غزل

نالہ ہی نکلے ہے گو ہم مدعا کہنے کو ہیں
لب نہیں کھلتے ہیں اب کیا جانے کیا کہنے کو ہیں
دوست کرتے ہیں ملاقات غیر کرتے ہیں گلا
کیا قیامت ہے، مجھی کو سب بُرا کہنے کو ہیں
شکوہ حرف تلخ کا یا شعور بختی کا گلا
ہم جو کہنے کو ہیں سو بے مزہ کہنے کو ہیں
میں گلہ کرتا ہوں جبکہ تو نہ سن غیروں کی بات
ہیں یہی کہنے کو وہ بھی اور کیا کہنے کو ہیں
غیر سے سرگوشیاں کر لیجئے پھر ہم بھی کچھ
آرزو ہائے دل رشک آشنا کہنے کو ہیں
ترجمان التماس شوق ہے تغیر رنگ
جوں زبان شمع عاشق بے صدا کہنے کو ہیں
ہوں گئے نام بتاں سنتے ہی مومن بے قرار
ہم نہ کہتے تھے کہ حضرت پارسا کہنے کو ہیں

تشریح

پہلا شعر

نالہ ہی نکلے ہے گو ہم مدعا کہنے کو ہیں
لب نہیں کھلتے ہیں اب کیا جانے کیا کہنے کو ہیں

شاعر کہتا ہے کہ عشق میں اب ہم اس مقام کو پہنچ گئے ہیں کہ نالہ و آہ کے بغیر دل سے کچھ نکلتا ہی نہیں ہے۔ ہم اپنا مقصد بھی بیان کرنا چاہیں تو کیوں کر کریں کہ صرف آہ نکلتی ہے۔ لب ہی نہیں کھلتے کہ کچھ پتہ چلے کہ کیا کہنا چاہتے ہیں۔

دوسرا شعر

دوست کرتے ہیں ملاقات غیر کرتے ہیں گلا
کیا قیامت ہے، مجھی کو سب بُرا کہنے کو ہیں

شاعر کہتا ہے کہ ہم نے عشق کیا کیا کہ سب ہم سے ناراض ہو گئے۔ دوست ہم سے ملاقات کرتے ہیں، برا بھلا کہتے ہیں تو دشمن شکایت کرتے ہیں۔ بھئ کیا غضب ہے کہ جس کو دیکھو ہمیں کو برا کہہ رہا ہے۔

تیسرا شعر

شکوہ حرف تلخ کا یا شعور بختی کا گلا
ہم جو کہنے کو ہیں سو بے مزہ کہنے کو ہیں

شاعر کہتا ہے کہ ہم چاہے محبوب کی تلخ نوائی کا گلا کریں یا اپنی بدنصیبی کی شکایت کریں۔ ہر دو صورت بے مزہ ہی کہیں گے۔ ہماری کوئی بات بھی گوارا نہیں ہوگی ناگوارا ہی ہوگی۔

چوتھا شعر

میں گلہ کرتا ہوں جبکہ تو نہ سن غیروں کی بات
ہیں یہی کہنے کو وہ بھی اور کیا کہنے کو ہیں

جب میں محبوب سے شکایت کرتا ہوں، کہتا ہوں کہ تو غیروں کی بات پر دھیان مت دے ان کی باتیں مت سنا کر تو وہ مسکرا کر کہہ دیتا ہے یہی تو،کہ تو غیروں کی بات پر دھیان مت دیا کر،ان سُنا کر دیا کر۔

ساتواں شعر

ہوں گئے نام بتاں سنتے ہی مومن بے قرار
ہم نہ کہتے تھے کہ حضرت پارسا کہنے کو ہیں

غزل کے مقطع میں شاعر کہتا ہے کہ مومن کی پارسائی آج اس وقت عیاں ہوگئی جب وہ بُتوں کا نام سنتے ہی بے قرار ہو گئے،تڑپ اٹھے۔ہم تو پہلے ہی کہتے تھے کہ مومن بدمعاش ہے،پرہیز گار نہیں ہے۔وہ محض کہنے کو پارسا ہے۔

Advertisements