Advertisement

غزل

مگر اس کو فریب نرگس مستانہ آتا ہے
الٹتی ہیں صفیں گردش میں جب پیمانہ آتا ہے
خوشی سے اپنی رسوائی گوارا ہو نہیں سکتی
گریباں پھاڑتا ہے تنگ جب دیوانہ آتا ہے
فراق یار میں دل پر نہیں معلوم کیا گزری
جو اشک آنکھوں میں آتا ہے سو بیتابانہ آتا ہے
تماشا گاہ ہستی میں عدم کا دھیان ہے کس کو
کسے اس انجمن میں یاد خلوت خانہ آتا ہے
زیارت ہوگی کعبہ کی یہی تعبیر ہے اس کی
کئی شب سے ہمارے خواب میں بت خانہ آتا ہے
عتاب و لطف جو فرماؤ ہر صورت سے راضی ہیں
شکایت سے نہیں واقف ہمیں شکرانہ آتا ہے
خُدا کا گھر ہے، بُت خانہ ہمارا دل نہیں آتش
مقامِ آشانہ ہے،یاں نہیں بیگانہ آتا ہے

تشریح

پہلا شعر

مگر اس کو فریب نرگس مستانہ آتا ہے
الٹتی ہیں صفیں گردش میں جب پیمانہ آتا ہے

شاعر کہتا ہے کہ شاید اس کی یعنی محبوب کی ہستی بھری نرگسی آنکھوں کو فریب دینا آتا ہے کہ جب وہ پیمانہ یعنی آنکھیں گردش میں آتی ہیں تو صفیں کی صفیں دگرگوں ہوتی جاتی ہیں۔

Advertisement

دوسرا شعر

خوشی سے اپنی رسوائی گوارا ہو نہیں سکتی
گریباں پھاڑتا ہے تنگ جب دیوانہ آتا ہے

شاعر کہتا ہے کہ کس کا جی چاہتا ہے کہ وہ بدنامی مول لے۔ خوشی سے کوئی رُسوائی گوارا نہیں کرتا ہے۔لہذا اگر دیوانہ گربیاں چاک کرتا ہے تو یوں ہی نہیں کرتا ہے بلکہ تنگ آمد بہ جنگ آمد والی بات ہوتی ہے۔وہ سخت تنگ ہونے پر ہی اپنا دامن پھاڑتا ہے۔

Advertisement

تیسرا شعر

فراق یار میں دل پر نہیں معلوم کیا گزری
جو اشک آنکھوں میں آتا ہے سو بیتابانہ آتا ہے

شاعر کہتا ہے کہ محبوب کی جُدائی میں اس دل پر جانے کیا کیا گزر گیا ہے کہ آنکھوں میں جو آنسو آتا ہے بے تابانہ آرہا ہے۔ گویا بہت جلد اور بے قراری کی کیفیت لیے آتا ہے۔

Advertisement

چوتھا شعر

تماشا گاہ ہستی میں عدم کا دھیان ہے کس کو
کسے اس انجمن میں یاد خلوت خانہ آتا ہے

شاعر کہتا ہے کہ کائنات کی اس تماشا گاہ میں کسی کو عاقبت سنوارنے کا خیال نہیں آتا۔ عدم کی طرف دھیان کسی کا نہیں جاتا۔اور کیسے جائے کیونکہ یہ دنیا پررونق انجمن کی طرح ہے اور اس انجمن میں عدم، اُس بے رونق مقامِ تنہا کی یاد کیوں کر آسکتی ہے۔

پانچواں شعر

زیارت ہوگی کعبہ کی یہی تعبیر ہے اس کی
کئی شب سے ہمارے خواب میں بت خانہ آتا ہے

خواب کی تعبیر اکثر اُلٹ ہوتی ہے۔اب شاعر کہتا ہے کہ چوں کہ کئی دِنوں سے ہمارے خواب میں بُت خانہ آرہا ہے لہذا اس کے برعکس تعبیر ہوگی اور ہمیں کعبے کی زیارت نصیب ہوگی۔

Advertisement

چھٹا شعر

عتاب و لطف جو فرماؤ ہر صورت سے راضی ہیں
شکایت سے نہیں واقف ہمیں شکرانہ آتا ہے

شاعر کہتا ہے کہ اے محبوب تم ہم پر قہر کرو کہ کرم کرو،ہمیں منظُور ہوگا۔ہم شکایت نہیں کریں گے کہ ہم شکایت سے واقف ہی نہیں ہیں۔ہم ہر حال میں شکر گزار ہوں گے۔

ساتواں شعر

خُدا کا گھر ہے، بُت خانہ ہمارا دل نہیں آتش
مقامِ آشانہ ہے،یاں نہیں بیگانہ آتا ہے

آتشؔ کہتے ہیں کہ ہمارا دل خُدا کا گھر ہے۔اس میں خُدا مکیں ہے۔اس میں بُتوں کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے۔گویا یہ بُت خانہ نہیں ہے۔یہ اس کے مقام سے واقف ہے۔اس میں کوئی غیر نہیں آ سکتا۔

Advertisement
Advertisement

Advertisement

Advertisement