غزل

ہم نے کس رات نالہ سر نہ کیا
پر اسے آہ ! کچھ اثر نہ کیا
سب کے ہاں تم ہوئے کرم فرما
اس طرف کو کبھو گزر نہ کیا
کتنے بندوں کو جان سے کھویا
کچھ خُدا کا بھی تو نے ڈر نہ کیا
دیکھنے کو رہے ترستے ہم
نہ کیا رحم تو نے، پر نہ کیا
کون سا دل ہے وہ! کہ جس میں آہ!
خانہ آباد تو نے گھر نہ کیا
تجھ سے ظالم کے سامنے آیا
جان کا میں نے کچھ خطر نہ کیا
سب کے جوہر نظر میں آئے دردؔ
بے ہنر ! تو نے کچھ ہنر نہ کیا

تشریح

پہلا شعر

ہم نے کس رات نالہ سر نہ کیا
پر اسے آہ ! کچھ اثر نہ کیا

شاعر کہتا ہے کہ اس محبت میں وہ کون سی رات ہے جو ہمارے لئے عذاب نہیں لائی اور کس رات ہم نے نالے نہیں کیے۔گویا ہر شب میں ہم نے شور و فغاں کیا ہے۔مگر ہمارے محبوب پر اس کا کچھ اثر نہیں ہوا۔

دوسرا شعر

سب کے ہاں تم ہوئے کرم فرما
اس طرف کو کبھو گزر نہ کیا

شاعر محبوب سے مخاطب ہو کر کہتا ہے کہ تم سب پر کرم کرتے ہو ان کے ہاں جاتے ہو لیکن اِدھر سے گویا ہماری طرف سے کبھی بھولے سے بھی گزر نہیں کرتے ہو۔

تیسرا شعر

کتنے بندوں کو جان سے کھویا
کچھ خُدا کا بھی تو نے ڈر نہ کیا

شاعر کہتا ہے کہ کتنے ہی لوگ ہیں جن کو تمہاری بے التفاتی نے جان سے مار ڈالا ہے۔تمہیں کچھ خُدا کا بھی خوف نہیں ہے کہ حشر میں اس کا جواب بھی دینا پڑے گا۔

چوتھا شعر

دیکھنے کو رہے ترستے ہم
نہ کیا رحم تو نے، پر نہ کیا

شاعر کہتا ہے کہ ہمیں تیرے دیدار کی خواہش تھی اور یہ خواہش حسرت بن گئی، کبھی پوری نہیں ہوئی۔ لیکن اے محبوب تم نے کبھی ہماری خواہش کا پاس نہیں کیا اور کبھی ہمیں اپنا جلوہ نہیں دکھایا۔

ساتواں شعر

سب کے جوہر نظر میں آئے دردؔ
بے ہنر ! تو نے کچھ ہنر نہ کیا

مقطع میں شاعر کہتا ہے کہ جو لوگ جوہر رکھتے ہیں, ہنر رکھتے تھے۔ ان سب کے ہُنر روشن دن کی طرح سب پر ظاہر ہیں۔لیکن اے درد تو، بے ہنر تھا اور کوئی جوہر اپنے اندر پیدا نہیں کرسکا۔