مکتوب، مراسلہ اور خط مترادف الفاظ ہیں۔ خط لکھنا پیغام رسانی کا اہم ذریعہ رہا ہے۔ یہ انسانی معاشرے کی روزمرہ کی ضرورت میں شامل ہے۔ خطوط میں لکھنے والے کی ضروریات، جذبات و خیالات اور اس کی زندگی کے دیگر مسائل بیان ہوتے ہیں۔ ان سے نہ صرف مکتوب نگار بلکہ مکتوب الیہ کی شخصیت پر بھی ہلکی سی روشنی پڑتی ہے۔ ادبی خطوط کی کوئی مخصوص ساخت اور فنی شرائط مقررنہیں ہیں۔ مکتوب تین اعتبار سے اہمیت رکھتے ہیں:ادبی ،سوانحی ،تاریخی

اد بیت اور انشا پردازی کے سبب خطوط کو صنف کی حیثیت حاصل ہوئی۔ خطوط میں لکھنے والے کی شخصیت جھلکتی ہے۔ خطوط میں مکتوب نگار کا باطن کھل کر سامنے آتا ہے۔ لیکن اشاعت کی غرض سے لکھے جانے والے خطوط میں حقیقی شخصیت پس پردہ رہ جاتی ہے۔

سوانحی نقطہ نظر سے دو خطوط زیادہ اہم ہیں جن میں بے تکلفی ، بے ساختگی اور ذاتی تاثرات کی جھلک ہو۔

تاریخی نقطۂ نظر سے بھی مکتوبات اہمیت رکھتے ہیں۔ مشاہیر کے خطوط میں بعض ایسے اشارے یا تفصیلات ہوتی ہیں جو تاریخ کی کتابوں میں نہیں ملتیں۔ غالب کے خطوط میں – 1857 قبل اور بعد کے بعض ایسے واقعات ہیں جن کا سراغ کہیں اور نہیں ملتا۔

مکتوب نگاری کی روایت

اردو میں ادبی مکتوب نگاری کی روایت غالب سے شروع ہوتی ہے۔ غالب کے خطوط میں ان کی شخصیت اور ان کا عہد پوری طرح جھلکتا ہے۔ غالب کے بعد سرسید احمد، شبلی، اکبر الہ آبادی ، علامہ اقبال ، مہدی افادی اور نیاز فتح پوری کے خطوط اولین اہمیت کے حامل ہیں۔ پریم چند، محمد علی جوہر، احسن مارہروری ،محمد علی ردولوی ، جوش ملیح آبادی ، سجاد ظہیر، عبدالماجد دریا آبادی، ابوالکلام آزاد، رشید احمد صدیقی ، میراجی ، منٹو اور فیض احمد فیض کے خطوط ہمارے مکتوباتی ادب کا قیمتی سرمایہ ہیں۔