میں نے دیکھا ہے کئی لوگوں کو یوں مرتے ہویے
ہاتھ چھوٹے اور قدم رک سے گئے چلتے ہویے

دیکھ گئی تھی میری آنکھوں میں چھپی چاہت اسے
ایک دم سے موسکرآئ تھی وہ جب لڑتے ہویے

اس کو کیا معلوم کیا ہوتی ہے یہ افسر دگی
اس نے کب دیکھے ہیں آ رے سے شجر کٹتے ہویے

پگڑییو ں کی لاج رکھ کر کہ دیا اس نے قبول
ہاتھ لیکن کپکپاے دستخط کرتے ہویے

خوش گما نی میں گزر جاتا تھا سارا دن
دیکھ لیتی تھی وہ جس دن ایک نظر ہستے ہویے