• اردو کی ادبی اصناف (ثانوی و اعلیٰ جماعت کے لیے)
  • سبق نمبر02:نثری اصناف

ناول کی تعریف

نثری اصناف میں ناول اس وقت دنیا کی مقبول ترین اصناف میں سے ایک ہے۔مغرب میں ناول نگاری کی ابتدا کو صنعتی انقلاب سے جوڑ کر دیکھا جاتا ہے۔ انیسویں صدی سے اردو میں ناول کے لیے راہیں ہموار ہونے کا سلسلہ شروع ہوا۔

ناول کی کوئی ایک مکمل اور جامع تعریف ممکن نہیں۔ مختلف ناقدوں اور ادیبوں نے ناول کی الگ الگ تعریفیں کی ہیں۔ کسی کے نزدیک ناول کا کوئی ایک پہلو زیادہ اہم ہے تو کسی کے نزدیک دوسرا پہلو۔ناول ایک طویل کہانی ہے جس میں عام زندگی کے حالات و واقعات اور مسائل و معاملات کو تفصیل کے ساتھ پیش کیا جا تا ہے۔ ناول میں کسی شخص ، سماج، تہذیب یا عہد کی زندگی پیش کی جاتی ہے۔ افراد اور سماج کے مابین ہونے والے اشتراک اور کشمکش ناول کا موضوع بنتے ہیں اس کے لیے ناول نگار اپنے زمانے کو پیش کر سکتا ہے اور ضرورت پڑنے پر ماضی کو بھی بنیاد بنا سکتا ہے۔ وہ اپنے تخیل سے مستقبل کا بھی کوئی خواب بن سکتا ہے۔

ناول کے اجزائے ترکیبی

روایتی ناول کے اجزائے ترکیبی یہ ہیں : پلاٹ، کردار، منظر اور مرکزی خیال۔

پلاٹ:

واقعات کی ترتیب کا نام پلاٹ ہے۔ پلاٹ واقعے یا واقعات کے آغاز ، وسط اور انجام سے تشکیل پاتا ہے۔ عام طور سے واقعات کی ترتیب اسباب وعوامل کے اصول پر کی جاتی ہے یعنی ایک واقعہ ہوا، پھر اس کے نتیجے میں دوسرا واقعہ رونما ہوا۔ بعض ناولوں میں زمانی ترتیب سے واقعات کو پیش کر دیا جاتا ہے۔ ایک صورت یہ بھی ہے کہ واقعات کی ترتیب ایسی ہو کہ اس سے کوئی مخصوص تاثر ابھارا جا سکے۔

پلاٹ کی خوبصورتی کا دارومدار واقعات کے ہنر مندانہ انتخاب اور ترتیب پر ہے۔ ناول نگار کو یہ شعور ہونا چاہیے کہ کون سے واقعات اور تجربات ناول کی کہانی کو زیادہ سے زیادہ مؤثر اور دلچسپ بناتے ہیں۔ وہ ان واقعات و تجربات کے بیان سے اجتناب کرتا ہے جن سے پلاٹ کی دلکشی اور روانی میں رکاوٹ پیدا ہو۔ عمدہ اور مربوط پلاٹ ناول کی کامیابی میں نمایاں کردار ادا کرتا ہے۔

کردار:

ناول میں کردار کے ذریعے واقعات پیش کیے جاتے ہیں۔ وہ کردار جاندار اور زندہ کہلاتے ہیں جو سماجی صورت حال کے مطابق ہونے کے باوجود وقت کے ساتھ تبدیلی سے بھی گزرتے ہیں۔ اس طرح کے کردار اپنی انفرادی ، خاندانی اور سماجی زندگی کی بہتر عکاسی کرتے ہیں۔ ایک اچھا ناول نگار کردار کی نفسیات ، انداز فکر، عادات واطوار، زبان و بیان اور جذبات و احساسات کو اس طرح پیش کرتا ہے کہ وہ کردار جیتے جاگتے انسان کا روپ لے لیتا ہے۔

ناول کے بعض کردار ایسے ہوتے ہیں جو ناول کے پورے واقعے میں ہمیشہ یکساں رہتے ہیں اور بدلتے نہیں۔ ایسے کردار عام طور سے کمزور یا سپاٹ کہلاتے ہیں۔ ان میں اگر مزاح اور بذلہ سنجی کے عناصر ہوں تو پھر یہ کمی کھٹکتی نہیں ہے۔ جن کرداروں کی شخصیت کے زیادہ سے زیادہ پہلو ناول میں ابھرتے ہیں ، وہ زیادہ پسند کیے جاتے ہیں۔

منظر و ماحول:

منظر سے مراد وہ ماحول ہے جس میں ناول کے کردار عمل سے گزرتے ہیں اور واقعات رونما ہوتے ہیں۔ یہ ماحول جغرافیائی بھی ہو سکتا ہے اور تہذیبی ، سماجی یا خاندانی بھی۔ ماحول کو پیش کرنا ایک دشوار کام ہے۔ ماحول کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ فطری معلوم ہو۔ قدرتی مناظر کی عکاسی ایسی ہونی چاہیے کہ قاری پر واقعات اور کردار کی کیفیت اجا گر ہو جائے۔

مرکزی خیال:

مرکزی خیال سے مراد وہ تجربہ مجموعی تاثر یا بصیرت ہے جو ناول پڑھنے کے بعد قاری اخذ کرتا ہے۔ ایک ناول میں ایک سے زیادہ مرکزی خیال ہو سکتے ہیں۔ شرط یہ ہے کہ وہ سبھی آپس میں مربوط ہوں اور ایک نقش دوسرے کو دھندلائے بھی نہیں۔ ہر قاری اپنے تجربے اور ترجیحات کے تناظر میں ناول سے الگ الگ مرکزی خیال برآمد کر سکتا ہے۔ قاری کسی خیال سے متفق ہوسکتا ہے یا اس سے اختلاف کر سکتا ہے۔

ناول کے اجزائے ترکیبی سے یہ نتیجہ اخذ نہیں کرنا چاہیے کہ ہر ناول میں ان کی یہی صورت قائم رہتی ہے۔ بعض ناولوں میں پلاٹ کی اہمیت کم ہوسکتی ہے اور کردار اور ماحول زیادہ مؤثر ہو سکتے ہیں۔ کسی میں واقعے کی اہمیت ہوتی ہے اور کوئی صرف کردار کی بنا پر ایک کامیاب ناول بن جاتا ہے۔ ناول کی کامیابی کا اصل بیانیہ یہ ہے کہ وہ زندگی کی پیش کش میں کامیاب ہے کہ نہیں۔ اس میں جو تجربات بیان کیے گئے ہیں ان کی نوعیت کیا ہے۔ ان سے قاری کی بصیرت میں اضافہ ہوتا ہے یا نہیں۔

اردو میں ناول کی روایت:

اردو میں ناول نگاری کا سلسلہ انیسویں صدی کے نصف آخر سے شروع ہوتا ہے۔ ڈپٹی نذیر احمد کے ناول ‘مراۃ العروس کو اردو کا پہلا ناول مانا جاتا ہے۔ ‘مرأۃ العروس کے علاوہ توبۃ النصوح، ابن الوقت وغیرہ میں اصلاحی ، اخلاقی اور مذہبی پہلو نمایاں ہیں۔ اسی زمانے میں شرر نے کئی نیم تاریخی اور رومانی ناول لکھے۔ ان کے ناول فردوس بریں اور منصور ومو ہنا کو کافی شہرت ملی۔ رتن ناتھ سرشار کا ‘فسانۂ آزاد بھی اسی دور میں لکھا گیا۔

فنی اعتبار سے اردو کا پہلا مکمل ناول امراؤ جان ادا ہے جسے مرزا محمد ہادی رسوا نے لکھا۔ اس ناول میں حقیقت نگاری کا رنگ گہرا ہے۔ رسوا نے عام انسانوں کو اپنے ناول کا کردار بنا کر ان کی اہمیت اور معنویت کا احساس دلایا۔ ان کے دیگر ناول ‘ شریف زادہ اور ذات شریف ہیں۔

ناول نگاری کے میدان میں پریم چند ایک بڑا نام ہے۔ انھوں نے موضوعات اور اسالیب کی سطح پر کئی کارہائے نمایاں انجام دیے۔ ان کے ناولوں میں دیہاتی زندگی کی حقیقی تصویریں نظر آتی ہیں۔ گودان ان کا شاہکار ناول ہے۔ بازار حسن ، چوگان ہستی ، گوشہ عافیت ، میدان عمل ، نرملا وغیرہ کا شمار ان کے اہم ناولوں میں کیا جا تا ہے۔ پریم چند کے بعد اردو میں ناول نگاری پر خصوصی توجہ دی جانے لگی اور ناول نگاری کے نئے دور کا آغاز ہوا۔ اردو کے بعض اہم ناول نگار اور ان کے مشہور ناولوں کے نام درج ذیل ہیں:

کرشن چندر ( شکست )، عزیز احمد ( اپنی بلندی ایسی بستی ) ، قرۃ العین حیدر ( آگ کا دریا )، شوکت صدیقی ( خدا کی بستی ) ، عبداللہ حسین ( اداس نسلیں )، حیات اللہ انصاری (لہو کے پھول ) جمیلہ ہاشمی ( تلاش بہاراں )، عصمت چغتائی ( ٹیڑھی لکیر ، ممتاز مفتی (علی پور کا ایلی ) ، خدیجہ مستور ( آنگن )، انتظار حسین ( بستی )، قاضی عبدالستار (دارالشکوہ) ، جیلانی بانو (ایوان غزل )، جوگندر پال ( نادید )، الیاس احمد گدی ( فائر ایریا ) اور عبدالصمد ( دو گز زمین )۔

ناولٹ کی تعریف

‘ناولٹ’ ناول کی ایک چھوٹی شکل ہے۔ جس طرح مختصر افسانے کو طویل افسانے سے الگ کرنے کا کوئی حتمی اصول نہیں ہے اسی طرح ناول اور ناولٹ کے درمیان بھی حد فاصل کھینچنا مشکل ہے۔ قرۃ العین حیدر نے ہاؤسنگ سوسائٹی، دلربا ، اگلے جنم موہے بٹیا نہ کیجیو، چائے کے باغ اور سیتا ہرن کو خود ناولٹ کہا ہے۔ راجندر سنگھ بیدی کے ایک چادر میلی سی کو بھی ناولٹ کہا جا تا ہے۔

ناولٹ میں عام ناولوں جیسی کرداروں کی کثرت یا قصہ در قصہ واقعات کا بیان بالعموم نہیں ہوتا۔ ناولٹ کی پوری کہانی عام طور پر ایک ہی واقعے کے گرد گھومتی ہے اور اس کا زمانی پس منظر بھی بہت وسیع نہیں ہوتا۔لیکن واقعہ یہ ہے کہ اردو میں ناول ہی کا حکم رکھنے والے بہت سے ناولٹ بھی موجود ہیں۔ سجاد ظہیر کا لندن کی ایک رات عصمت چغتائی کا ضدی اور انتظار حسین کا چاند گہن بھی اردو میں ناولٹ کی معروف مثالیں ہیں۔