غزل

گلیم بخت سیہ سایہ دار رکھتے ہیں
یہی بساط میں ہم خاکسار رکھتے ہیں
ہمیشہ فتح نصیبی ہمیں نصیب رہی
جو کچھ کہ اپجی ہے جی میں، سومار رکھتے ہیں
بلا ہے نشہ دنیا کہ تا قیامت آہ
سب اہل قبر اسی کا خمار رکھتے ہیں
ہمارے پاس ہے کیا؟جو کریں فدا تجھ پر
مگر یہ زندگی مستعار رکھتے ہیں
وہ زندگی کی طرح ایک دم نہیں رہتا
اگرچہ درد اسے ہم ہزار رکھتے ہیں

تشریح

پہلا شعر

گلیم بخت سیہ سایہ دار رکھتے ہیں
یہی بساط میں ہم خاکسار رکھتے ہیں

غزل کے مطلع میں شاعر کہتا ہے کہ کیا بدبختی کا گھنا کمبل ہم پر سایہ کیے رہتا ہے۔گویا ہمیشہ بدبختی کا سایہ ہم پر رہتا ہے اور لے دے کے یہی ایک ہم خاکساروں کے پاس ہے۔

دوسرا شعر

ہمیشہ فتح نصیبی ہمیں نصیب رہی
جو کچھ کہ اپجی ہے جی میں، سومار رکھتے ہیں

شاعر کہتا ہے کہ ہمارے مُقدار کو ہمیشہ فتح نصیب ہوئی ہے کہ جو خواہش بھی ہمارے دل میں پیدا ہوئی ہے ہم نے اسے مار ڈالا ہے۔

تیسرا شعر

بلا ہے نشہ دنیا کہ تا قیامت آہ
سب اہل قبر اسی کا خمار رکھتے ہیں

دنیا کی رنگینیوں کا نشہ بھی بلا کا نشہ ہے۔شاعر کہتا ہے کہ یہ نشہ قیامت تک نہیں اترے گا اور سب اہل قبر اسی خُمار میں قبر میں پڑے رہیں گے۔یہاں شاعر نے صنعتِ حُسن تعلیل سے کام لیا ہے۔مُردوں کو ویسے ہی قیامت تک نہیں اُٹھنا ہے مگر شاعر نے اس کا جواز دُنیا کا نشہ قرار دیا ہے۔

چوتھا شعر

ہمارے پاس ہے کیا؟جو کریں فدا تجھ پر
مگر یہ زندگی مستعار رکھتے ہیں

شاعر کہتا ہے کہ اے محبوب ہم تم پر کچھ نثار کریں تو کیا کریں کہ ہمارے پاس ہے ہی کیا جو تُم پر نثار کریں۔فقط یہ مانگے کی زندگی ہے،گویا یہ بھی ہماری نہیں ہے۔

پانچواں شعر

وہ زندگی کی طرح ایک دم نہیں رہتا
اگرچہ درد اسے ہم ہزار رکھتے ہیں

اے درد،ہم محبوب کو اپنے پاس رکھنے کی کوشش کرتے ہیں مگر وہ زندگی کی طرح ہے جو کہ ہر وقت مُسلسل حرکت میں رہتی ہے،ایک پل کے لئے بھی ہمارے پاس نہیں ٹھہرتی۔

Advertisements