سوال نمبر 1: مرزا غالب کے حالاتِ زندگی اور خطوط نگاری مختصراً بیان کیجیے۔

غالب کا پورا نام مرزا اسد اللہ خاں تھا۔ نجم الدولہ اور ربیر ملک خطاب تھے۔ مرزا نوشہ کے لقب سے بھی معروف تھے۔ تخلص پہلے اسد استعمال کرتے تھے پھرغالب اختیار کیا۔ ان کے بزرگ مغل بادشاہوں کے آخری دور میں ایران سے ہندوستان آئے۔ والد اور چچا فوج میں ملازم تھے۔ والد کی وفات کے بعد چچا مرزا نصر اللہ بیگ نے ان کی پرورش کی لیکن ان کا انتقال بھی غالب کے بچپن میں ہی ہوا تھا۔

غالب کا ننہال آگرہ میں تھا۔ ان کے لڑکپن کا زمانہ آگرہ میں گزرا۔ ان کی شادی 13 برس کی عمر میں دلی کے ایک معزز خاندان میں ہوئی تھی۔ شادی کے بعد غالب دہلی آ گئے اور یہیں مستقل سکونت اختیار کرلی۔

مرزا اسد اللہ خان غالب اردو ادب کی ان ہستیوں میں سے ہیں جنہیں نظم اور نثردونوں میں غیرمعمولی امتیازحاصل ہے۔ اردو میں نثر کی باقاعدہ ابتدا میر امن سے ہوئی لیکن نئی علمی نثر کی ابتدا کا سہرا غالب کے سر باندھا ہے۔ غالب نے اپنے خطوط میں علمی اور ادبی معلومات پر بہت ہی صاف اور رواں زبان میں اظہار خیال کیا ہے۔

غالب نے 1918 کے آس پاس اردو میں خط لکھنا شروع کیا اور کچھ ہی دنوں میں ان کے طرز تحریر کی دھوم مچ گئی اور ان کے خطوط کے دو مجموعے ان کی زندگی میں شائع ہوئے۔ اس وقت سے لے کر آج تک غالب کے خطوط اردو نثر کے اعلیٰ شاہکاروں کی فہرست میں نمایاں مقام کے حامل ہیں۔ انہوں نے لکھا ہے کہ میں نے مکالمہ کو مراسلہ بنا دیا اور انہوں نے اپنے خطوط میں بالکل بول چال کی زبان لکھی ہے، لیکن یہ حقیقت ہے اتنا سادہ نہیں ہے۔

ہنسی مذاق کی باتیں بھی غالب کے خطوط کا اہم عنصر ہیں۔ لیکن جس طرح وہ ہنسی مذاق کی باتیں کرنے پر قادر ہیں اسی طرح وہ غصہ اور افسوس کا اظہار بھی کرتے ہیں۔ کبھی کبھی اپنے آپ پر ہی ہنستے اور غصہ کرتے ہیں۔کبھی کبھی دوستوں سے ناراض ہوتے ہیں ان کو مناتے ہیں۔ غالب کے خط پڑھ کر آپ کو لگتا ہے کہ آپ نے ان کو دیکھ لیا ہو یہ تمام خصوصیات صرف غالب کے خطوط میں مل سکتی ہیں۔ غالب کے خطوط نگاری کی مثالیں ملاحظہ فرمائیے۔

اہاہاہا !میرے پیارے میرے مہندی آیا۔ او بھائی مزاج تو اچھا ہے ؟ بیٹھو، یہ رامپور ہے،دار السرور ہے۔جو لطف یہاں ہے وہ اور کہاں ہے؟ پانی، سبحان اللہ !شہر سے تین سو قدم پر ایک دریا ہے اورکوسی اس کا نام ہے۔ بے شبہ چشمہ آب حیات کی کوئی سوت اس میں ملی ہے۔ خیر، اگر یوں بھی ہے تو بھائی، آب حیات عمر بڑھاتا ہے ،لیکن اتنا شیرین کہاں ہوگا۔

تمہارا خط پہنچا ،تردد عبث۔ میرا مکان ڈاک گھر کے قریب اور ڈاک منشی میرا دوست ہے، نہ عرف لکھنے کی حاجت، نہ محلے کی حاجت، بے وسواس خط بھیج دیا کیجئے اور جواب لیا کیجئے۔ یہاں کا حال صدر خوب اور صحت مرغوب ہے۔ اس وقت تک مہمان ہوں ،دیکھو کیا ہوتا ہے۔ تعظیم و توقیر میں کوئی دقیقہ فرو گذاشت نہیں ہے۔ لڑکے دونوں میرے ساتھ آئے ہیں۔ اس وقت اس سے زیادہ نہیں لکھ سکتا۔

فروری1860
غالب