‘ناولٹ’ ناول کی ایک چھوٹی شکل ہے۔ جس طرح مختصر افسانے کو طویل افسانے سے الگ کرنے کا کوئی حتمی اصول نہیں ہے اسی طرح ناول اور ناولٹ کے درمیان بھی حد فاصل کھینچنا مشکل ہے۔ قرۃ العین حیدر نے ہاؤسنگ سوسائٹی، دلربا ، اگلے جنم موہے بٹیا نہ کیجیو، چائے کے باغ اور سیتا ہرن کو خود ناولٹ کہا ہے۔ راجندر سنگھ بیدی کے ایک چادر میلی سی کو بھی ناولٹ کہا جا تا ہے۔

ناولٹ میں عام ناولوں جیسی کرداروں کی کثرت یا قصہ در قصہ واقعات کا بیان بالعموم نہیں ہوتا۔ ناولٹ کی پوری کہانی عام طور پر ایک ہی واقعے کے گرد گھومتی ہے اور اس کا زمانی پس منظر بھی بہت وسیع نہیں ہوتا۔لیکن واقعہ یہ ہے کہ اردو میں ناول ہی کا حکم رکھنے والے بہت سے ناولٹ بھی موجود ہیں۔ سجاد ظہیر کا لندن کی ایک رات عصمت چغتائی کا ضدی اور انتظار حسین کا چاند گہن بھی اردو میں ناولٹ کی معروف مثالیں ہیں۔