگانہ تھا

تشریح :
اس شعر میں شاعر نے استعارہ کا استعمال کیا ہے اور یہ شعر نادر شاہ کے ہاتھ ہونے والی دہلی کی تباہی کا کے بارے میں استعارہ ہے، جہاں حملوں نے اس باغ جیسے شہر کو ویرانے میں بدل دیا تھا۔شاعر کہتے ہیں کے خزاں کے اس موسم نے اس باغ کی بہار چھین لی ہے اور اس باغ میں میرا بھی کوئی تھا۔ وہ بھی لوٹ گیا ہے۔ جہاں سارا باغ اس خزاں کا شکار ہوچکا ہے وہاں میرا وہ عزیز بھی کہاں بچا ہوگا۔
________

ہو گیا مہماں سرائے کثرت موہوم آہ!
وہ دل خالی کہ تیرا خاص خلوت خانہ تھا

تشریح :
اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ میرے جسم میں دھڑکتا یہ خون کا لوتھڑا ایک مہمان خانہ ہے جہاں بہت سے لوگ آئے اور قیام کیا پھر چلے گئے۔ کوئی اس میں مستقل رہ ہی نہ سکا، صرف وہ ایک ذات ہے جس کی محبت نے اول دن اس میں قیام کیا اور اب تک موجود ہے، وہی اس کا مستقل مکین ہے۔ اس شعر میں شاعر نے اللہ ﷻ سے محبت کا ذکر کرتا ہے کہ اللہ کی محبت ازل سے ابد تک اس دل میں رہے گی۔
________

(غزل نمبر ۲)

باغ جہاں کے گل ہیں یا خار ہیں تو ہم ہیں
گر یار ہیں تو ہم ہیں اغیار ہیں تو ہم ہیں

تشریح :
اس شعر میں شاعر نے دنیا کو باغ سے تشبہ دی ہے اور شاعر کہتا ہے کہ جسے باغ میں پھول اور کانٹے ہوتے ہیں۔ ویسے ہی دنیا میں بھی پھول یعنی اچھے لوگ اور کانٹے یعنی برے لوگ بھی موجود ہیں شاعر کہتا ہے کہ اچھے بھی ہم ہیں اور برے بھی ہم ہیں اچھے لوگوں کی اچھائی سے دنیا میں سکون پیدا کرتی ہے اور برے لوگوں کی برائی اس کو تباہ کرتی ہے۔ یہاں کچھ لوگ ہمارے دوست ہیں اور کچھ ہمارے دشمن اس دنیا کے سب رنگ اور ڈھنگ ہم ہی ہیں۔
________

وابستہ ہے ہمیں سے گر جبر ہے و گر قدر
مجبور ہیں تو ہم ہیں مختار ہیں تو ہم ہیں

تشریح :
اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ دنیا میں انسانوں میں کئیں قسمیں ہیں کوئی حاکم ہے، تو کوئی محکوم ہے، کوئی ظالم ہے، تو کوئی مظلوم ہے ، کہیں کوئی جبر میں جی رہا ہے، تو کہیں کوئی خود مختاری کی زندگی جی رہا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ انسان ہی کہیں آقا بن کر ظلم ڈھاتا ہے اور وہ سہنے پر مجبور ہوتے ہیں تو کہیں انسان اتنا خود مختار ہے کہ وہ اپنا ہر فیصلہ خود کرسکتا ہے۔ اس کو کسی کا حکم مانے کی ضرورت نہیں ہوتی یعنی ہر اچھا برا عمل انسان ہی کرتا ہے۔
________

الفاظ خلق ہم بن سب مہملات سے تھے
معنی کی طرح ربط گفتار ہیں تو ہم ہیں

تشریح :
اس شعر میں شاعر کہہ رہے ہیں کہ انسان کے الفاظ اس وقت ہی معنی رکھتے ہیں جب انسان ایک دوسرے کا خیال کرے۔ ورنہ صرف باتیں کرنے سے کوئی انسان بڑا نہیں ہوتا۔ اور صرف باتیں بنانا فضول کام ہے۔
________

تیرا ہی حسن جگ میں ہر چند موجزن ہے
تس پر بھی تشنہ کام دیدار ہیں تو ہم ہیں

تشریح :
اس شعر میں شاعر اللہ سے مخاطب ہوکر کہتا ہے کہ اے اللہْﷻ اس ساری کائنات میں ہر شے سے تیری خوبصورتی نظر آتی ہے اور دنیا کے ہر ذرے ذرے سے اللہ ﷻ کا دیدار ہوتا ہے اور پھر بھی وہ ہماری نظروں سے اوجھل ہے، وہ ہر جگہ موجود ہے، زمین پر، آسمانوں میں، پہاڑوں میں ہر شے میں نظر آتا ہے، مگر پھر بھی اس کے دیدار سے ہم محروم رہتے ہیں۔ اور ہمیں اللہ کے دیدار کی پیاس ہمیشہ رہتی ہے۔
________

اوروں سے تو گرانی یک لخت اٹھ گئی ہے
اے دردؔ اپنے دل کے گر بار ہیں تو ہم ہیں

تشریح :
اس شعر میں جو کہ غزل کا مقطع ہے، شاعر خود سے مخاطب ہوکر کہتا ہے کہ ہم نے زندگی میں جو کچھ سہا ہے، برداشت کیا ہے ہم اس کو فراموش کرچکے ہیں اور اپنے ساتھ ہونے والی تمام زیادتیاں ہم نے یک دم معاف کردی اور عفودرگزر سے کام لیا اور دل پر جو بار ہے یہ اپنے گناہوں کا بوجھ ہے اور اب ہم سے برداشت نہیں ہوتا، ہم نے ساری زندگی گزار دی مگر اپنے اعمال کی طرف ہماری نظر ہی نہ ہوسکی اور گناہ پہ گناہ کرتے چلے گئے اس بار نے ہماری زندگی کا سکون ختم کردیا ہے۔