Advertisement
  • نظم : گیت
  • شاعر : ناصر بشیر
پاکستانی بچے ہیں ہم، امن سے اتنا پیار ہمیں
اپنے اندر کے دشمن سے لڑنا ہے اس بار ہمیں

تشریح : اس شعر میں شاعر بتارہے ہیں کہ پاکستانی قوم ایک پُرامن قوم ہے اور ہم اپنے اندر کی جنگ لڑ کر خود کو تب تک روکے رکتے ہیں جب تک کوئی ہمارے ملک کو نقصان پہنچانے کی کوشش نہ کرے۔ لیکن جب کبھی کوئی ہمارے ملک میں انتشار پھیلانے کے لیے لڑتا ہے تو پھر ہم اُسے نہیں چھوڑتے۔ شاعر کہتے ہیں کہ پھر چاہے وہ انتشار پھیلانے والے ہم ہی کیوں نہ ہوں۔ اگر ہماری وجہ سے بھی ہمارے ملک کو کوئی نقصان پہنچتا ہے تو ہم خود سے جنگ کرتے ہیں اور اپنے ملک کو پُرامن رکھنے کی ہر ممکن حد تک کوشش کرتے ہیں۔

Advertisement
دریا میں طغیانی ہے، منجدھار میں کشتی ٹھہرے ہے
لیکن ہم نے سوچ لیا ہے، جانا ہے اس پار ہمیں

تشریح : اس شعر میں شاعر کہتے ہیں کہ جب ہم کچھ کرنے کی ٹھان لیتے ہیں تو پھر ہم وہ کام کر کے رہتے ہیں چاہے راستے میں ہمیں کتنی ہی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے۔ اس بات کی مثال شاعر اس شعر میں دے رہے ہیں اور وہ لکھتے ہیں کہ جب ہم سوچ لیتے ہیں کہ ہمیں دریا کے اُس پار جانا ہے تو پھر ہم اُس پار جا کر رہتے ہیں۔ چاہے بیچ دریا میں ظغیانی ہو یا منجدھار پر کشتی رُک جائے۔ ہم اپنے مقصد سے پیچھے نہیں ہٹتے ہیں۔

Advertisement
کلیاں دل کی کھل جائیں گی، باد صبا اٹھلائے گی
فصل بہار ہے آنے والی، دکھتے ہیں آثار ہمیں

تشریح : اس شعر میں شاعر اپنی قوم کے لوگوں کو امید دلا رہے ہیں کہ بہت جلد ہمارے ملک میں مکمل امن پھیل جائے گا۔ وہ کہتے ہیں کہ دل کی کلیاں کھل جائیں گی یعنی کہ لوگوں کے دلوں میں ایک دوسرے کے لیے محبت پیدا ہوجائے گی۔ یہاں کی ہوا میں بھی ایک خوشگوار احساس سرایت کرجائے گا۔ شاعر کہتے ہیں کہ بہت جلد ہمارے ملک میں بہار کی فصل اُگ جائے گی کیونکہ ہمیں اب ایسے ہی آثار نظر آرہے ہیں۔

Advertisement
صحن چمن کی مٹی کو ہم اپنے خون سے سینچیں گے
اس کا اک اک صحرا آخر کرنا ہے گلزار ہمیں

تشریح : اس شعر میں شاعر کہتے ہیں کہ ہم اپنے ملک کی مٹی کو بچانے کے لیے اپنے خون کا آخری قطرہ بھی وقت آنے پر استعمال کرلیں گے لیکن اپنے ملک پر کبھی آنچ نہیں آنے دیں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہم اپنے خون کو پانی کی طرح بہا دیں گے لیکن اس ملک میں امن و سکون کو پھیلا کر اس ملک کے صحرا کو گلزار میں تبدیل کردیں گے۔

ہم آنکھوں میں سپنے لے کر آگے بڑھتے جائیں گے
موت سے ہم کو ڈر نہیں لگتا، جینے سے ہے پیار ہمیں

تشریح : اس شعر میں شاعر کہتے ہیں کہ ہم اپنی آنکھوں میں آگے بڑھنے کے خواب لے کر ان خوابوں کی تکمیل کے لیے کام کرتے رہیں گے اور یہی ہماری زندگی کا مقصد ہے۔ شاعر کہتے ہیں کہ اس مقصد کو پورا کرنے کے لیے ہمیں چاہے جتنی قربانیاں دینی پڑیں ہم دے دیں گے۔ چاہے ہمیں اس مقصد کی خاطر اپنی زندگی کو قربان کرنا پڑے ہم پھر بھی دریغ نہیں کریں گے کیونکہ ہمارے لیے ہمارا ملک اہم ہے۔ ہمیں موت سے ڈر نہیں لگتا بلکہ ہم جینا چاہتے ہیں اور ہمارے لیے جینے کا مطلب یہی ہے کہ اپنے ملک کی خدمت کی جائے۔

Advertisement
منزل پر پہنچیں گے اک دن، وہیں قیام کریں گے
روک نہیں سکتی ہے ناصرؔ کوئی بھی دیوار ہمیں۔

تشریح : اس شعر میں شاعر پُرامید ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم ایک دن اپنی منزل پر پہنچ جائیں گے جس کے لیے ہم اتنی محنت کررہے ہیں اور اتنی قربانیاں دے رہے ہیں۔ شاعر کہتے ہیں کہ اب ہم اپنی منزل پر پہنچنے والے ہیں اور وہاں پہنچنے کے بعد ہم وہیں قیام کریں گے۔ اور ہمیں ایسا کرنے سے اب دنیا کی کوئی طاقت یا کوئی دیوار نہیں روک سکتی ہے۔

Advertisement
Advertisement

Advertisement