Advertisement

"باغ و بہار” اور” فسانہ عجائب” اردو کا بیش قیمتی سرمایہ ہیں۔ میر امن کی تصنیف” باغ و بہار” امیر خسرو کے فارسی قصہ چہار درویش کا ترجمہ ہے۔ مگر طرز نگارش کی خوبی سے یہ ترجمہ نہیں لگتا۔ "باغ و بہا” کے 22 سال کے بعد ” فسانہ عجائب” لکھی گئی ہے۔

Advertisement

"فسانہ عجائب "کی زبان مقفٰی و مسجع ہے۔ عبارت میں قافیہ پیمائی ہے۔ فارسیت کا غلبہ ہے۔ تشبیہ و استعارات الفاظ و صرف ونحو ، صناع و بداع سب عربی فارسی طریقے پیش کیے گئے ہیں۔

Advertisement

"باغ و بہار” میں فارسیت کم ہے۔ عبارت نہایت سادہ ، سلیس اور عام فہم زبان میں ہے۔ تشبیہ و استعارات کا استعمال ان کو اردو کے قالب میں ڈھال کر اس طرح پیش کیا ہے کہ اس کی منعارت جاتی رہی۔ یہی صورت الفاظ کی ہے” باغ و بہار” میں اردو فارسی, عربی, اور ہندی کے الفاظ کی بھرمار ہے۔ الفاظ اس طرح استعمال کیے ہیں کہ وہ اردو کے ہو کر رہ گئے ہیں۔ کہیں بھی مشکل الفاظ کو ترجیح نہیں دی گئی ہے۔

Advertisement

"باغ و بہار” کی نثر سادہ سلیس اور رواں ضرور تھی مگر زمانے نے اس سے گریز کیا۔ ساتھ ہی اس کے مخالف اور قدیم نثر کی حمایت کی۔ مقفٰی اور مسجع و رنگین عبارت کو ہی ادبی نصب سمجھا جاتا۔ ” باغ و بہار "کے جواب میں سرور نے ” فسانہ عجائب” کی نثر میں اپنے وقت کے لحاظ سے جواہر پارے میں دکھائے ہیں۔ جن کے سبب اس کی عظمت و وقعت میں آج تک کوئی فرق نہ آیا۔ زبان ضرور دقیق ، مشکل و خشک الفاظ سے بھری ہے مگر ایسی نثر میں ہونا بھی بہت ضروری ہے۔

باغ و بہار کے پلاٹ میں جتنی ہم آہنگی سادہ سلاست اور روانی ہے۔ وہ "فسانہ عجائب” کے پلاٹ میں نہیں۔ دقیق الفاظ سے بھرمار خصوصیات کو کہیں کہیں زائل کر دیا ہے۔ سرور کی طرز نگارش ایک خاص زمانہ تک ہی مقبول رہی۔ اس وقت ایک قطعی متروک ہے۔ یہاں تک کہ قصہ کہانی میں بھی اس طرز کو قطعی ختیار نہیں کیا گیا۔

Advertisement

میر امن کا تعلق دہلی سے اور سرور کا لکھنو سے ہے۔ میرامن کو دہلی کی ٹکسالی زبان پر فخر ہے۔ سرور لکھنو ی زبان کے مد اح ہیں۔

غرض "فسانہ عجائب” میں آوارہ، درد، تکلیف ،مقفیٰ و مسجع عبارت کی مینا کاری ہے۔جب کہ”باغ و بہار” میں سادگی، سلاست اور بے تکلفی روانی اور تسلسل ہے۔اور اسی نثر کی طرز نگارش کو ترقی حاصل ہے۔ جدید اردو نثر کی بنیاد اصل "باغ و بہار "سے پڑتی ہے۔

Advertisement
Advertisement

Advertisement

Advertisement