Advertisement
مرے غم کی انھیں کس نے خبر کی
گئی کیوں گھر سے باہر بات گھر کی

یہ شعر ناطق گلاؤٹھوی کا ہے۔ یہ غزل کا مطلع ہے، اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ میرے محبوب کو میرے غم کی کس شخص نے خبر کی ہے اور کیوں گھر کی بات گھر سے باہر گئی ہے۔کسی کو میرے دکھ کی خبر نہیں پہنچانی چاہیے تھی۔

گھٹا جاتا ہے دم، رخصت ہوا کون
یہ دنیا گرد ہے کس کے سفر کی

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ میرا دم گھٹا جا رہا ہے، ایک عجیب سی گھٹن محسوس ہو رہی ہے۔کون رخصت ہو گیا ہے، کون اس دار فانی کو خیرآباد کہہ گیا ہے جس کی وجہ سے مجھے اتنی بے چینی ہو رہی ہے۔ویسے بھی یہ دنیا تو ایک دھول کی طرح ہے اور یہ جو دھول یعنی دنیا ہے کس کے سفر کی ہے۔

Advertisement
یہ کیسا کھیل ہے اے چشم پرفن
ادھر کیوں ہو گی دنیا ادھر کی

ناطق گلاؤٹھوی اس شعر میں کہتے ہیں کہ اے چالاکیوں سے بھری ہوئی آنکھ یہ کس طرح کا کھیل ہے۔ ادھر کی دنیا ادھر کیوں ہو رہی ہے، آخر یہ ماجرا کیا ہے، کچھ تو بتا اے چشم پرفن۔

Advertisement
ہنر سکھا زمانہ عیب کا تھا
خطا کی اور ہم نے جان کر کی

شاعر کہتا ہے کہ ہم نے ہنر سیکھا ہے، ہم نے ایسی صلاحیت سیکھی ہے جس سے ہمیں یہ معلوم ہو گیا کہ یہ زمانہ تو صرف برائیوں کا زمانہ ہے اور ہم نے ساری خطائیں جان بوجھ کر کیں تاکہ اس زمانے کا راز کھل جائے۔

Advertisement
بہت رسوا ہوئے بس اے دعا بس
خوشامد اب نہیں ہوتی اثر کی

شاعر اس شعر میں اداسی کے ساتھ کہتا ہے کہ اے دعا اب ہم بہت رسوا اور ذلیل و خوار ہو چکے ہیں۔ اب ہمارے اندر اتنی تاب نہیں کہ ہم دعا مانگیں اور اب ہم دعا قبول ہونے کی امید بھی نہیں رکھتے، ہمارے اندر اب اتنی ہمت نہیں ہے۔

بہت کیوں ہو نہ رسوائی ہماری
یہی تو ہے کمائی عمر بھر کی

شاعر کہتا ہے کہ ہماری بدنامی رسوائی بہت زیادہ کیوں نہ ہوں کیونکہ ہم نے زندگی بھر کیا کیا ہے، یہی تو کمایا ہے ، ہمارے محبوب نے ہمیں صرف بدنام ہی تو کیا ہے۔یہی ہماری پوری زندگی کی کمائی ہے۔

Advertisement
ٹلی ناطق مصیبت ،جان لے کر
ہمیں رخصت کیا اور آپ سر کی

یہ شعر غزل کا مقطع ہے۔ اس میں شاعر نے اپنا تخلص استعمال کیا ہے اور وہ اپنے آپ کو مخاطب کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اے ناطق یہ مصیبت جان لے کر ہی گئی ہے۔ ہمیں تو اس نے جدا کر دیا اور خود کھسک گئی۔

سوچیے اور بتائیے۔

سوال: غزل کے دوسرے شعر میں شاعر کیا کہنا چاہتا ہے؟

جواب: غزل کے دوسرے شعر میں شاعر یہ کہنا چاہتا ہے کہ مرا دم گھٹا جا رہا ہے، عجیب سی بے چینی محسوس ہو رہی ہے۔ کون اس دنیا سے چلا گیا ہے۔ اور پھر دوسرے مصرعے میں یہ کہتا ہے کہ یہ دنیا تو صرف ایک دھول کی مانند ہے، پتہ نہیں کس کے سفر کی دھول ہے۔

Advertisement

سوال: غزل کے چوتھے شعر سے کیا سبق ملتا ہے ؟

جواب: غزل کے چوتھے شعر سے یہ سبق ملتا ہے کہ تم کتنی ہی اچھائیاں کر لو لیکن یہ زمانہ صرف برائی کا ہے۔اچھے انسان کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔

سوال: پانچویں شعر میں کس کی خوشامد کی بات کہی گئی ہے ؟

جواب: پانچویں شعر میں دعا کے اثر ہونے کی خوشامد کی بات کہی گئی ہے۔

Advertisement

سوال: شاعر کے مطابق اس کی عمر بھر کی کمائی کیا ہے؟

جواب: شاعر کے مطابق اس کی عمر بھر کی کمائی صرف رسوائی ہے۔

سوال: غزل میں لفظ ‘جان’ دو شعروں میں استعمال ہوا ہے۔دونوں کے الگ الگ مطلب لکھیے۔

جواب: چوتھے شعر میں جو “جان” لفظ کا استعمال ہوا ہے اس کا مطلب ہے کہ جان بوجھ کر کوئی کام کرنا۔اور آخری شعر میں ”جان“ لفظ کا استعمال جو ہوا ہے، اس کا مطلب ہے مر جانا ،جان لے جانا۔

Advertisement

شعر مکمل کیجے :

بہت رسوا ہوئے بس اے دعا بس
خوشامد اب نہیں ہوتی اثر کی
ہنر سیکھا ،زمانہ عیب کا تھا
خطا کی اور ہم نے جان کرکی
مرے غم کی انھیں کس نے خبر کی
گئی کیوں گھر سے باہر بات گھر کی

نیچے دیے ہوئے لفظوں کی جمع بنائیے۔

مصیبتمصائب
رسوائیرسوائیاں
دعادعائیں
خطاخطائیں
خبراخبار