Advertisement

سائنس اور ادب کو ہمیشہ سے ایک دوسرے کی ضد مانا جاتا ہےکیوں کہ سائنس اس چیز کو تسلیم کرتی ہے جس کا مشاہدہ اور تجربہ کرتی ہے جبکہ ادب اس شئے پر بھی اعتقاد رکھتا ہے جو اس کی آنکھوں کے سامنے نہیں ہے۔ کوئی سائنس دان صاحب تخیل ہوسکتا ہے لیکن جب ہم سائنس کو بطور علم دیکھتے ہیں تو وہ وجود کو چھو کر دیکھتی ہےاور پھر اسے تسلیم کرتی ہے۔ ادب کسی چیز کو چھوتا نہیں ہے بلکہ اسے محسوس کرلیتاہے۔ مزید آگے بڑھیں تو سائنس دان کسی ادیب اور شاعر کو نہیں مانتے اور نہ ہی ان کے تخیل کے ساتھ ہاتھ ملاتے ہیں۔ بھلی بات کروں تو ادیب اور شاعر بھی سائنس دان سے کنی کتراکر نکل جاتے ہیں۔

Advertisement

افلاطون نے شاعری کو ناپسند کیا اور تخیل کو مکر اور جھوٹ قرار دیا لیکن یہ ایک الگ بحث ہے۔ ضروری نہیں ہے کہ تخیل جھوٹ ہو اور اسے کوئی اکتسابی چیز قرار دے۔ یہ ایک فطری سی چیز معلوم ہوتی ہے جس سے کسی فلسفی اور سائنس دان کا کبھی بھی واسطہ پڑ سکتا ہے۔

Advertisement

راقم نے “میں ۔۔۔۔ ابن آدم” کتاب کے ورق الٹنے شروع کیے تو پھر اسے ایک نشست میں ختم کرنا کچھ ضروری سا لگا۔ اس کے مصنف ذی شان شاہد ہیں جوکہ گورنمنٹ اسلامیہ پوسٹ گریجوایٹ کالج سانگلہ ہل میں بائیولوجی کے پروفیسر ہیں۔ موصوف کا تعلق داتا کی نگری سے ہے اور صاحب علم ہیں۔ سب سے پہلی چیز جو کسی قاری کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہے وہ کسی کہانی، افسانے، ناول یا کتاب کا عنوان ہے۔

مذکورہ کتاب کا عنوان کافی جاندار معلوم پڑتا ہے۔ اور اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ کتاب کے سمندر میں بلا خوف و خطر کود پڑنا چاہئیے۔ جب قاری پہلی چھلانگ لگاتا ہے تو اسے کچھ بکھری ، الجھی، حیران کن اور متجسس کہانیاں ملتی ہیں۔ انہیں ہم افسانہ کہیں یا مختصر کہانی لیکن یہ فلسفے سے بھری پڑی ہیں اور ایک عام قاری ان کے ساتھ چھیڑ چھاڑ نہیں کرسکتا۔

Advertisement

ذی شان کی کہانیاں کچھ غور کرنے کے بعد سمجھ میں آتی ہیں۔ ان کے کرداروں سے آپ کی ملاقات پہلی ہی سہی لیکن پھر بھی سبھی کردار مانوس مانوس سے لگتے ہیں۔ ان کا تعلق سائنس کے شعبہ سے وابستہ تو ہے لیکن انہوں نے سائنسی نقطہ نظر کو بھی ادب میں داخل کرنے کی کوشش کی ہے جس میں وہ کامیاب نطر آتے ہیں۔ سائنس فلسفہ سے نکلا ہوا ایک علم ہے اور اسی بنا پر وہ اپنے اندر فلسفےکو سمیٹے ہوئے ہے۔ یہی فلسفیانہ رنگ ذی شان شاہد کی کہانیوں میں سر اٹھاتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔

فلسفہ لفظی طور پر تو ہمیں عقل و دانش کے دائرے سے باہر نہیں نکلنے دیتا لیکن اصطلاحی طور پر یہ ہر ذی روح کو کون، کب، کیا اور کیسے کی طرف دھکیل دیتا ہے۔ استفہام اور تجسس کسی خاص طبقے کی میراث نہیں ہوتے بلکہ خدا کی عطاء ٹھہرتے ہیں۔ یہی خدا کی عطاء انہیں زمانہ طالب علمی میں نصیب ہوئی ۔ ایک جگہ پر وہ لکھتے ہیں ! ” میں دنیا کو بتاؤں گا کہ وہ ستاروں کی جو صورت تصور کیے بیٹھے ہیں حقیقتاًویسی نہیں ہے۔” گو یاوہ اپنی کہانیوں میں ستاروں کی اصلی صورت سے آگاہ کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ کئی طرح کی معمولی اورعام فہم علامتوں کا استعمال کرنے میں بھی کامیاب رہے ہیں۔ ان کی کہانیاں فکر و فن سے خالی نہیں ہیں بلکہ ایسی کہانیاں آج کے دور میں خال خال ہی نظر آتی ہیں کہ جن میں ہر سو قاری کو فلسفہ ہی فلسفہ نظر آتا ہو۔

Advertisement

بہت جلد وہ افسانے میں ایک الگ پہچان قائم کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ استفہام اور فکر ان کے خمیر میں شامل ہے جس کی بدولت وہ اپنے ہی سوالوں کے جواب ڈھونڈ پانے کے قابل ہو سکتے ہیں۔ ان کے افسانوں میں ہر رنگ موجود ہے۔ آفاقی عنصر نمایاں ہے اور فطرت کی بو سطر بہ سطر رچی ہوئی ہے۔ ان کی کہانیوں میں ایک ذات سے دوسری، تیسری اور پھر چوتھی ذات تک کا سفر بغیر کسی چھڑی اور آسرے کے طے کیا گیا ہے۔

کہانیوں کے علاوہ مذکورہ کتاب “ذی شان” کے اقوال سے بھری ہوئی ہے یہ اقوال بڑے معنی خیز ہیں۔ اقوال زندگی کا نچوڑ اور تجربات سے حاصل ہوتے ہیں۔ اقوال کا تعلق ہمیشہ دانا اور بزرگ لوگوں سے جوڑا جاتا ہے۔ لیکن اس دانائی اور بزرگی کا عمر سے کوئی تعلق اور واسطہ نہیں ہوتا۔ کم عمری کے باوجود بزرگی کی باتیں کرنا ناممکن تو نہیں لیکن ایک مشکل امر ضرور ہے۔ زندگی کے تجربات اور تلخ حقائق آپ کو پری میچورٹی کی طرف لے جاتے ہیں۔ خود آگاہی اور خدا شناسی گویا زندگی کا مقصد ہے اور اسی زندگی کے کچھ کھٹے میٹھے تجربات اور تلخ ترین حقائق آپ کو ایک کم عمر بزرگ بنا دیتے ہیں۔ ذی شان کے اقوال میں موت سے محبت ، قبرستان سے انس، فنا کا سفر، روح کی حقیقت، عقل اور علم کا رشتہ، مذہبی پاگل پن، کوگوں کے دوہرے رویہ جات، خاموشی اور وحشت ، فطرت سے لگاؤ، حب الوطنی، ایجادات، علم و جہل، انکار اور یقین، ذلت اور عزت، تکبر اور احساس کمتری، سائنس اور فلسفہ جیسے حقائق سے پردہ اٹھایا گیا ہے۔ ان کے کچھ اقوال قارئین کے پیش خدمت ہیں!

Advertisement
  • 1۔حقیقت ہمیشہ اپنے ہمراہ ذمہ داری کا احساس لاتی ہے۔ اگر یہ حقیقت تلخ ہو تو اس کو زائل کرنے کا خیال دامن گیر ہوتا ہے اور اگر خوشگوار ہو تو یہ سوچ جنم لیتی ہے کہ اسے زائل ہونے سے بچایا جائے اور یہ دونوں صورتیں احساس ذمہ داری کا تقاضاکرتی ہیں۔
  • 2۔مذہبی پاگل پن کی بھینٹ چڑھنے والا ہر نومولود کلی کے مانند ہے جو اپنی خوشبو کو ایک مقدس احساس کی طرح اپنے سینے میں چھپائے رکھنے کی کوشش کرتی ہے۔
  • 3۔مجھے نفرت ہے ان لوگوں سے جو کچھ نہ ہوتے ہوئے لوگوں کے سامنے دیوتائی روپ میں ظاہر ہوتے ہیں اور شدید نفرت ہے ان لوگوں سے جو دیوتائی اوصاف رکھتے ہوئے عوام کے کسی کام نہیں آتے۔
  • 4۔ نیند کو موت سے تشبیہہ دی جاتی ہے مگر موت نیند سے بہتر ہے۔ نیند میں انسان کے وجود اور حواس پر پردے پڑجاتے ہیں اور موت ان پردوں کو بھی کھول دیتی ہے جو ایک بیدار انسان کے حواس پر مسلط کردیے گئے ہیں۔
  • 5۔ جب انسان اپنی خاموشی سے وحشت زدہ ہوتا ہے تو زبان کھولتا ہے۔
  • 6۔ کسی نظریے کو ذہنوں سے محو کرنا چاہو تو اسے لوگوں میں عام کردو۔
  • 7۔ ہر خوبصورت چیز خود پسندہوتی ہے اور جب وہ خود پسندی کھو دیتی ہے تو فطرت کے حسن کا مظہر بن جاتی ہے۔
تحریرامتیاز احمد
میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ابن آدم 1