Advertisement

میں نے دیکھا ہے کئی لوگوں کو یوں مرتے ہویے
ہاتھ چھوٹے اور قدم رک سے گئے چلتے ہویے

دیکھ گئی تھی میری آنکھوں میں چھپی چاہت اسے
ایک دم سے موسکرآئ تھی وہ جب لڑتے ہویے

اس کو کیا معلوم کیا ہوتی ہے یہ افسر دگی
اس نے کب دیکھے ہیں آ رے سے شجر کٹتے ہویے

پگڑییو ں کی لاج رکھ کر کہ دیا اس نے قبول
ہاتھ لیکن کپکپاے دستخط کرتے ہویے

خوش گما نی میں گزر جاتا تھا سارا دن
دیکھ لیتی تھی وہ جس دن ایک نظر ہستے ہویے
Advertisement

Advertisement

Advertisement

Advertisement
Advertisement